گنیز آف بک اور سانحہ لاہور

گنیز آف بک اور سانحہ لاہور
 گنیز آف بک اور سانحہ لاہور
کیپشن: mumtaz sha

  

پنجاب حکومت کو بڑے بڑے ریکارڈ بنانے اور انہیں گنیز بک آف ریکارڈ میں درج کرانے کا شوق ہے اس سلسلہ میں اخروٹ توڑنے سے قومی پرچم لہرانے کے ریکارڈ گنیز بک آف ریکارڈ میں درج ہوچکے ہیں تاہم جمہوری دور میں طالبان سٹائل سے نہتے شہریوں کو سیدھی گولیاں مار کر ہلاک کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے کا اعزاز بھی پنجاب حکومت کے حصہ میں آیا ہے۔ اب رانا ثناءاللہ بھی فخریہ انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ گنیز بک میں کھیلوں کے کارناموں کاریکارڈ درج کرانے کا اعزاز صرف وزیر تعلیم رانا مشہود کو حاصل نہیں ان کے زیر انتظام پولیس نے جمہوری دور میں نہتے سویلین پر سیدھے فائر کرکے کم سے کم گولیوں کے استعمال سے زیادہ سے زیادہ ہلاکتوں اور زخمیوں کا نیا عالمی ریکارڈ کرکے یہ بھی ثابت کردیا کہ پنجاب میں نو گو ایریاز ختم کرنے کے لئے کسی کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔ رانا ثناءاللہ کے اس ارشاد کی روشنی میں پولیس نے رات کی تاریکی میں ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر کے باہر کھڑی رکاوٹیں ہٹا کر کسی کی بھی قربانی کی پرواہ کئے بغیر ایک کامیاب آپریشن مکمل کیا۔ وزیر موصوف نے پنجاب اسمبلی میں اس کارروائی کا بھرپور دفاع کیا اور فرمایا کہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں لوگوں سے طاہر القادری کی حمایت میں قرآن پر حلف لیا جارہا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے نزدیک معاملہ رکاوٹیں ہٹانے کا تھا یا کارکنوں کو قرآن پر حلف اٹھانے سے روکنے کا تھا جس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارروائی کا مقصد طاہر القادری اور ان کے حامیوں کو سبق سکھانا مقصود تھا تاکہ وہ راہ راست پر آکر اطاعت شاہ قبول کرلیں ۔

ایسے واقعات میں پولیس سیاسی تھپکی کے بغیر اتنی بڑی کارروائی نہیں کرتی ڈی جی ایل ڈی اے کی فرمائش پر رات کی تاریکی میں رکاوٹیں ہٹانے کے لئے نکل پڑتی سیاسی تھپکی کا ثبوت وہاں موجود سیاسی کارکن تھے۔ جو پولیس کی معاونت کے لئے چوکس تھے جن میں سے ایک شیر لاہور پولیس گلو بٹ تھے جو کاروں کی تباہی کے بعد ایس ایس پی ماڈل ٹاﺅن کی نگرانی میں سٹورلوٹ کر مال غنیمت میں ملنے والے مشروبات سے وہاں موجود افسران اور جوانوں کی تواضع کررہے تھے کراچی کے کوثر زیدی جنہیں فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں مادر ملت کے حامیوں کی نشاندہی اور پھر ان پر پولیس تشدد کرانے سے قومی سطح پر شہرت ملی تھی لیکن شیر لاہور پولیس گلو بٹ نے کوثر زیدی کا ریکارڈ بھی توڑ دیا اس سارے واقعہ میں وہ نہ صرف پولیس کی مخبری کررہا تھا بلکہ نہتے شہریوں کے قتل عام کے بعد ان کی مشروبات سے تواضع بھی کررہا تھا اور یہاں تک کہ اس نے پولیس کی رکاوٹیں ہٹانے کی کامیاب آپریشن پر رقص کرکے پولیس آفیسروں اور جوانو ں کے دل موہ لئے۔ ماڈل ٹاﺅن جگہ جگہ رکاوٹوں سے بھری ایک رہائشی سوسائٹی ہے۔ خود سوسائٹی کے فیصلہ کے مطابق ماڈل ٹاﺅن کے تقریباً تمام داخلی اور خارجی راستے بند ہوجاتے ہیں اور خود مکینوں کو بھی طویل مسافت کے بعد ایک دو کھلے راستوں سے اپنے گھروں میں پہنچنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم‘ وزیراعلیٰ اور غیر سرکاری سپر وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف بھی ماڈل ٹاﺅن میں رہائش پذیر ہیں۔ ماڈل ٹاﺅن میں مقیم پرانے زمانے

کے لوگ اب ماڈل ٹاﺅن کو شاہ درہ کے نام سے پکارتے ہیں کیونکہ ماڈل ٹاﺅن میں حکمران رہتے ہیں اور اس کی سڑکیں ان حکمرانوں کی گزر گاہ ہیں جیسا کہ مغلیہ دور میں ہندوستان میں ہر قلعہ( جہاں مغل بادشاہ بھی رہائش پذیر ہوتے تھے) کے ساتھ شاہدرہ بھی ہوتا تھا بہرحال پولیس اور اس کے مخبروں نے جو کچھ کیا اس کا انجام وہ خود بھگتیں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس غلطی پرغمزدہ ہیں لیکن آئی جی‘ ڈی آئی جی آپریشن‘ سی پی او‘ فلم گجرکے کھڑاک کی طرح فخریہ انداز میں اپنی کامیابیوں کا اعلان کررہے ہیں پولیس کی طرف سے اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ قتل بھی کریں اور مقدمہ بھی منہاج القرآن کے تین ہزار کارکنوں کے خلاف درج کرائیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب اگر اس واقعہ کو پولیس کی زیادتی سمجھتے ہیں تو وہ کم از کم اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرکے جھوٹے مقدمات خارج کرنے کا حکم جاری کریں اور متاثرہ فریق کی درخواست پر ذمہ داران کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم دیں۔ موجودہ حالات میںمنہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے طالبان کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کر رکھا ہے بہرحال اب اس معاملہ کی تحقیقات لاہور ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج علی باقر نجفی کررہے ہیں تاہم اس سانحہ کی ذمہ داری کے تعین کا معاملہ نوٹیفکیشن میں شامل نہیں کیا گیا اب اس کمیشن کا کار صرف واقعہ کی تحقیقات تک محدود کردیا گیا ہے امید ہے کہ جسٹس علی باقر نجفی اپنے عدالتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ ذمہ داران کے تعین تک پھیلائیں گے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ متاثرہ فریق اور بہت سی موثر سیاسی جماعتیں پہلے ہی ٹربیونل پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہیں ان حالات میں فاضل جج سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل تمام حالات و واقعات کو پوری طرح پرکھیں گے۔ تاکہ پاکستان کے عوام پر یہ عیاں ہوسکے کہ پولیس نے کس کے حکم سے نہتے مرد و خواتین اور بچوں پر فائر کھولا اور یہ بھی پتہ چل سکے کہ اس جمہوری دور کا جنرل ڈائر کون ہے۔ مہناج القرآن کے باہر جو کچھ ہوا اس سے نہ صر ف قومی یکجہتی پارہ پارہ ہوئی بلکہ دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ کو بھی نقصان پہنچا۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے روز لاہور کی پولیس کی تمام قیادت کی توجہ منہاج القرآن کے ارد گرد رکاوٹیں ہٹانے پر مرکوز تھیں اس روز دہشت گرد اس واقعہ کا فائدہ اٹھا کر کوئی بڑا سانحہ برپا کرسکتے تھے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ صوبائی انتظامیہ اور پولیس کو یہ بات سمجھ نہیں آئی اور اب پولیس قیادت کی ساری توجہ اس سانحہ کو کور اپ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ہماری مسلح افواج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں سے برسرپیکار ہیں ایسے وقت میں دہشت گردوں کے پنجاب کے شہروں میں کسی متوقع ردعمل کو روکنے کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں اس طرف مبذول کرکے دہشت گردوں کے سیلپرز سیل کا خاتمہ کرنا چاہئے سیاسی مخالفین کی رکاوٹیں تو ضرب عضب کے خاتمہ کے بعد بھی ہٹائی جاسکتی ہیں۔

 

مزید :

کالم -