پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا

افغانستان اوربھارت کا ایران کے راستے تجارت کا فیصلہ

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی پائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور بھارت نے باہمی تجارت ایران کے راستے کرنے کا فیصلہ کرلیا، دونوں ملکوں کا پاکستان، افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بجائے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے تجارت کا فیصلہ جلد سہ فریقی معاہدہ طے پانے کا امکان ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان اور بھارت نے پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے بجائے افغانستان کے راستے تجارت کو فروغ دینے پر غور شروع کردیا ہے اس مقصد کے لئے دونوں ملک ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت میں افغانستان کے سفیر شیدا اقبال محمد ابدالی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ افغانستان اور بھارت پاکستان کی بجائے ایران کے راستے تجارت میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس ضمن میں چاہ بہار بندرگاہ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ایران افغانستان اور بھارت کے درمیان اس ضمن میں جلد معاہدہ طے پایا جائے گا جس سے نہ صرف افغانستان اقور بھارت بلکہ تینوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم بلندیوں تک لے جانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور بھارت پہلے ہی اس معاہدے پر اتفاق کرچکے ہیں اور تجارتی راہداری کے معاہدہ کا مسودہ بھی تیار کر لیا گیا ہم یہ مسودہ ایران کے ساتھ شیئر کریں گے اور ایران سے جواب ملنے کے بعد جلد دستخط ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چاہ بہار بندرگاہ کھلتے ہی تینوں ملکوں کے درمیان تجارت میں تیزی آئے گی اور 5سے 6سو ملین ڈالر کی تجارت ہوگی۔

مزید :

بزنس -