کرپشن کے خلاف احتجاج کرنے والے نظام کی نذر

کرپشن کے خلاف احتجاج کرنے والے نظام کی نذر
کرپشن کے خلاف احتجاج کرنے والے نظام کی نذر

  

بیجنگ (بیورورپورٹ ) چین میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کے تین کارکنوں کو سرکاری عہدیداروں سے اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا مطالبہ کرنے پر طویل قید کی سزا سنا دی گئی۔ نیو سٹیزن موومنٹ کے کارکن وی زونگینگ اور لیو پینگ کو ساڑھے چھ سال جبکہ لی سیھوا کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی، جس پر حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں بعید ازقیاس اور بے معنی ہیں۔ چینی حکام خود تو کرپشن کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں لیکن اسی مقصد کے حصول کے لئے کام کرنے والے دوسرے گروپوں کو برداشت نہیں کرتے۔ ان سماجی کارکنوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا کہ جب وہ سرکاری عہدیداروں سے اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا مطالبہ کرنے کے لئے بینر اٹھائے کھڑے تھے۔ گرفتاری کے بعد ان رہنماﺅں کا چین کے وسطی صوبہ جیانگژی کی ایک عدالت میں گزشتہ سال سے ٹرائل جاری تھا، اس دوران وکیل صفائی نے متعدد بار ٹرائل پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے نتائج پر عدم اعتماد کیا۔ واضح رہے کہ لیو پینگ اور وی ذونگینگ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جنگ کرنے، انہیں کمزور کرنے کے لئے غلط طریقے استعمال کرنے اور عوامی نظم و ضبط کو خراب کرنے میں ملوث پائے جانے پر ساڑھے چھ سال جبکہ لی سیھوا کو نقص امن عامہ پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے محقق ویلیم نی نے سزا کو بعیدازقیاس قرار دیتے ہوئے کارکنوں کو ضمیر کا قیدی کہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ بیجنگ اس تنظیم کو اپنے لءخطرہ سمجھتا ہے کیوں کہ یہ ان معاملات پر بات کرتی ہے جنہیں عوام کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔

مزید :

انسانی حقوق -