سرکاری اور پرائیویٹ حج کا فرق، کیا کیا اور کہاں کہاں ہے؟

سرکاری اور پرائیویٹ حج کا فرق، کیا کیا اور کہاں کہاں ہے؟
سرکاری اور پرائیویٹ حج کا فرق، کیا کیا اور کہاں کہاں ہے؟
کیپشن: mian ashfaq anjum

  

پاکستان کے قیام سے2005ءتک مختلف انداز میں سرکاری حج سکیم کے تحت ہی فریضہ حج کی ادائیگی ہوتی آ رہی تھی۔ سرکاری حج سکیم میں سپانسر شپ سکیم کا خاصا عمل دخل رہا، بیرون ملک مقیم افراد عزیز و اقارب کا حج سپانسر کرتے اور اس سکیم کے تحت پاکستان کو زرمبادلہ بھی مل جاتا اور حج کی سعادت بھی حاصل ہو جاتی، پھر وزارت مذہبی امور نے گرین وائٹ، بلیو کیٹگری متعارف کرائی، یہ بھی سرکاری حج سکیم کی اقسام ہیں یہ صرف پیکیج کی رقم کا فرق نہیں ہوتا تھا، بلکہ کیٹگری بنانے کی تعریف عمارتوں کے حرم سے فاصلے سے منسلک تھی۔

2004ءتک سرکاری حج سکیم ہی مختلف انداز میں پاکستان میں رائج رہی ہے۔1990ءسے پہلے حج کرنے والے،1995ءتک حج کرنے والے اور 2000ءتک حج کی سعادت حاصل کرنے والے اگر 2013ءمیں فریضہ حج کی سعادت کے لئے حجاز مقدس گئے ہیں تو انہیں ہر مرحلے پر زمین آسمان کا فرق نظرآتا ہے منیٰ عرفات مزدلفہ میں جن چیزوں کا تصور نہیںکیا جا سکتا تھا، خواب قرار دی جاتی تھیں اس وقت وہ سہولیات موجود ہیں۔1990ءتک خواب تھا2005ءتک وہ خواب کی تعبیر کی صورت میں موجود ہیں، نہ ممکن کیسے ممکن ہو گیا، اس کے پیچھے ایک تھیوری ہے جس پر بات کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا۔ سرکاری حج 2014ءمیں اگر سستا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں پرائیویٹ حج سکیم کو مہنگا قرار دے کر مختلف انداز میں پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم میں فرق کیا ہے، کیا پرائیویٹ سکیم کے تحت حج آرگنائزر مرضی کی سہولیات فراہم کر کے مرضی کا پیکیج فروخت کر کے واقعی ظلم کر رہے ہیں یا سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم کا کسی سطح پر کوئی مقابلہ ہے؟ اس پر بات کرنی ہے۔ سرکاری سکیم کی بات کریں تو اس میں شروع دن سے حج کی سعادت حاصل کرنے والے مرد و خواتین کی عمریں اوسطً 60سے 80سال کے درمیان پائی جاتی تھیں۔ سرکاری حج سکیم کا فلسفہ پنجاب سمیت پورے ملک میں یہ پایا جاتا تھا کہ اماں، ابا دنیاوی کام سرکاری ملازمت سے فراغت، بچوں کی شادی، گھر بنانے کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں تو بچے فیصلہ دیتے تھے ابا اماں اب حج پر جائیں گے۔

سرکاری حج سکیم میں درخواست بذریعہ بنک یا حاجی کیمپ جمع ہو کر کامیاب قرار پاتی تھی اور بحری جہاز کے ذریعے، ہوائی جہاز کے ذریعے یا زمینی ذرائع کے ذریعے فریضہ حج کا طریقہ رائج رہا ہے۔ حج2000ءتک کتنا مشکل تھا اگر کوئی بزرگ 1990ءیا اس سے پہلے حج کی سعادت حاصل کر کے آیا ہو تو اس سے روداد سنی جا سکتی ہے۔ بحری جہاز کے ذریعے تین تین، چار چار ماہ اور جدہ، مکہ، مدینہ، منیٰ، عرفات، مزدلفہ خواری پیدل سفر، بھوکے رہناسمیت ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ آج شاید وہ تصوراتی باتیں ہوں۔ سرکاری حج سکیم سے بڑے بزرگ سب واقف ہیں۔ 2000ءسے پہلے کے سرکاری حج کی خواری اور آزمائشوں سے بھی سب واقف ہیں۔

2000ءکے بعد سعودی حکومت کی وزارت حج نے خادم حرمین شریفین کی خصوصی دلچسپی کے بعد سہولیات کی فراہمی کا آغاز کیا۔ پوری دنیا کی طرح سرکاری حج سکیم کے بعد پرائیویٹ حج سکیم کا دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں آغاز بھی اسی کی کڑی ہے۔ پرائیویٹ حج سکیم کا فلسفہ جو شروع دن سے سامنے آیا وہ تھا کہ ”مرضی کا پیکیج مرضی کی سہولیات کے ساتھ“۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پرائیویٹ حج سکیم صرف پاکستان میں شروع نہیں ہوئی تھی دیگر ممالک کے بعد ہمارے ملک میں اس کا آغاز ہوا اور پھر اس سکیم کے اثرات کس انداز میں مرتب ہوئے، سب سے پہلے تو نوجوان نسل کو ترغیب ملی۔ ان میں جذبہ پیدا ہوا وہ بھی حج کر سکتے ہیں۔ پہلے تاثر پایا جاتا تھا حج تو صرف بزرگ کرتے ہیں اور حج زندگی میں ایک بار فرض ہے اور وہ بھی صاحب استطاعت پر، بزرگ جب دنیاوی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہو جاتے ہیں۔ وہ سارے خاندان کی طرف سے فریضہ حج ادا کر لیتے ہیں۔ حج ایک مشکل کام ہے کئی ماہ درکار ہوتے ہیں، نوجوانوں اور بچوں کا کام نہیں ہے۔ 2005ءمیں جب پاکستان میں اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنے والے چند افراد تھے جو مخصوص انداز میں رہنمائی اور خدمت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ سعودی حکومت نے پاکستانی وزارتِ حج کو باقاعدہ مراسلہ دیا کہ پاکستان اپنی وزارت کے تحت پرائیویٹ حج سکیم متعارف کرائے جس میں ہر عمر کے بچے، بوڑھے، نوجوان مرد خواتین حج کی سعادت حاصل کر سکیں۔ وزارت حج کروانے والوں کو رجسٹرڈ کرنے کا سلسلہ شروع کرے اور وزارتِ حج پاکستان جن افراد کو رجسٹر کر کے انرول کرے گی سعودی حکومت بھی اُن کو رجسٹر کر کے منظم کارڈ جاری کر کے حجاج کی خدمت کی اتھارٹی دے گی۔ وزارتِ حج سعودیہ کے زیر نگرانی مرضی کے دن، مرضی کا پیکیج، مرضی کی سہولیات سے استفادہ کر سکے گا۔ 2005ءسے 2013ءتک سعودیہ میں اگر حرمین شریفین، منیٰ ، عرفات، مزدلفہ میں سہولیات کی فراہمی کا انقلاب آیا ہے تو اس میں خادم حرمین شریفین کی زیر سرپرستی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں شروع ہونے والی پرائیویٹ حج سکیم کا بھی بڑا عمل دخل ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس سکیم کے آغاز سے ہی سرکاری حج سکیم کے نام پر مکہ مدینہ اور پاکستان میں اثر انداز ہونے والے مافیا نے نہ صرف بُرا منایا، بلکہ مختلف انداز میں ناکام کرنے کے در پے بھی رہے اور اب تک مختلف انداز میں پرائیویٹ سکیم کے خلاف سازشوں میں بھی مصروف ہیں اور دوسری طرف پرائیویٹ حج سکیم کا حصہ بننے کے لئے حج کوٹہ کے حصول کے لئے بھی تن من دھن داﺅ پر لگائے ہوئے ہیں دو عملی کہاں ہے؟ دوہرا معیار یہ لوگ کیوں اپنائے ہوئے ہیں؟ قارئین فیصلہ خود کریں سرکاری حج سکیم اور پرائیویٹ حج سکیم کا بنیادی فرق کیا کیا اور کہاں کہاں ہے اب یہ بتانا چاہوں گا۔

سرکاری حج سکیم میں جہاز کا کرایہ وزارتِ مذہبی امور خود طے کرتی ہے جو2013ءمیں 97500 تک، 2014ءمیں جہاز کا 40روزہ عازمین کا کرایہ ایک لاکھ7ہزار700 ہے۔ پرائیویٹ حج سکیم کا وہی کرایہ ایک لاکھ25ہزار روپے ہے اور پرائیویٹ حج سکیم کا اگر شارٹ پیکیج ہے تو وہ ہر ایئر لائنز کا الگ کرایہ ہے، کم از کم کرایہ ایک لاکھ25ہزار ہے، فرق لکھتے جائیں۔

سرکاری حج سکیم کے مکتب90فیصد مزدلفہ میں ہیں جن کی قیمت زیادہ سے زیادہ600ریال ہے اور زیادہ مکتب80 سے115میں سرکاری سکیم کے لئے گئے ہیں اور پرائیویٹ حج سکیم کے مکتب کم از کم 800ریال سے 10ہزار ریال تک ہیں۔ اس میں بھی سعودی حکومت نے معلمین کی گریڈنگ کر دی ہے۔ مکتب نمبر1سے9 تک گریڈ A ہے۔ مکتب نمبر10سے21 تک گریڈB ہے۔ 22 مکتب سے41 تک گریڈ Cہے اور مکتب 42سے 61تک گریڈD ہے اور62 سے 115 تک گریڈ E ہے۔

سرکاری حج سکیم میں ہر حاجی کو شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے لئے3 سے 4 میل طے کرنا پڑتا ہے۔ مکتب مزدلفہ میں ہونے کے ساتھ ساتھ واش روم، سینکڑوں حجاج کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں، خیمہ میں بھی سینکڑوں لوگ ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ حج سکیم میں آپ مرضی کی سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں اگر کوئی حاجی پرائیویٹ واش روم ، جیسم بورڈ ،خیمہ ،بوفے، لینا چاہتا ہے تو لے سکتا ہے۔ اس کے لئے وہ 4سے5ہزار ریال اضافی ادا کرے گا۔ 600 ریال اور 5000 ریال کا فرق سامنے رکھنا چاہئے یہ فرق ہزاروں میں نہیں ہے لاکھوں پاکستانی روپوں میں ہے۔ اب عمارتوں کی طرف آتے ہیں۔ بھتہ قریش میں 40روزہ حاجیوں کے لئے گورنمنٹ نے جو عمارتیں حاصل کی ہیں وہ 800 ریال سے 1500 ریال تک ہیں۔ پرائیویٹ حج سکیم کے حج آرگنائزر عمارتیں 40روز کے لئے حاصل کرتے ہیں وہ3ہزار سے 5ہزار ریال تک ہے اور سرکاری حاجی حرم شریف سے 10سے12 کلو میٹر، پرائیویٹ سکیم کے حاجی زیرو میٹر سے 800میٹر تک رکھے جاتے ہیں، سنجیدہ حلقوں کو لاکھوں کا فرق سامنے رکھنا چاہئے۔ خبر شائع ہوئی کہ6لاکھ کا حج ہو گیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے سہولیات منیٰ، عرفات، مزدلفہ کی، ڈبل بیڈ، اٹیج باتھ لینے والے 16لاکھ سے20لاکھ بھی لے رہے ہیں۔اگر کہا جائے سعودی معلم لے رہے ہیں تو درست ہو گا۔ منیٰ جہاں باتھ روم ،تین وقت کا کھانا، جیسم بورڈ کے خیمے خواب تھے ناممکن قرار دیئے جاتے تھے اب عملی صورت میں موجود ہیں۔ حاجی کی ڈیمانڈ پر پرائیویٹ واش روم، جیسم بورڈ کے خیمے، اٹیج باتھ، بوفے وہ بھی تین تین ٹائم فراہم کئے جا رہے ہیں۔

مزدلفہ کو سعودی فتوے کے بعد منیٰ قرار دیا گیا ہے۔ واش روم نہیں، دھوپ والے گرمی والے خیمے، ٹرانسپورٹ اللہ کے سپرد، بوفے خواب، فرق کون کرے گا۔ حج آرگنائزر نے میری رہنمائی دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ کی ہے جو قارئین کی معلومات کے لئے پیش کر دی ہے۔ پرائیویٹ حج سکیم کے خلاف سازشیں کرنے والوں کا ہدف اگر حج کوٹہ ہے تو وہ درست راستہ اختیار کریں، معلومات ملی ہیں2008ءسے جن کو پرائیویٹ سکیم اچھی نہیں لگتی تھی انہوں نے درست طریقہ اپناتے ہوئے وزارت مذہبی امورکے قوائد ضوابط پورے کر کے کوٹہ حاصل کر لیا ہے۔ وہ پرائیویٹ حج سکیم کے حق میں ہو گئے ہیں۔ سرکاری سکیم نہ پہلے بُری تھی نہ اب بُری ہے۔

اللہ نے صاحب ِ استطاعت کا لفظ فرمایا ہے حج ہر صاحب ِ استطاعت پر فرض ہے جو حاجی دو لاکھ72ہزار کی استطاعت رکھتا ہے۔ وہ اس سے استفادہ کرے جو 6لاکھ یا10لاکھ کی استطاعت رکھتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ سہولیات سے استفادہ چاہتا ہے وہ پرائیویٹ حج سکیم سے فائدہ اٹھائے، تنقید برائے تنقید کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔

21ویں صدی میں40روزہ حج کرنے والے کم ہو رہے ہیں۔10سے20دنوں والے بڑھ رہے ہیں، یقینا برابر تو نہیں ہو سکتے۔ سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم دونوں وزارتِ مذہبی امور حکومت ِ پاکستان اور سعودی وزارتِ حج کے زیر نگرانی ہیں۔ مانیٹرنگ کے نظام، سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور کمٹمنٹ پوری کرنے کے لئے اقدامات ہونے چاہئیں۔ عدالتوں کے ذریعے سارے نظام کو سبوتاز کرنے کی بجائے براہ راست حکومت سے بات کرنی چاہئے تاکہ سسٹم بھی چلے اور حاجی بھی آزادی کے ساتھ مرضی کی سہولیات، مرضی کا پیکیج حاصل کر کے فریضہ حج ادا کرتے رہیں یہی ملک و ملت کے لئے بہتر ہے۔

مزید :

کالم -