مودی سرکارکی بے قراری کے اسباب

مودی سرکارکی بے قراری کے اسباب
 مودی سرکارکی بے قراری کے اسباب

  

آج کل بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی بہت اچھل کود رہے ہیں اور بے قراری میں بے تکی باتیں کررہے ہیں، جن سے خود انہیں، ان کے ملک اور ان کی اپنی جماعت کے لئے جو خطرات و نقصانات سر اٹھا رہے ہیں یا آگے چل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ان سے ہمیں سروکار نہیں، لیکن ان کی لیڈرانہ بے قراریوں سے اس خطے، خصوصاً وطن عزیز پاکستان کے لئے کچھ مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، اس لئے ہمیں ان اسباب اور وجوہات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو مودی کو یہاں تک لے آئے ہیں، ان میں سرفہرست ’’بڑا بننے کی بیماری‘‘ ہے۔ موصوف یہ بڑائی اگر صرف اپنے بھارت کے لئے چاہتے تو یہ تو پچھلوں کی روش تھی جو اپنے ملک کو علاقے کی سپرپاور بنانے کے جنون میں مبتلا تھے۔ گاندھی ،نہرو اور ان جیسے دوسرے لیڈر بھارت کو ایک ہندو سپرپاور دیکھنا چاہتے تھے، جس کے لئے ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک جنوبی ایشیا پر حکمران رہنے والی مسلمان قوم سے نجات ضروری تھی، لیکن مودی کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود کو بھی ایک سپر لیڈر بنانا اور منوانا چاہتا ہے جو ناممکن ہے، پہلے وہ گجرات میں ہزاروں بیگناہ مسلمانوں کے قتل عام سے بھارت کے لئے تو وہ سپر لیڈر دکھائی دینے لگا تھا،اس لئے وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گیا،اب بھی وہ کچھ ایسا ہی کارنامہ دکھا کر خود کو عالمی سطح پر سپرلیڈر منوانا چاہتا ہے جو بے حد خطرناک اور بے ہودہ خیال ہے۔ وہ جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں۔۔۔ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش میں۔۔۔ گجراتی وار کر کے دنیا بھر کے اسلام دشمن لیڈروں میں بڑا بننا جاہتا ہے، اسی لئے وہ بے قرار ہے اور ہر روز نئے سے نیا بیان داغ رہا ہے۔

اس بے قراری کی دوسری وجہ طاقتور اور مضبوط پاکستان ہے اور مودی اسے برداشت کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتا! مودی اپنے پچھلوں۔۔۔ گاندھی اینڈ کمپنی۔۔۔ کی طرح انگریزکی سامراجی لوری کے نشے میں مبتلا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہندو اکثریت میں ہیں، اس لئے یہاں حکومت کا حق صرف برہمن کو تھا،برہمن کو ہے اور برہمن کا ہی رہے گا جو سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، کیونکہ ہندو برہمن بنیا اکثریت نہیں ہے، بلکہ ایک حقیر اقلیت ہے جو نسلی برتری میں مبتلا ہے اور اپنے سوا دوسرے انسانوں کو طبقاتی معاشرے کی خودساختہ قیود میں جکڑ رکھا ہے۔ یہاں کی اصل اکثریت وہ لوگ ہیں جو یا تو صدیوں سے اچھوت کہلا کر برہمن کے طبقاتی معاشرے میں پست ترین مرتبے کے پابند ہیں اور جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، یا وہ لوگ ہیں جو اس طبقاتی تقسیم کی لعنت کو ٹھکراتے ہیں اور انسانی برادری اور برابری پر ایمان رکھتے ہیں، مسیحی اور سکھ بھی نسلی برتری کے مجنونانہ تصور کے علمبردار برہمن بنئے کو ماننے کے لئے تیار نہیں، ان سب میں برہمن کے لئے اصل خطرہ صرف مسلمان ہیں، اسی لئے وہ اس خطرے سے ہر صورت میں نجات پانا چاہتے ہیں، مسلمان کو زبردستی ہندو بنا کر ، بھگا کر یا موت کے گھاٹ اتار کر!( اور مودی نے اس اصول پر عمل شروع کر رکھا ہے!)

مسلمان اور اسلام سے چھٹکارا اس وقت تک ممکن نہیں ،جب تک یہاں طاقتور پاکستان موجود ہے، اس لئے مودی صاحب پاکستان کو داخلی طور پر غیر مستحکم بنانے کے جنون میں مبتلا ، پاکستان کو ختم کرنے کے لئے مودی بھی دنیا سے یہ اجازت یا لائسنس حاصل کرنا چاہتا ہے جو اندرا گاندھی نے روس، امریکہ اوردوسرے بڑوں سے حاصل کرکے پاکستان کے دو ٹکڑے کئے تھے، مودی صرف اس لائسنس کو ہی کافی سمجھتا ہے جو اوباما صاحب نے اسے بے تکلفی، بلکہ ’’مجاکھ مجاکھ‘‘ میں عطا کر دیا ہے؟ اس لئے وہ بھارت کو بڑا بنانے سے پہلے اپنی بڑائی کو ثابت کرنا چاہتا ہے!

گزشتہ ستر سال کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ بھارتی لیڈر ہر نالائق پاکستانی حکمران سے فوائد حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں، مگر پاکستان کو کوئی رعایت دینا یا فائدہ پہنچانا حرام اور گناہ سمجھتے ہیں، کشمیر سے لے کر سیاچن تک پاکستان کو کوئی رعایت نہیں دی گئی، کیونکہ برہمن کے نزدیک ان تمام مسائل کا اس دن نام و نشان بھی مٹ جائے گا، جس دن خدانخواستہ ہندو کا خواب پورا ہوگیا اور وہ اکھنڈ بھارت اور رام راج قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ برہمن کا یہ خواب دراصل نتیجہ ہے اس لوری کا جو اسے 1857ء میں انگریز نے سنائی تھی، یہ پیداوار ہے اس اقدام کی جو مغل اعظم نے اپنے خود ساختہ دین الٰہی کے لئے مسلمانوں کو ہندو مزاج بنوایا تھا اور یہ چوٹی ہے اس سوچ کی جو رام راج کے علمبرداروں نے برہمن کو ورثے میں دی تھی کہ مسلمان ملیچھ سے بھارت کو پوتر بنانے کے لئے اسے زبردست ہندو بنا لو یا بھگا دو اور یا پھرقبرستان میں پہنچا دو! اسی وجہ سے مودی مہاراج بے قرار ہیں، مگربہت جلد برہمن کا یہ خواب بھی بکھر جائے گا اور مودی کو بھی قرار آ جائے گا!! *

مزید :

کالم -