آخری عشرہ ، عیدکی تیاری اور خواتین کی مصروفیات

آخری عشرہ ، عیدکی تیاری اور خواتین کی مصروفیات

ماہ رمضان کا تیسرا عشرہ جو جہنم سے نجات کا عشرہ کہلاتا ہے،گزر رہا ہے۔عید کو ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔روزے کی سختی اور موسم کی شدت کے باوجودلوگوں کی حرکات و سکنات میں ایک خوشگوار تحریک ہے۔بازاروں میں گہما گہمی ہے اور مہنگائی کے خوف کے باوجودخریدو فروخت میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی۔مردوخواتین اوربچے بچیاں بازاروں کی رونق کاحصہ ہیں۔برانڈڈ پہناووں کی دستیابی کے باوجود درزیوں کی دکانوں پر بھیڑ دکھائی دیتی ہے۔نت نئے ڈیزائن تخلیق کیے جارہے ہیں،رنگوں کے امتزاج اور لباس کی تراش خراش پر پور ی توجہ مرکوز ہے۔ گو اس بار فیشن میں تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔مارکیٹ میں لمبی قمیضیں بہت کم دستیاب ہیں جب کہ ان کی جگہ شارٹ قمیضوں نے لے لی ہے۔لباس کے ساتھ ساتھ آرائش کی طرف بھی توجہ ہے۔پارلرز پر وقت لیا جارہا ہے اور بالوں کے ڈیزائن زیر غور ہیں ۔غرض یہ کہ ماہ صیام کے آخری عشرے میں عید کی بھرپور تیاریاں شروع ہو چکی ہیں ۔چوڑیوں کی خریداری عید پر پہنے جانے والے کپڑوں سے میل کھاتے رنگوں کے مطابق ہورہی ہے۔اس خدشے کے تحت کہ چاندرات کورش زیادہ ہو گا،خریداری عید سے پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔مرد حضرات کی ان تیاریوں میں اتنی شمولیت نہیں ہو تی جتنی خواتین کی نظر آتی ہے۔خواتین پران دنوں ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔سحری و افطاری کا اہتمام،گھر کی دیکھ بھال،بڑوں اور بچوں کی ضروریات کا خیال،عید کے تہوارکے تقاضوں کا احساس اور مہمانوں کے ورود اوران کی میزبانی کی فکر،ان باتوں میں وہ اپنا آپ بھولے رکھتی ہیں اور پھر عید سے چندہی روز قبل اپنی طرف توجہ دیتی ہیں۔سبھی کاموں میں توازن برقراررکھتے رکھتے تہوار کا دن آن پہنچتا ہے اور و ہ پھر اپنی ذات پر اپنے پیاروں کی ضرورتوں کو ترجیح دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو خواتین کی ان قربانیوں کا احساس رکھتے اورانہیں سراہتے ہوں۔ بہر حال زندگی اسی کانام ہے۔

ہماری خواتین نے زندگی سے خوب کندھا رگڑا ہے۔پریشانیوں اور مسائل سے الجھنے کے باوجود انہوں نے عورت ذات کی ہمت اور عظمت کا بھرم رکھا ہے۔ماہ رمضان میں وہ اپنے فرائض سے غافل نہیں رہتیں اور عید کی تیاریوں کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو بھی نہیں بھولتیں۔خوشحال گھرانوں کی خواتین فیشن کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہتی ہیں اور غریب طبقہ کی عورتیں جو کچھ انہیں میسر آتا ہے،اسی میں اپنی ضرورت پوری کرکے مطمئن اورشاداں ہوجاتی ہیں۔ ماہ رمضان کی خوشیوں کے بعد عید کی مسرتوں سے سبھی فیض یاب ہوتے ہیں۔

عید کی گہما گہمی صرف پاکستان ہی میں نہیں ہو تی بلکہ دُنیا کے ہر ملک میں جہاں مسلمان آباد ہیں،اس پُر مسرت تہوار کے فیوض و برکات اور راحتوں سے مستفیدہوتے ہیں۔اسلامی اورغیر اسلامی ممالک میں مسلمان نماز عید کے بعد گھروں میں روایتی میٹھے کے ساتھ نئے نئے پکوانوں کے تجربے کرتے ہیں۔عید کادن ایسامبارک دن ہے کہ دکھ درد،پریشانیوں اوررنجشوں کو وقتی طور پر بھلادیتاہے۔یہ دن سینوں میں ایسے جذبے رواں کرتا ہے جو روح کو طما نیت اور آسودگی مہیا کرتے ہیں۔

ماہ رمضان کے اس آخری عشرے میں فضا میں عبادتوں کی بہار کے ساتھ ساتھ آمد عید کی نوید کی خوشبو بھی شامل ہوتی ہے۔اس لئے بچوں سے لے کر بڑوں تک کے دل اس بہا ر اور اس خوشبو سے سرشار ہوتے ہیں۔دن روزے رکھ کر گزرتے ہیں جب کہ شامیں شاپنگ میں گزرتی ہیں۔دکانیں رات گئے تک کھلی رہتی ہیں جہاں آنے والے گاہک وقت کی بندش سے بے نیازہوتے ہیں۔ آخری عشرے میں روزوں کی سختی کا احساس کم ہوجا تا ہے اور طبیعت میں نرمی اور تازگی پیدا ہو جا تی ہے۔لیکن اس بار عید کی خوشیوں میں حزن و ملال بھی شامل ہے۔مقبوضہ وادی کشمیر میں غا صب ہندو فوجی ماہ صیام اور آنے والی عید سے بے پرواہ مظلوم کشمیریوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اُن بچوں،عورتوں اور بوڑھوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں جو اپنے حق کے حصول اور آزادی کی مانگ لیے بھوکے پیاسے سڑکوں پر نکلتے ہیں اور اپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھا کر گھروں کو لوٹتے ہیں۔

ہمیں اس عید پر بے بس کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو بھولنا نہیں چاہیے۔اپنی دعاؤں میں نہ صرف انہیں یاد رکھنا چاہیے بلکہ اُن کی آزادی کے لیے پروردگارکے حضور سر بسجود ہونا چاہیے۔بے شک اہل کشمیر ہمیشہ ہماری یادوں اور دعاؤں کا حصہ رہیں گے۔ہمیں یقین ہے کہ وہ عید جلد ہی آئے گی جب کشمیری مسلمان آزادی کی فضا میں مسجد حضرت بل اور مسجد شاہ ہمدان میں اپنے رب کا شکر ادا کریں گے۔ ***

مزید : ایڈیشن 1


loading...