جنہیں کبھی ریٹائر نہیں ہونا چاہیے

جنہیں کبھی ریٹائر نہیں ہونا چاہیے
 جنہیں کبھی ریٹائر نہیں ہونا چاہیے

  


مغربی دنیا میں اب یہ رجحان زور پکڑتا جارہا ہے کہ کوئی بھی چیزطبعی عمر پوری ہونے تک ضائع نہ ہونے دو چاہے وہ سافٹ ڈرنک کا معمولی سا خالی کین ہی کیوں نہ ہو۔ یہ وسائل کا بہترین استعمال ہے، جس کی بدولت انہوں نے بہت ترقی کی ہے اور اس معمولی سی بات سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ انسانی وسائل سے کس طرح کام لیتے ہوں گے؟ دوسری طرف ہم ہیں جو انتہائی قیمتی انسانی وسائل کے ساتھ بے جان فالتو چیزوں سے بھی بْرا سلوک کرتے آرہے ہیں، حالانکہ جدید معاشی نظریے کے مطابق انسانی وسائل پیداواری عمل کے لئے ضروری ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد کے قریب حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں سے بیشتر جب حصولِ علم، ہنریا پھر خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے کسی قابل ہوتے ہیں تو وہ مقامی حالات ، وسائل پر کسی مخصوص طبقے کی اجارہ داری ، اقرباء پروری، عدم مساوات، ناانصافی اور نوکریاں نہ ہونے کی وجہ سے معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ ہمارے انسانی وسائل کاایک حصہ ایسا بھی ہے جسے اگرچہ ملک سے باہر بہت پْرکشش مواقع میسر ہوتے ہیں ،لیکن وہ اْس سے کم وسائل پر اکتفا کرکے ملک میں رہنا پسند کرتے ہیں،تاکہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعے اپنے ملک کی خدمت کریں ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مثال لے لیجیے ۔ جب پاکستان نے ایٹمی پروگرام شروع کیا تو وہ پاکستان سے باہر تھے اور انہیں وہ تمام آسائشیں میسر تھیں جو کسی شخص کے احاطہ تصور میں آسکتی ہیں، مگر وہ جذبہ حب الوطنی کے تحت پاکستان آئے ،انتہائی قلیل تنخواہ پر ملک کی خدمت شروع کردی اور ملک کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا،مگر جونہی وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچے ان کے تمام تجربے اور خلوص کو پس پشت ڈال کر گڈ بائے کہہ کر گھر بھیج دیا گیا۔ دوسری اہم مثال جنرل (ر) راحیل شریف ہیں جنہوں نے ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے چھٹکارا دلاکر تاریخ میں نام رقم کرایا، لیکن جونہی وہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچے انہیں بھی خدا حافظ کہہ دیا گیا ۔ یہ بھی تو ممکن تھا کہ حکومت انہیں کسی اور پوزیشن میں اپنے ساتھ رکھتی اور ان کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھاتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ بھی سعودی عرب چلے گئے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں ڈاکٹر ثمرمند مبارک اور ایسی بہت سی شخصیات کوریٹائرمنٹ کے بعد ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہہ دیا جائے گا جو پاکستان کے لئے اثاثہ ہیں۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ باصلاحیت لوگوں کو تو ریٹائرمنٹ کے بعد عضومعطل بنادیا جاتا ہے ، لیکن جو نااہل اور بدعنوان عناصر ہوتے ہیں ان میں سے اکثر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اہم عہدوں پر فائز کرکے مزید تباہی پھیلانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

ہماری پسماندگی کی وجہ بھی یہی ہے کہ ذاتی مفاد اکثر قومی مفاد پر غالب رہا اور پسند و ناپسند کی بناپر قیمتی اور اہل انسانی وسائل ضائع کئے جاتے رہے، کبھی کسی طرح تو کبھی کسی طرح، لیکن اس سے قوم کو نقصان بہت زیادہ ہوچکا ہے اور اب مزید نہیں ہونا چاہیے۔نوجوان نسل کے لئے کام کرنا تو حکومت کا فرض ہے ہی، لیکن جو لوگ غیرمعمولی شخصیات کے حامل ہیں، انہیں کبھی ریٹائر نہیں ہونا چاہیے، ان کی خداداد صلاحیتیں ملک کی ترقی کے لئے ہمیشہ استعمال ہوتی رہنی چاہئیں۔

مزید : کالم


loading...