ایرانی پروفیسر کو سپریم لیڈر کے مشیر پر تنقید مہنگی پڑگئی

ایرانی پروفیسر کو سپریم لیڈر کے مشیر پر تنقید مہنگی پڑگئی
ایرانی پروفیسر کو سپریم لیڈر کے مشیر پر تنقید مہنگی پڑگئی

  

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ آی کے مشیر پر تنقید کرنے سے پروفیسر کو جیل کی ہواکھاناپڑگئی ۔تفصیلات کے مطابق تہران یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفسیر ڈاکٹر زیبا کلام نے ملک کے شدت پسند حلقوں اور رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر کو تنقید کا نشانہ بنایا جس پر انہیں انقلاب عدالت نے ڈیڑھ سال جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔ ڈاکٹر زیبا کلام ایران کے اعتدال پسند حلقوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں اور سیاسی امور میں ان کے تجزبات کو مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ کے اپنے خصوصی صفحے پر ڈاکٹر کلام نے لکھا ہے کہ تہران کی ایک عدالت نے میرے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈہ، گمراہ خیالات کے فروغ، اعلیٰ عدلیہ کی توہین اور سپریم لیڈر کے مقرب خاص کی شان میں گستاخی کے الزام قائم مقدمہ میں قید کی سزا سنائی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ حال ہی میںسپریم لیڈر کے مشیر برائے سیاسی امور حسین شریعت مداری اور پارلیمنٹ کے رکن حمید رسائی پر اخبارات میں تنقیدی نوعیت کے مراسلے شائع کرائے تھے جن میں میگا کرپشن اسکینڈل کی نشاندہی کی گئی تھی اور یہ سوال اٹھایا تھا کہ ایران کو جوہری پروگرام نے کیا دیا ہے؟۔ میرے اس استفسار پر دائیں بازو کے شدت پسند حلقے میرے خلاف صف بستے ہوئے اور مجھے مغرب کا ایجنٹ قرار دے کر میرے خلاف مقدمہ قائم کر دیا۔ڈاکٹر زیبا کلام کا مزید کہنا ہے کہ ایک موقع پراُنہوں نے ایرانی سرکار کی جانب سے اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے دعوو¿ں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مزید :

انسانی حقوق -