چوہدریوں کی 16سالہ لڑکی سے زیادتی،والدین قتل

چوہدریوں کی 16سالہ لڑکی سے زیادتی،والدین قتل
 چوہدریوں کی 16سالہ لڑکی سے زیادتی،والدین قتل

  

حافظ اآباد، گوجرانوالہ(مانیٹرنگ ڈیسک) حافظ آباد میں با اثر چوہدریوں نے محنت کش کی 16بیٹی سے مبینہ زیادتی کی جس کے بعد قانون کارروائی کیلئے جانیوالے لڑکی کے والدین کو کار تلے کچل ڈالا جبکہ لڑکی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردی گئی ،وزیراعلیٰ نے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ۔تفصیلات کے مطابق حافظ آباد کے نواحی گاﺅں پھلو چراغ شاہ کے رہائشی محنت کش منور کی 16سالہ بیٹی شانزہ کو گاﺅں کے با اثر چوہدریوں علی حسن چٹھہ اور شعیب سیال نے اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ مبینہ طور پر اغوا کیا اور اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ محنت کش منور اپنی بیوی شاہد ہ پروین اور بیٹی شانزہ کے ہمراہ موٹرسائیکل پر ڈی پی او آفس درخواست جمع کروانے جارہا تھا کہ قلعہ صاحب سنگھ بائی پاس کے قریب با اثر ملزمان نے اپنی گاڑی سے ان کی موٹرسائیکل کو ٹکر ماردی جس سے موٹرسائیکل گدھا گاڑی سے ٹکرائی اورمنور موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ اسکی بیٹی شانزہ کو ڈسٹرکٹ ہسپتال حافظ آباد اور بیوی شاہدہ پروین کو تشویشناک حالت کے پیش نظر لاہور ریفرنس کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔ مقتول منور کی لاش کو لواحقین سٹریچر سمیت ہی ہسپتال سے راجہ چوک لے آئے جہاں انہوں نے روڈ بلاک کرکے ملزموں اور پولیس کے خلاف شدید نعرے لگائے اور دو گھنٹے تک رود بلا ک کئے رکھا تاہم ڈی ایس پی صدر خدایا اور ایس ایچ او خرم بٹ کے موقع پر آنے اور ملزموں کی گرفتاری کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد زبیر دریشک نے زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا شانزہ کی عیات کی اور مقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ چار روز قبل بھی مذکورہ چوہدریوںنے شانزہ زبردستی اغوا کیا تھاایس ایچ او تھانہ جلالپور بھٹیاں نے ملزموں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اگر پولیس پہلے روز ہی کارروائی کرتی تو یہ واقعہ نہ ہوتا۔پولیس تھانہ جلالپور بھٹیاں نے 4ملزموں کےخلاف اجتماعی زیادتی اور پولیس تھانہ صدر نے 4 ملزموں کےخلاف قتل کے الگ الگ مقدمات درج کرلئے ۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او حافظ آباد سے رپورٹ طلب کرلی ۔

مزید :

جرم و انصاف -