خواتین کیلئے چہرے کا پردہ ضروری نہیں : سعودی مبلغ کا فتویٰ

خواتین کیلئے چہرے کا پردہ ضروری نہیں : سعودی مبلغ کا فتویٰ
خواتین کیلئے چہرے کا پردہ ضروری نہیں : سعودی مبلغ کا فتویٰ

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) فتوے ہمیشہ سے ہی موضوع بحث بنتے ہیں لیکن ایک سعودی مبلغ اوروزارت مذہبی امورکے رکن کے پردے سے متعلق انوکھافتویٰ جاری کرکے نئی بحث چھیڑدی ۔ مذکورہ سعودی مبلغ نے ٹویٹر پرلکھاکہ مسلم خواتین کے لیے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے، اگر کوئی خاتون نقاب اوڑھنا چاہتی ہے تو اس کو ایسا کرنے کی آزادی ہے۔سعودی عرب کی وزارت اسلامی امور کے رکن شیخ سلیمان الطریفی کا کہنا ہے کہ ان کی یہ رائے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ٹویٹر پر ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیاتنازعہ شروع ہوگیا ہے تاہم بعض صارفین نے علامہ طریفی کی رائے کی حمایت کا بھی اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ چہرے کا پردے معاشرتی روایت کا حصہ ہے،مذہب کا نہیں۔واضح رہے کہ سعودی معاشرے میں خواتین بالعموم مکمل حجاب اوڑھتی ہے اور اکا دکا خواتین ہی چہرے کے پردے کے بغیر نظرآتی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -