پاکستان کی تاریخی کامیابی کے بعد!

پاکستان کی تاریخی کامیابی کے بعد!

اوول کے مشہور زمانہ کرکٹ گراؤنڈ میں اتوار 18جون پاکستان کا دن تھا بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو پاکستانی کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا ایسا آغاز کیا جو اختتام تک دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد تماشائیوں نے سانس روک کر دیکھا، چار کھلاڑیوں کے نقصان پر پاکستان نے 338 رنز بنائے ۔اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ پاکستان نے اپنی کامیابی کی اتنی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے کہ اب بھارت کے لئے اس چوٹی کو سر کرنا آسان نہیں ہوگا چنانچہ وہی ہوا بھارت کی اوپننگ جوڑی جب چھ رنز پر آؤٹ ہوگئی تو بھارتی ٹیم شروع ہی سے زبردست دباؤ میں آگئی یہ دباؤ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا تاآنکہ پوری ٹیم 30.3 اوورز ہی کھیل سکی اور 158 رنز پر آؤٹ ہوگئی یوں بھارت کو ریکارڈ ساز 180رنز سے شکست ہوئی، پاکستان کی ٹیم نے کھیل کے تینوں شعبوں ، بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں بہترین کار کردگی دکھائی، عمومی طور پر پاکستان کی فیلڈنگ نقائص کا شکار رہتی ہے، ایسی چند خامیاں یہاں بھی نظر آئیں لیکن ٹیم نے کھیل اتنا جارحانہ پیش کیا تھا اورباؤلر اس قدر عمدہ باؤلنگ کررہے تھے کہ ایک آدھ اہم کیچ چھوڑنے کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر تاریخ رقم کردی، بھارت کی ٹیم کو اس منی ورلڈ کپ میں ایک سو اسی رنز کے بڑے فرق سے ہرا کر ریکارڈ بنایا تو چیمپینز کے بھی چیمپئن بن گئے، یہ میچ بائیسویں رمضان کو کھیلا اور جیتا گیا بتایاجارہا ہے کہ 1992ء کا ورلڈ کپ بھی 22رمضان المبارک ہی کو جیتا گیا تھا، یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ ورلڈ کپ میں فائنل تک رسائی ساؤتھ افریقہ کی ٹیم سے جیت کرہوئی اور اس میں سیمی فائنل تک اسی ٹیم کو ہرا کر پہنچے اور پھر فائنل کے لئے میزبان ملک انگلینڈ کو شکست دی۔ایک اور اتفاق یہ بھی ہے کہ 1953ء میں اسی گراؤنڈ پر پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کی تجربہ کار ٹیم کو زبردست شکست دی تھی اس میں فضل محمودنے دونوں اننگز میں زبردست باؤلنگ کی اور انگلینڈ کے قریباً بارہ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا، تب کپتان عبدالحفیظ کار دار تھے، ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا گیا اور اب کپتانی کے فرائض سرفراز احمد نے ادا کئے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم، پاکستانی عوام اور دنیا بھر میں پاکستان ٹیم کے حامی افراد نے اس فتح پر جشن منایااور تادم تحریر منا رہے ہیں ٹیم کی وطن واپسی پر شاندار استقبال بھی کیا جائے گا، ہم بھی پاک وطن کی عظیم ٹیم کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ اس نے اس مقابلے میں بھارتی ٹیم کو آؤٹ کلاس کیا، کھیل کے ہر شعبے میں برتری حاصل کی اور کسی بھی مرحلے پر میچ کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔پاکستان کی فتح میں تمام کھلاڑیوں کا اپنا اپنا کردار ہے تاہم محمد عامر، حسن علی اور فخر زمان کے ساتھ ساتھ اظہر علی اور محمد حفیظ بھی قابل تعریف ہیں، نوجوان شاداب خان کی بھی ستائش کرنا چاہئے کہ وہ بھرپور اعتماد سے کھیلتے رہے اور انہوں نے یووراج جیسے کھلاڑی کے خلاف یقین کے ساتھ ریویو لیا اور کامیاب رہے، ٹیم کی فتح کا مکمل احاطہ ان سطور میں ممکن نہیں تاہم محمد عامر کے پہلے ہی سپل کا جواب نہیں جس نے یکے بعد دیگر روہیت شرما، ویرات کوہلی اور شیکھر دھون کو آؤٹ کرکے فتح کی راہ ہموار کردی پھر حسن علی اور شاداب خان نے کام مکمل کیا، محمد عامر جب سے پابندی ختم ہونے کے بعد کھیل میں آئے ان کی پرانی فارم واپس آنے کی توقع کی جارہی تھی اس میچ کی بدولت یہ محسوس ہوا جلد ہی وہ ’’میچ ونر‘‘ باؤلر کی حیثیت میں آجائیں گے۔

ٹیم کی فتح کا کریڈٹ پوری ٹیم کو دیا گیا اور یہ بجا بھی ہے سب ہی نے محنت کی، اس مرحلے پر یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ کھیل تو کھیل ہے، اسے اسی حد تک رہنا چاہئے، جنگ کا درجہ نہ دیا جانا ہی بہتر ہے اس لئے جوش کے ساتھ ہوش سے کام لینا چاہئے، ہماری قوم اور شائقین کو بھی یہی رویہ اپنانا ہوگا کہ یہی ٹیم بھارت سے پول میچ ہاری تو شدید مذمت اور تنقید کی جارہی تھی اور اب پاکستان کی طرف سے فتح کا جشن ہے جبکہ بھارت میں سوگ منایا جارہا ہے۔ہمیں یقین ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی، انتظامیہ ، کوچ حضرات اور کرکٹ بورڈ اس یادگار فتح کی خوشی مناتے ہوئے مستقبل کی بھی فکر کریں گے اور جو کمزوریاں سامنے آئیں ان کو دور کرنے کی سعی کی جائے گی کہ ہماری کرکٹ ٹیم پھر سے دنیا کی نامور ٹیم بن جائے ۔اس سلسلے میں غلطیوں سے سیکھنا ہوگا اور مستقبل کے لئے صحیح منصوبہ بندی کرنا ہوگی کہ ملک کے اندر بین الاقوامی میچوں کے لئے جو کوشش کی جارہی ہے وہ بھی بار آور ہو اور بیرونی ٹیمیں یہاں آ کر کھیلیں۔

پاکستان کے کرکٹ گراؤنڈ ایک عرصے سے ویران چلے آرہے ہیں جب سے لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اس کے بعد سے کوئی ٹیم پاکستان نہیں آئی صرف ایک استثنا زمبابوے کی ٹیم ہے جس نے لاہور میں کھیلنے کا چیلنج قبول کیا، تازہ کامیابی کے موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کرکٹ بورڈ حکام کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سامنے اپنا کیس مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کرنا چاہئے۔ دہشت گردی اب بہت پھیل چکی ہے اور کسی ایک ملک کے ساتھ مخصوص نہیں رہ گئی۔ اس کے باوجود کاروبار حیات تھم نہیں گیا، چیمپئنز ٹرافی کے موقع پر انگلستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوگئے۔ایک کثیرالمنزلہ عمارت میں آگ لگ گئی، جس کو دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے، ان تمام واقعات کے باوجود وہاں اگر چیمپئنز ٹرافی کے میچ معمول کے مطابق ہوتے رہے تو پاکستان میں اگر کہیں دہشت گردی ہوتی ہے تو اس سے کہاں لازم آتا ہے کہ پوری دنیا کی کرکٹ ٹیمیں پاکستان کا بائیکاٹ کردیں اور کھیلنے کے لئے نہ آئیں ۔کئی انٹرنیشنل کھلاڑی اس دوران میں پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ یہاں زندگی کس طرح رواں دواں ہے، ویسے بھی دہشت گردی کا یہ مطلب تو نہیں کہ کوئی ایک واقعہ یا چند واقعات زندگی کی گاڑی کو روک دیں، ویسے بھی اب پاکستان میں بڑی حد تک اس پرقابوپایا جاچکا ہے اس لئے کرکٹ بورڈ کو دنیا کی باقی ٹیموں کے ساتھ رابطہ کرکے ان کی رضا مندی حاصل کرنی چاہئے اور آئی سی سی کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے اس نے سیاسی بنیادوں پر پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے سے انکار کر رکھا ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی ’’پاکستان پالیسی‘‘ کی روشنی میں ’’کرکٹ پالیسی‘‘ بناتا ہے، پاکستان کھیلنے کے لئے ٹیم نہیں بھیجتا تو کسی تیسرے مقام پر کھیلنے کے لئے بھی تیار نہیں، سوال یہ ہے اگر پاکستان کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی کھیلی جاسکتی ہے تو سیریز کیوں نہیں؟ بھارت کے لئے اگر چہ تازہ شکست کا صدمہ بڑے عرصے تک فراموش کرنا مشکل ہے لیکن کھیل کے مستقبل کی خاطر بھارت کی حکومت کو سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی انا کو ختم کرکے پاکستان کے ساتھ کھیل بحال کرنا چاہئے۔، جن ٹیموں کا کھیل دنیا کے ایک ارب لوگ دیکھتے ہیں انہیں یوں روٹھ کر نہیں بیٹھے رہنا چاہئے۔

مزید : اداریہ


loading...