جدید ضرب الامثال

جدید ضرب الامثال
 جدید ضرب الامثال

  

پرانی کہاوتیں یا ضرب الامثال بڑی دلچسپ ہوتی ہیں، ان کے اندر معانی کے سمندر چھپے ہوتے ہیں۔ ان ضرب الامثال کے پیچھے ایک زمانے کا مشاہدہ اور تجربہ کار فرما ہوتا ہے۔ یہ ضرب الامثال آج بھی، جب سنائی جاتی ہیں تو خوب مزہ دیتی ہیں۔

مگر کچھ ضرب الامثال، دورِ حاضرکی ’’کارگزاریوں‘‘ کی بنا پر خود حیران ہیں کہ یہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی اور ضرب الامثل کو خود کو قائم رکھنا دشوار ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر ضرب المثل ہے ’’ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں‘‘۔

اس ضرب المثل میں شاید اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو چیز بڑی ہوتی ہے، تمام چھوٹی چیزیں اس کی حمایت پر مجبور ہو کر اسی میں سما جاتی ہیں۔ یعنی اگر کوئی بڑا آدمی (بلحاظِ عہدہ یا طاقت) کسی چھوٹے آدمی کو (بلحاظِ عہدہ یا طاقت) کوئی حکم دیتا ہے تو چھوٹا آدمی اسے بلا چون و چرا تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرے۔

اب نیرنگئ زمانہ دیکھئے اکتوبر 1999ء میں ایک بڑے ہاتھی نے خوب اودھم مچایا اور سب چھوٹوں نے خوب ساتھ نبھایا، خوب انجوائے کیا،مگر گزرتے وقت نے اپنا رنگ دکھایا۔ ہاتھی بے دست و پاہوگیا۔ اب وہ اپناپاؤں زور سے زمین پر مارتا ہے، مگر کسی اور چھوٹے کا پاؤں اس کے ساتھ چلتا نظر نہیں آتا۔ یعنی اب ضرب المثل کچھ ایسے ہوگئی ہے:

’’ہاتھی کے پاؤں میں صرف اس کا پاؤں‘‘

(اہل ادب حضرات ضروری تصیح فرمالیں)

ایک اور ضرب المثل ہے ’’رات گئی بات گئی‘‘ اس ضرب المثل کی تشریح کے لئے کچھ بے باک الفاظ کھل کر سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی حیا سے عاری ضرب المثل ہے کہ جس میں پوری رات کی چاشنی تھی، جس کو چٹکی بجا کر ہوا میں تحلیل کردیا جاتا ہے۔ یعنی کہ اتنی بڑی بات ہوگئی، مگر چلو ’’ مٹی پاؤ‘‘کسی کا دل گیا کسی کی جان گئی، مگر کوئی بات ہی نہ ہوئی۔ اس میں شاید قوموں کی یاد داشت کی بات کی گئی ہے۔ یعنی جو قومیں اپنے آپ پر گزرنے والی زیادتیوں کو بھول جائیں اور خود کو خوابوں کے ذریعے اک نئی خوبصورت زندگی میں موجود پائیں شاید ان کے لئے یہ ضرب المثل تخلیق کی گئی کہ ’’ رات گئی بات گئی‘‘ کہ چلو خیر ہے کچھ نہیں ہوا۔

مگر وقت کے پہئے نے اس ضرب المثل کو بھی ہلاکے رکھ دیا ہے۔ اب یہ یوں ہوگئی ہے ’’ رات گئی، مگر بات رہ گئی‘‘۔

یقین نہ آئے تو چک شہزاد کے مکین سے جاکے پوچھیئے، کیا یہ ضرب المثل ایسے ہی نہیں ہونا چاہئے تھی۔

اب ایک اور سنگدل قسم کی ضرب المثل دیکھیں ’’دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘۔

یہ تو صریحاً جلنے جلانے والی بات ہے۔ اس میں شاید کچھ اس طرح کا سین ہے کہ کسی کو گرم گرم دودھ پیش کیا گیا اور چونکہ پینے والا ’’ لسی‘‘ کا شوقین تھا، یہ نہ سمجھ سکا ’’گرم دودھ‘‘ ہے اور غٹاغٹ پینے کی کوشش میں اپنا منہ جلابیٹھا۔(وہ تو بیچارا سمجھ رہا تھا اسے ’’لسی‘‘ پیش کی جارہی ہے) بعد ازاں اسے جب لسی پیش کی گئی تو وہ پھونکیں مارتا رہا اور پیتا رہا حالانکہ ’’لسی‘‘ بیچاری کو کوئی بھی گرم کرکے پیش نہیں کرتا۔

اب وقت کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کسی ’’درویش ملک کے عوام‘‘ کا ’’درویش منتخب نمائندہ‘‘ جس کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ جسے لسی (چھاچھ) سمجھ رہا تھا وہ تو گرما گرم دودھ تھا جسے ٹھنڈا کر کے پیا جاتا ہے، مگر اپنی ’’سمجھ ‘‘ کی بدولت وہ تہہِ تیغ ہو گیا اور اتنا زیادہ نقصان اٹھا بیٹھا کہ ناشتہ بھول کر کھجوروں کی گٹھلیاں گننا پڑ گئیں۔

مگر وقت تو مناظر بدلتا رہتا ہے۔ اس ’’دوریش نمائندے‘‘ کے لئے وقت نے ایک بار پھر اپنے بازو کھول دیئے، مگر ’’درویش‘‘ گرم دودھ کا ڈسا ہوا دودھ کو پہلے چھاچھ (لسی) بنا رہا ہے اور پھر پی رہا ہے۔ حالانکہ اب اسے ڈرنے کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ گزرتے وقت نے گرم دودھ کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ اب اس پر پھونکیں مارنے کی یا اسے چھاچھ میں تبدیل کرنے کی کوئی حاجت نہیں اسے تو اب آرام سے پی جانا چاہئے، مگر کیا اب یہ ضرب المثل ایسے نہ ہونی چاہیے:

’’دودھ کا جلا دودھ کو چھاچھ بنابنا کے پیتا ہے‘‘

اب ایک اور ضرب المثل ملاحظہ فرمائیں ’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ اس ضرب المثل میں شاید یہ در فنطنی دکھائی گئی ہے کہ جو کوئی طاقتور ہو گا وہی مالکِ اقتدار رہے گا، مگر تقدیر کا لکھا کون ٹال سکتا ہے؟ اگر بھینس ہی رسہ تڑواکے بھاگ جائے تو لاٹھی والا اور بغیر لاٹھی والا بھلا کیا کرسکتے ہیں؟ اور پھر طاقتور کی لاٹھی بھی بھلا کس کام کی؟

مگر ہُوا کچھ یوں کہ ایک طاقتور (معہ لاٹھی) کہیں گھس آیا اور بہ زورِ بازو بھینس پر قابض ہو گیا۔ بھینس بچاری کیا کرتی اُسے تو چارے سے غرض تھی۔ لہٰذا قطعاً معترض نہ ہوئی، بلکہ خوش ہوگئی کہ نیا مالک اسے خوب کھلائے، پلائے گا اور پھر دودھ پر تو اسی ’’طاقتور‘‘ (یعنی لاٹھی والے) کا حق ویسے بھی بن ہی جاتا ہے۔ لاٹھی والا، لاٹھی دکھاتا رہا، دودھ پیتا رہا، مسکراتا رہا، جھومتا رہا اور رقص کرتا رہا۔ مگر وقت کے بھی اپنے ہی اندازے ہوتے ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ لاٹھی والے کی لاٹھی کمزور ہوتی گئی اور بغیر لاٹھی والا بھی اسی تاک میں انتظار کرتا رہا۔ ساتھ ہی ساتھ بھینس نے بھی پَر پُرزے نکا لنے شروع کردیئے۔ قصہ مختصر وقت وہ آن پہنچا کہ بغیر لاٹھی والا آہستہ آہستہ بھینس کو پچکارتا ہوا قریب آتا گیا اور لاٹھی والے نے جب اپنی لاٹھی اٹھائی تو وہ دیمک زدہ ہو چکی تھی۔ چلنے چلانے سے قاصر نظر آئی۔

اب بغیر لاٹھی والا بھینس کو لے کے چل دیا اور بھینس اس بات پہ خوش کہ اسے پرانا مالک دستیاب ہوگیا ۔ اسے تو بس چارے سے غرض تھی؟ خواہ لاٹھی والا دے یا بغیر لاٹھی والا چنانچہ یہ ضرب المثل بھی اپنی شکل تبدیل کرنے والی ہے کہ ’’بھینس تو بھینس ہوتی ہے جو صرف چارا کھانے کے لئے ہوتی ہے‘‘۔

مزید : کالم