یو ایس ایڈ کی رپورٹ نے لوڈشیڈنگ سکینڈل کا بھانڈہ پھوڑ دیا

یو ایس ایڈ کی رپورٹ نے لوڈشیڈنگ سکینڈل کا بھانڈہ پھوڑ دیا
 یو ایس ایڈ کی رپورٹ نے لوڈشیڈنگ سکینڈل کا بھانڈہ پھوڑ دیا

  

لاہور(خصوصی رپورٹر) یو ایس ایڈز پاورڈڈسٹری بیوشن پروگرام کے خصوصی سنسرز ڈیجیٹل رپورٹ نے لاہور الیکٹراک سپلائی کمپنی(لیسکو) کے معطل چیف ایگزیکٹو ارشد رفیق کے لوڈشیڈنگ سیکنڈل کا بھانڈہ پھوڑ دیا جس میں نہ صرف 27مئی کو شب معراج کے موقع پر طویل لوڈشیڈنگ کی گئی بلکہ مئی کے پورے مہینے میں حکومتی کی پالیسی کے برعکس خاص گراڈسٹیشنز پر مقررہ حد سے زائد بجلی فراہم کی گئی۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی نے یو ایس ایڈز کے گرڈسٹیشنز پر لگے خصوصی سنسرز کی تمام تفصیلاب حاصل کرلی ہیں جس میں 10کے قریب گرڈسٹیشنز کی ڈیجٹل رپورٹس کی کاپیاں بھی منسلک ہیں جس میں واضح ہے کہ مخصوص گرڈسٹیشنز پر مختلف مختلف صنعتوں کو زیادہ بجلی فراہم کی گئی اور گھریلو صارفین کو طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑا جبکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے لوڈشیڈنگ کو کنٹرول کرنے اور خصوصی اقدامات کےلئے 72ارب روپے بھی جاری کئے لیکن اس کے باوجود لیسکو حکام نے صرف ایک دن میں 497میگاواٹ بجلی مخصوص گرڈ پر موجود صنعتی صارفین کو فروخت کردی۔ ذرائع کے مطابق یو ایس ایڈز کے گرڈسٹیشنز پر لگے خص©وصی سنسرزکی رپورٹ میں مذید انکشاف ہوا کہ بجلی کی ہیرا پھیری صرف شب معراج کو ہی نہیں بلکہ پورا مئی کے مہینے میں ٹیکنکل کرپشن کی گئی، ایف آئی اے کو دستیاب ڈیٹا کے مطابق معطل چیف ایگزیکٹو ارشد رفیق کی ہدایت پر خاص صنعتی صارفین بجلی مہیا کرنے کےلئے صارفین کو 24گھنٹے لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کر رکھا گیا اور کئی گرڈسٹیشنز میں متعدد بارریگولر لوڈشیڈنگ کے ساتھ تو اتر سے آدھا گھنٹہ 20منٹ اور 1515منٹ کی غیر اعلانیہ طور پر لوڈشیڈنگ کی گئی اور اس سے حاصل شدہ بجلی خاص صنعتی گروپ کو دی گئی۔ ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق ابھی وہ اس حوالے سے ڈیٹا جمع کررہے ہیں کہ مجموعی طور پر مئی کے مہینے میں کتنے میگاواٹ بجلی کا گھپلا کیا گیا جو صرف ایک رات میں 497میگاواٹ بجلی غیر قانونی طور پر بیچی گئی تو پورے مہینے میں نہ جانے کتنے میگاواٹ ہوگی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ لیسکو حکام کا یہ موقف غلط ہے کہ انہوں نے قانونی طور پر بجلی فروخت کی۔

مزید :

بزنس -