چھاتی کا سرطان

چھاتی کا سرطان
 چھاتی کا سرطان

  


چھاتی کا سرطان بریسٹ کینسر اس وقت دنیا کے عام امراض میں سے ایک سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے یہ مرض خواتین کی صحت اور زندگی کو براہ راست متاثر کر رہا ہے ،محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک ملین خواتین میں اس مرض کی تشخیص ہو رہی ہے اور کینسرکے سب سے زیادہ کیسز چھاتی کے کینسر سے متعلق سامنے آرہے ہیں۔ 2008ئمیں ورلڈ ہیلتھ آئرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ ’’گلوبل کون کانفرنس‘‘ میں تحقیق کے مطابق جو اعداد و شمار پیش کیے گئے وہ انتہائی سنگین ہیں رپورٹ کے مطابق تقریبا 1.38ملین خواتین اس موذی مرض سے دوچار ہیں،جبکہ WHOکے اعداد و شمار کے مطابق ایشیا میں سب سے زیادہ چھاتی کے سرطان کی مریضوں میں صرف پاکستان میں ہر 9 میں سے ایک خاتون اس مرض میں مبتلا ہو رہی ہے۔ یوں سالانہ 40ہزار اموات صرف پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے باعث ہو رہی ہیں،چھاتی کے سرطان کے کیسز دیہی علاقوں میں بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں کیونکہ اس مرض میں دیہی نوجوان خواتین میں ایڈوانس سٹیج میں چھاتی کا سرطان دریافت ہورہا ہے دیہی علاقوں میں اس بتدریج اضافے کی ایک وجہ موروثی بیماری ہے جو ماں سے بیٹی تک منتقل ہو رہی ہے ۔

خطرے کے عوامل :

پاکستان سمیت دنیا میں چھاتی کے سرطان کی علامات میں موٹاپا،کم ورزش ،ہارمونز کی تبدیلی کے لئے سیشن ،شراب نوشی، ماہواری کا نہ آنا یا کم عمری میں ماہواری شروع ہونا، بیماری کا وراثت میں ماں سے بیٹی میں منتقل ہونا، چالیس سال سے زائدعمر ،بچے کی پیدائش میں طویل وقفہ یا بچہ پیدا نہ ہوناجیسے عوامل شامل ہیں۔

علامات:

چھاتی کے کسی حصے میں گلٹی کا نکلنا،بغل یا سینے میں درد جو ماہواری کے دوران نہ ہو،چھاتی کی رنگت میں تبدیلی یا سوجن،بچوں کو دودھ پلانے کی جگہ کے گرد دھپڑ(RASH)کا بننا یا خون کا اخراج ہونا،چھاتی کے ایک حصے کا کمزور ہوکر سوکھ جانا یاڈھلک جانا،چھاتی کی شکل تبدیل ہو جانااور سب سے بڑھ کر چھاتی کی جلد اکھڑجانا یا اس پر نشان ابھر آنا شامل ہیں

سکریننگ یا معائنہ :

سکریننگ یا معائنے سے مراد چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص صحت مند خاتون کومرض کی مزید پیچیدگی سے قبل ابتدائی مراحل میں ہی بڑھنے سے روک سکنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے ،مختلف نوعیت کے سکریننگ ٹسٹ جن میں کلینکل ،بذات خود ،الڑا ساؤنڈ، میمو گرافی اورmagnetic resonance imaging.مددگار ثابت ہوتے ہیں، کلینکل یاخود معائنہ کرتے ہوئے چھاتی میں کسی قسم کی گلٹی یا قدرتی بناوٹ سے ہٹ کر خرابی کی تلاش کی جاتی ہے ،کلینکل معائنہ ہیلتھ کےئرفراہم کرنے والے اداروں سے کرایا جاسکتا ہے جبکہ ذاتی معائنہ خواتین خود بھی کر سکتی ہیں ،چالیس سال سے زائد عمر کی خواتین کو وقفے وقفے سے خود یا کلینکل ہیلتھ کےئرفراہم کرنے والے افرادرہنمائی کر سکتے ہیں ۔ اس مرض کی بروقت اور ابتدائی تشخیص سے بہتر انداز سے علاج فراہم کیا جا سکتا ہے جس سے انسانی جان کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے کیونکہ صحت مند خواتین صحت مند نسلوں کی ضامن ہوتی ہیں۔خواتین سے قطعِ نظر’’شوکت خانم کینیڈاہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹراینڈ ریسرچ سنٹر‘‘میں بعض ایسے مردانہ کیس بھی دیکھے گئے جن میں ’’بریسٹ پایا گیا یہ عموماً ہزاروں یا لاکھوں میں کوئی ایک ہوسکتا ہے اس لئے اس عرض کو حتمی طور پر خواتین کا مرض ہی نہ سمجھا جائے۔

مزید : کالم


loading...