,.فرعونی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے والی بیماری واپس آگئی

,.فرعونی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے والی بیماری واپس آگئی

  

قاہرہ (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں نے مصر میں اس عظیم طاعون کے آثار دریافت کر لئے ہیں کہ جس نے صدیوں پہلے روئے زمین سے انسانوں کا تقریباً خاتمہ کر دیا تھا اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تباہی دوبارہ بھی آ سکتی ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ 250 عیسوی میں اس بیماری نے رومی سلطنت کا تقریباً صفایا کر دیا تھا اور صرف روم شہر میں روزانہ 5000 لوگ موت کا شکار ہو رہے تھے۔ تحقیق کے سربراہ فرانچبیسکو کا کہنا ہے کہ مصر کے قدیم شہر تھیبز میں اس کے آثار مل گئے ہیں اور یہ بیماری اس قدر خوفناک ہے کہ صدیوں تک لوگ اس قدیم جگہ کے قریب بھی نہیں گئے جہاں وادیوں میں جلا کر پھینکے گئے لوگوں کی باقیات ملی ہیں۔ ان لوگوں کو بیماری سے نجات کی امید میں جلا کر دور دراز وادیوں میں پھینک دیا گیا تھا۔ پلیگ آف سبیرین نامی یہ طاعون 50 سال تک جاری رہا اور دنیا بھر میں کروڑوں زندگیوں کو نگل گیا جن میں سلطنت روم کا شہنشاہ کلاڈیس روئم بھی شامل تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصر میں تو اب اس طاعون کا ڈی این اے موجود نہیں ہے لیکن دنیا میں کسی اور جگہ یہ دریافت ہو سکتا ہے اور یہ دوبارہ دنیا میں قیامت برپا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید :

علاقائی -