ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا انٹرویو

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا انٹرویو
 ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا انٹرویو

  


پرسوں اتوار کا دن تھا جس میں دو انہونیاں ہو گئیں۔ ایک کا تعلق شائد تنہا میری ذات سے تھا اور دوسری کا پوری پاکستانی قوم سے۔۔۔دوسری انہونی کا ذکر پہلے۔۔۔ اور وہ پاکستانی کرکٹ کی جیت اور بھارت کی ہار تھی۔۔۔اور پہلی انہونی کا ذکر یوں ہے کہ میں جب یونیفارم میں تھا تو ٹیلی ویژن پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی قومی اسمبلی میں تقاریر کا مداح تھا۔ وہ اسمبلی میں نقطہ ہائے اعتراض کا اس قدر مدلل اور مفصل جواب دیاکرتی تھیں کہ سوال اور اعتراض کرنے والے کی سو فیصد تشفی ہو جایا کرتی تھی اور سننے والے بھی ڈاکٹر صاحبہ کے استدلال کو سراہے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ پھر وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں چلی گئیں اور وہاں بطور وفاقی وزیر کئی محکموں کے قلمدان ان کی قلمرو میں شامل رہے۔خواتین کی سماجی تعمیر و ترقی سے ان کو خاص شغف تھا لیکن پرسوں جب میں نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے سنڈے میگزین کے ٹائٹل پر ان کی تصویر کے نیچے یہ جملہ لکھا ہوا دیکھا کہ : ’’بچپن ہی سے میرے سارے شغل مردانہ رہے‘‘ تو مجھے حیرت ہوئی کہ جس خاتون کو زنانہ مشاغل کی وزارت کا تجربہ تھا، ان کے سارے شغل مردانہ کیسے بن گئے؟

سچی بات یہ ہے کہ میں اخباروں یا رسالوں میں، جب بھی کسی سیاسی شخصیت کا انٹرویو دیکھتا ہوں تو اس کو کبھی نہیں پڑھتا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ سیاسی شخصیتیں ہزار بار ٹی وی سکرین پر آ آکر نہ صرف اپنا سیاسی آدرش بتا چکی ہوتی ہیں بلکہ اپنی ذاتیات کا حال احوال بھی برسرعام لا چکی ہوتی ہیں۔ مجھے کوئی ایسی سیاسی شخصیت یاد نہیں جس کی سوانح حیات پڑھنے کی ضرورت پیش آئے۔ یہ سوانح خود ان کی ’’منہ زبانی‘‘ یا ’’زبانِ غیر‘‘ سے بارہا سنی جا چکی ہوتی ہیں۔

میرے لئے سنڈے میگزین کا اس اتوار کا ٹائٹل ایک اور وجہ سے بھی قابلِ توجہ تھا۔ اس کے 90فیصد رقبے پر برطانوی پارلیمنٹ اور برطانوی وزیراعظم کی تصویر تھی۔ تھریسامے (May) اس ڈھلتی عمر میں بھی سراپا نسوانیت نظر آتی ہیں۔ بالوں کی تراش خراش، گلے میں سفید موتیوں کا نیکلس،مردانہ کوٹ کے نیچے زنانہ اسکرٹ۔۔۔ اور آنکھوں میں سرمے کی تحریر سے لے کر سرخ ہونٹوں پر تبسم کی لکیر تک ہر چیز ناظر کا دامنِ دل کھینچتی ہے۔ آج تو پاکستانی خواتین سیاستدانوں کو بھی آپ جب ٹی وی پر دیکھتے ہیں تو عش عش کر اٹھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی خواتین اپنے پاکستانی پہناوے کے ساتھ ساتھ وہ تمام ’’سازوسامان‘‘ ساتھ رکھتی ہیں جن کے بارے میں غالب نے کہا ہوا ہے:

پھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشق

سامانِ صد ہزارِ نمکداں کئے ہوئے

اس شعر کا خیال مجھے فردوس عاشق اعوان کے نام کے ایک حصے کو پڑھ اور سمجھ کر ہوا۔ لیکن تھریسامے کے عین بالمقابل فردوس عاشق اعوان کی تصویر لگانا میرے نزدیک ایک تو اجتماعِ ضدین کی ذیل میں آتا تھا اور دوسرے ان کی تصویر برطانوی پرچم کے عین سائے تلے لگائی ہوئی تھی۔ جس صحافی یا جس میگزین انچارج نے بھی فردوس عاشق کی تصویر برطانوی پرچم کے نیچے اور برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی تصویر برطانوی پارلیمنٹ کے ’’گھنٹہ گھر‘‘ کے نیچے لگائی ہے ان کو دیکھ لینا چاہیے تھا کہ تھریسامے ہرچند کہ برطانوی پارلیمان اور عوام کی وزیراعظم ہیں لیکن ان کی تصویر کا مقام (Placing) برطانوی پرچم کے نیچے ہونا کہیں بہتر تھا۔ کسی بھی پاکستانی خاتون سیاستدان کو انگریز کے جھنڈے کی چھاؤں میں Place کرنا ازبس زیادتی ہے اور دوسری زیادتی یہ کی گئی ہے کہ فردوس عاشق اعوان کے ’’سارے شغل مردانہ‘‘ والی سرخی ان کی تصویر کے نیچے لگا کر پڑھنے والوں کو چونکا دیا ہے۔ کسی بھی خاتون کے مشاغل اگر بچپن ہی سے مردانہ رہے ہوں تو وہ دائرۂ نسوانیت سے اگر باہر نہیں نکل جاتی تو کم از کم دائرے کے محیط پر بیٹھی نظر آتی ہے۔ الغرض مجھے اعتراف ہے کہ سنڈے میگزین کے اس ٹائٹل نے مجھے خلافِ عادت فردوس عاشق اعوان کا سارا انٹرویو از اول تا آخر پڑھنے پر مجبور کر دیا۔

یہ انٹرویو سوالاً جواباً نہیں لیا گیا بلکہ سوال کو بیانیہ (Narrative) کا ایک حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ اسلوب اگرچہ Taboo نہیں لیکن انٹرویو کی روایات سے بہت ہٹا ہوا ہے۔ اگر سوالاً جواباً ہوتا تو کہیں بہتر، واضح تر اور ذاتی (Subjective) سمجھا جاتا جبکہ اس انٹرویو میں ذات کو صفات (Objectivity) کے ساتھ منسلک و ملحق کر دیا گیا ہے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

میں فردوس صاحبہ کی بیباک گوئی کی داد دیتا ہوں وگرنہ اس انٹرویو میں ان کے نسوانی لبوں سے نکلے ہوئے یہ جملے واقعی مردانہ مشاغل کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں:

1۔ میں ہمیشہ اس بات کی قائل رہی کہ خواتین کو جنرل الیکشن میں مردوں کا مقابلہ کرکے پارلیمنٹ میں آنا چاہیے۔

2۔مرحوم والد پہلے دن سے مجھے پاکٹ منی میرے اپنے لئے نہیں دیتے تھے بلکہ وہ میرے ’’دوستوں‘‘ اور سہیلیوں کے لئے ہوتی تھی۔

3۔میری پرائمری ایجوکیشن ٹاٹ والے سکول ہی میں ہوئی۔ لیکن اس میں اہم بات یہ ہے کہ مجھے ایجوکیشن مینجمنٹ کا شروع ہی سے شوق تھا۔

4۔میرے دادا کا موقف یہ تھا کہ تم بچی کو ’’آوارہ‘‘ کرنے کے لئے شہر بھجوا رہے ہو۔

5۔مجھے کنگ ایڈورڈ کالج میں میرٹ پر داخلہ مل گیا لیکن مخلوط ذریعہ ء تعلیم کی وجہ سے فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں جانا پڑا۔

6۔میرا ارادہ تھا کہ میں ایم بی بی ایس کرکے نوکری نہیں کروں گی بلکہ اپنا ہسپتال بناؤں گی جہاں دوسرے ڈاکٹر ’’ میرے پاس ملازمت‘‘ کریں گے۔

7۔والد صاحب کے جو دوست اور احباب ملنے آتے تھے میں انہیں اپنے بھائیوں سے زیادہ خود ’’کمپنی دیا‘‘ کرتی تھی۔

8۔میر ی بہنیں میرے سامنے ہاتھ جوڑتی تھیں کہ مردوں میں بیٹھنے سے ’’باز آجاؤ‘‘۔

9۔سکول یا کالج کی کنٹین میں جاتی تو وہاں موجود لوگ کہا کرتے تھے کہ ’’گینگ‘‘ آگیا ہے کیونکہ میں کبھی تنہا کیفے ٹیریا میں نہیں گئی۔

10۔ہمیں ڈاکٹر ہونے کے باوجود ہسپتالوں میں پذیرائی نہیں ملتی تھی۔ جبکہ ایک ’’انگوٹھا چھاپ ایم پی اے‘‘ تیز رفتاری سے آتا تھا اور ایم ایس (MS)یا پروفیسر کے دفتر میں چلا جاتا اور ہم کئی گھنٹے باہر انتظار کرتے رہتے تھے۔

11۔ 2000ء میں مجھے ’’قابو‘‘ کرکے کزن سے شادی کروائی گئی۔ یہ خاندانی فیصلہ تھا۔ میرے خاوند اوورسیز پاکستانی ہیں اور میری خالہ کے بیٹے ہیں۔

12۔میرے خاوند کی ٹریننگ ’’اپنے لئے‘‘ جینا ہے جبکہ میر امشن دوسروں کے لئے زندگی گزارنا ہے۔

13۔ میں اپنی ذات کی نفی کرکے اپنے خاوند کے ساتھ ’’گزارا‘‘ کررہی ہوں۔ ان کا رویہ ’’ خود غرضانہ‘‘ ہے لیکن میری مجبوری والدہ کے فیصلے پر آمین ہے۔

14۔بچپن سے میرے سارے شغل ’’مردانہ‘‘ رہے۔ میری والدہ کو میرے ان اشغال سے خوب ٹینشن (Tension) ہوتی تھی۔

15۔والدین کا ہمیشہ یہ حکم رہا کہ جتنا چاہو مہنگا پہناوا پہنو۔ لیکن جسم دکھائی نہ دے۔ عورت پن میرا زیور ہے اور مجھے ایسا ہی لباس پسند ہے جو مجھے مستور رکھے۔

16۔پیپلز پارٹی میرا خاندان تھا اور ہے اور میں فرنٹ فٹ کی کھلاڑی ہوں۔

اگرچہ انٹرویو کرنے والوں نے ان سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ صاحبِ اولاد ہیں یا نہیں لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ان کی بھانجی ان کی لے پالک ہے جو اب Aلیول کا امتحان دے رہی ہے۔۔۔ انٹرویو نگاروں نے اور کئی اہم سوال بھی نہیں پوچھے۔ مثلاً جب وہ یہ کہتی ہیں کہ ان کے مشاغل میں سائیکلنگ، سپورٹس گیمز، کرکٹ اور فٹ بال کھیلنا (اور لڑکوں کے ساتھ کھیلنا) ان کی ہابی تھی تو ان میں اسلامی لباس کس طرح پہنتی تھیں۔ کیا چادر اور اوڑھنی میں مستور ہو کر ’’فرنٹ فٹ‘‘ پر کھیلتی تھیں یا سائیکلنگ کرتے ہوئے ’’ اوور کوٹ ‘‘ زیب تن کیا کرتی تھیں یا فٹ بال کھیلتے ہوئے سروسینہ کسی سعودی لباس میں ملبوس کرکے ’’بطور گول کیپر‘‘ صرف گول ہی میں کھڑی رہتی تھیں یا سنٹر فارورڈ، رائٹ آؤٹ یا لیفٹ آؤٹ کی پوزیشنوں پر جا کر فٹ بال کو کک لگایا کرتی تھیں؟ کیا لڑکوں میں کھیلتے ہوئے کئی بار مخالف ٹیم کے ارادی یا غیر ارادی طور پر کہنی مارنے سے ’’زمین بوس‘‘ ہونے کے مناظر سے بھی دو چار ہوئی تھیں یا نہیں؟۔۔۔ انہوں نے میل شاونزم کا ترجمہ ’’مرد مار سسٹم‘‘ کیا ہے اور خوب کیا ہے۔ لیکن کونسا معاشرہ ہے جو ’’مرد مار سسٹم‘‘ کا شکار نہیں؟ ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ یہ اصطلاح کس ’’ مرد‘‘ نے گھڑی تھی اور اس کے پیچھے اس کے کیا مقاصد تھے۔ ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے جو حضرت اقبال کا مولد بھی ہے اور ایک مردم خیز خطہ ہے۔ اقبال نے نسوانیت اور مقامِ نسواں پر جو اشعار کہے ہیں ان کا تعلق دل و نگاہ کی مسلمانی سے ہے جسم و بدن کی مسلمانی سے نہیں۔۔۔۔ دل و نگاہ مسلمان نہ ہو تو کوئی مسلمان، مسلمان نہیں رہتا۔

نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی

کہ حق نے دل کو کیا ہے نگاہ کا پیرو

حال ہی میں پیپلز پارٹی کی دیرینہ رفاقت کو ترک کرکے وہ نتھیا گلی کے ’’پُرفضا‘‘ مقام پر جا کر مشرف بہ پی ٹی آئی ہو چکی ہیں۔ لیکن انہوں نے اس انٹرویو میں اگرچہ بے نظیر بھٹو کی وفات کے ساتھ پیپلز پارٹی کی وفات کو بھی نتھی کردیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ :’’پیپلز پارٹی ان کا خاندان تھا اور ہے‘‘۔ اس لئے مشتری کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ سیالکوٹ میں قومی اسمبلی کی 5اور صوبائی اسمبلی کی11 سیٹیں ہیں۔ ان پر انتخابات ہونے والے ہیں۔ اگر فردوس صاحبہ کو اپنی پارٹی سے شکایات تھیں تو وہ چاربرس تک (2013ء تاحال) کیا سوچتی رہیں؟ زرداری اور بلاول نے ان سے رابطہ نہ رکھنے کی وجوہات کیا بیان کیں، ان کا جواب شائد کائرہ صاحب دے سکیں جو پی پی پی پنجاب کے صدر ہیں۔۔۔ ہفت روزہ زندگی کو آئندہ کسی انٹرویو میں یہ بھی سوال پوچھنا چاہئے کہ وہ وجہ یاوجوہات کیا تھیں جو فردوس عاشق اعوان کے ترکِ تعلقات کا باعث بنیں۔۔۔۔ سیاسیات میرا موضوع نہیں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جس طرح عمران خان کی تحریک انصاف کو آئندہ الیکشن میں جیتنے والی خواتین اور سیاست میں آزمودہ کار حضرات کی ضرورت سے اسی طرح بعض سیاسی شخصیتوں کو اپنے مستقبل کو ’’سنوارنے‘‘ کی فکر بھی ہے ۔ فردوس عاشق اعوان اپنے ذاتی گیسو سنواریں یا نہ سنواریں، سیاسی گیسو ضرور سنوار نے کی آرزو مند ہوں گی۔ اور میرے خیال میں یہی آرزو ’’ جیالا ازم‘‘ ترک کرنے کا باعث ہوئی ہوگی۔۔۔ وا للہ اعلم!

مزید : کالم


loading...