سائنسدان پیغام رساں کبوترکی نسل کو دوبارہ جنم دینے کی تیاریوں میں

سائنسدان پیغام رساں کبوترکی نسل کو دوبارہ جنم دینے کی تیاریوں میں
سائنسدان پیغام رساں کبوترکی نسل کو دوبارہ جنم دینے کی تیاریوں میں

  

سان فرانسکو(نیوز ڈیسک) امریکی سائنسدانوں نے ایک صدی پہلی صفحہ ہستی سے غائب ہوجانے والی کبوتر کی نسل کو دوبارہ زندہ کرنے کےلئے تجربات کا آغاز کردیا۔پنجرپیجن نامی جنگلی کبوتر انیسویںصدی میں کروڑوں کی تعداد میں پائے جاتے تھے اورسب سے بڑی تعداد میں پائے جانے والے پرندوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کبوترون کے بے پناہ شکار یوںنے آخر ان کی نسل ہی ختم کردی۔ اور فارتھا نامی آخری کبوتری 1914ءمیں امریکہ کے سنسنائی چڑیا گھر میں مری اور اس کے مردہ جسم کو 100سال سے محفوظ رکھا گیا ہے ۔اب سائنس دانوں نے اس نسل کو دوبارہ دنیا میں لانے کےلئے کام شروع کردیا ہے ۔ اس مقصد کےلئے مارتھا کے جسم سے ڈی این اے لیا جائے گا اور اس میں پائی جانے والی کمی کو عام کبوتر کے ڈی این اے کی مدد سے پورا کیا جائے گا۔ پھر اس ڈی این اے کوخلیوںکی صورت میں تیار کرکے عام کبوتروں کے جسم میںداخل کر دیا جائے گا ۔جب یہ جوڑا بچے پیدا کرے گا تو معدوم نسل والا جنگلی کبوتر دوبارہ جنم لے لے گا اور اس نسل کا دوبارہ سے آغاز ہوجائے گا۔سائنسدانوں نے ان تجربات کو بہت مشکل اور مہنگا قرار دیا ہے لیکن امید ظاہر کی ہے کہ ان کے کامیاب ہونے کی صورت میں کئی اور معدوم نسلوں کو پھر سے دنیا میں لانے کی امید پیدا ہوجائے گی۔

مزید :

تفریح -