بچوں کو فیس بک استعمال کرنے دینا ایسا ہی ہے جیسے آپ انہیں اس بے شرمی والی جگہ پر لے جائیں برطانوی ماہر نے دنیا بھر کے والدین کو خبردار کردیا

بچوں کو فیس بک استعمال کرنے دینا ایسا ہی ہے جیسے آپ انہیں اس بے شرمی والی جگہ ...
بچوں کو فیس بک استعمال کرنے دینا ایسا ہی ہے جیسے آپ انہیں اس بے شرمی والی جگہ پر لے جائیں برطانوی ماہر نے دنیا بھر کے والدین کو خبردار کردیا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل میڈیا نے انقلاب برپا کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں دنیا کو ایک ’عالمی گاﺅں‘ کی شکل دے دی ہے۔ لوگ بلاتردد دوسرے ممالک کے لوگوں سے ایسے ہی گفتگو کر سکتے ہیں جیسے اپنے کسی ہمسائے سے۔ لیکن سوشل میڈیا کا یہ انقلاب مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کے لیے بھی آسانیاں لے کر آیا ہے۔ اب وہ لوگوں کو آسانی کے ساتھ اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔ بالخصوص بچوں سے متعلق جرائم میں سوشل میڈیا کا کردار انتہائی سنگین ہے اور ایک برطانوی ماہر نے سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک کے متعلق ایسی بات کہہ دی ہے کہ والدین خوفزدہ ہو جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم کے انسداد کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم این ایس پی سی سی کے ماہر پیٹر وینلیس کا کہنا ہے کہ ”بچوں کو فیس بک استعمال کرنے کی اجازت دینا اتنا ہی خطرناک ہے جتنا انہیں نائٹ کلب میں جانے کی اجازت دینا۔“

سالگرہ کا تحفہ، شوہر نے اپنی بیگم کو ٹرین کی پٹڑی سے باندھ دیا اور پھر خود۔۔۔ ایسا خوفناک ترین تحفہ تاریخ میں کبھی کسی نے کسی کو نہ دیا ہوگا

پیٹر وینلیس کے مطابق فیس بک بچوں میں جنسی تسکین کے متلاشی درندوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے اسے اپنی شکار گاہ بنا لیا ہے جہاں وہ بچوں کو پھانستے ہیں اور بچے چونکہ آسان ٹارگٹ ہوتے ہیں اس لیے بچوں کے خلاف جرائم میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔“پیٹروینلیس کا کہنا تھا کہ ”این ایس پی سی سی چاہتی ہے کہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا کو منظم رکھنے کا نظام وضع کیا جائے اور اس حوالے سے عالمی معیارات متعارف کروائے جائیں۔ ان اقدامات میں سوشل میڈیا ویب سائٹس کو پابند کیا جائے کہ وہ 18سال سے کم عمر صارفین کے لیے ’محفوظ اکاﺅنٹس‘ مہیا کریں، جن میں کسی مجرم کے آنے سے الرٹ جاری ہونے کی صلاحیت ہو۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...