نو سربازی عروج پر :خطرناک گروہ خواتیں استعمال کرتے ہیں

نو سربازی عروج پر :خطرناک گروہ خواتیں استعمال کرتے ہیں

 ہوائی اڈا ‘ ریلوے اسٹیشن ‘ جنرل بس اور ویگن اسٹینڈ جس جگہ بھی مسافر منزل مقصود پر جانے کے لیے اترتے اور سوار ہوتے ہیں وہاں پر نوسر بازوں کی اکثریت مسافروں کو لوٹنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے جن میں مسافروں کو نشہ آور جوس پلا کر لوٹنا ‘ مال و زر سے محروم کرنا ‘ اور اپنی دور کی رشتہ داریاں نکال کر قریب ہونے کا جھانسہ دینا وغیرہ شامل ہیں کچھ ایسا ہی گجرات کے جنرل بس اسٹینڈ پر واقعہ پیش آیا ایک نوجوان موٹر سائیکل پر کسی ضروری کام کے سلسلہ میں جا رہا تھا کہ لاری اڈا کے باہر سڑک پر کھڑی ایک خوبصورت دوشیزہ مہوش بی بی زوجہ مظہر اقبال مجو ‘کھڑی تھی جس نے مذکورہ نوجوان کو ہلکا سا اشارہ دیا نوجوان رکا ہچکچاہٹ محسوس کی قریب ہونے کی کوشش کی لڑکی نے جمپ لگائی اور موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور کہا کہ اسے کٹھالہ تک جانا ہے گاڑی نہیں مل رہی تھی اس لیے اس نے لفٹ لینے میں ہی عافیت تصور کی ہے جونہی مذکورہ نوجوان نے اسمال انڈسٹری اسٹیٹ کا علاقہ عبور کیا تو اچانک ایک گاڑی اور موٹر سائیکل ون ٹو فائیو پر چند افراد نے اسے روک لیا اسلحہ نکالا اور کہا مذکورہ عورت اسکی بیوی ہے تم اسے کہاں بھگا کر لے جا رہے ہو جس پر نوجوان نے اوسان خطا ہو گئے لڑکی نے بچاؤ بچاؤ کا واویلا شروع کر دیا اسی اثنا میں ایک نوجوان نے اپنا پولیس کارڈ نکالا اور کہا کہ وہ پولیس ملازم ہے جو زیر حراست ہو تم نے ایک شادی شدہ خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش کی ہے ایسے واقعات گجرات کے گلی کوچوں ‘ محلوں ‘ لاری اڈا ‘ بس اسٹینڈ ‘ ویگن اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشن پر آئے روز رونما ہو رہے ہیں مگر کسی نے لب کشائی برائے امداد رسی نہیں کی یہی وجہ ہے کہ نوسر باز دن بدن مضبوط اور خوشحال ہوتے چلے جا رہے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ برائی کو بزور طاقت یا زبان سے یا پھر دل میں برا ضرور کہنا چاہیے آج اگر کوئی لوٹا جا رہا تھا تو کل کسی اور کی باری ہے کسی ایک کو تو صدائے احتجاج بلند کرنا ہو گی نوسر بازوں کا رابطہ دیگر نوسر بازوں سے بھی ہوتا ہے اور وہ شکار ہتھے نہ چڑھنے والے کے بارے میں اگلے نوسر باز کو خبردار کر دیتے ہیں مذکورہ نوجوان کی جامہ تلاشی لی گئی جیب میں سے مقامی فیکٹریوں میں کام کرنے کے بعد حاصل ہونیوالی ماہانہ تنخواہ ‘ سام سانگ کا موبائل وغیرہ سب کچھ چھین لیااور دو نوجوان اس کا موٹر سائیکل لیکر فرار ہو گئے چند فرلانگ کا فاصلہ میلوں پر محیط ہو گیانوجوان نے نوسر بازوں کے جانے کے بعد واویلا مچایا مگر بے سود ‘ مذکورہ نوجوان کا موبائل جو ڈاکوؤں نے چھین لیا تھا پر حفظ ماتقدم کے طور پر مذکورہ نوجوان نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر کال کی تو رنگ چلی گئی تھانہ لاری اڈا کے انچارج امجد گجر ایس ایچ او نے فوری طور پر کرائم فائٹر ذو الفقار احمد اے ایس آئی کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ان ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرے ذو الفقار احمد کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ اسے افسران بالا نے جو بھی ٹارگٹ دیا اس نے ہٹ کیا اور اس نے طویل عرصہ مختلف چوکیات میں بطور انچارج فرائض منصبی ادا کیے نے لڑکی کی آواز میں مذکورہ ڈاکوؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج تو تمہیں تنخواہ ملنی تھی اور تم نے مجھے گفٹ لیکر دینے تھے مگر تم بہت جھوٹے ہو مجھ سے یونہی پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہو ڈاکوؤں نے لڑکی کی طرف سے ان خیالات کے اظہار پر ملنے کا عندیہ دیا دوبارہ لاری اڈا ملاقات کے لیے طے ہوا سادہ پارچات میں ذو الفقار احمد اے ایس آئی اپنی نفری کے ہمراہ موجود تھا ڈاکو چھینے جانے والے موٹر سائیکل کے علاوہ کرایہ پر حاصل کی گئی گاڑی پر موقع پر پہنچے تو انہیں دبوچ لیا گیا ڈاکوؤں کو یہ وہم و گمان بھی نہ تھا کہ جس ہتھیار (یعنی لڑکی) کو وہ لوگوں کو لوٹنے کے لیے استعمال کر رہے تھے پولیس بھی اسی آواز میں گفتگو کر کے انہیں ٹریپ کر سکتی ہے بعد ازاں تفتیش کے دوران تھانہ لاری اڈا پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزمان میں فیاض احمد ولد بشیر احمد سکنہ منڈی بہاؤالدین حال مقیم لالہ زار کالونی ‘ مظہر اقبال عرف مجو سکنہ اسلام نگر ‘ رمیض علی ولد ظفر اقبال جلالپور جٹاں (سابقہ کانسٹیبل)محمد عثمان ولد محمد ارشد سکنہ لاہور حال مقیم جلالپور جٹاں ‘ مہوش بی بی زوجہ مظہر اقبال مجو روپوش ‘ ہے ملزمان نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے چالیس ہزار روپے ماہوار پر جلالپو رجٹاں سے کرایہ پر گاڑی حاصل کر رکھی ہے ایک پارٹی گاڑی دوسری موٹر سائیکل پر اپنے شکار کا پیچھا کرتی تھی اگر کوئی اکیلے میں خاتون مل جائے تو اسے زیورات ‘ جمع پونجی چھیننے کے لیے گاڑی سے بہتر کوئی سواری نہیں اور اگر کوئی تنخواہ دار مل جائے تو اس کے ساتھ لڑکی کو لفٹ دیکر بٹھانے میں کوئی حرج نہیں آج تک انہوں نے ناکامی کا منہ نہیں دیکھا بلکہ بعض اوقات انہیں توقع سے زیادہ مال ہتھے لگتا ہے لوگ اپنی عزت بچانے کے لیے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں مگر دوسروں کی عزت سے کھیلنے کے لیے مال و زر کا استعمال کرتے ہیں تفتیشی آفیسر ذو الفقار احمد نے بتایا کہ تقریبا دس یوم قبل ملزمان ملک مظہر ‘ ملک فیاض ‘ رمیز بٹ ‘ مہوش بی بی نے ایک کار اور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر رات ڈیڑھ بجے کے قریب فیکٹری ایریا کے قریب دو لڑکوں کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا اور ہزاروں روپے کی نقدی و موبائل فونز لیکر فرار ہو گئے ‘اس سے قبل ملک مظہر نے اپنے گینگ کے ساتھ ملکر گڑھی احمد آباد میں دن یہاڑے ایک چالیس سالہ شخص سے ہزاروں روپے چھین لیے ملک مظہر گینگ نے رامتلائی چوک میں شادیوال روڈ پر پیدل سفر کرنے والے شخص کو رات دو بجے کے قریب اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا اور ہزاروں روپے چھین کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے لالہ موسی میں ریلوے روڈ پر سر شام ایک خاتون سے طلائی زیورات بھی چھینے اس گینگ میں شامل خاتون ملزم مہوش بی بی نے راستہ پوچھنے کے بہانے خاتون کو روکا اور دیگر ملزمان نے اس خاتون سے زیورات و نقدی چھین لی ملزمان نے ضلع منڈی بہاؤالدین کی حدود میں بھی ڈکیتی کی وارداتیں کیں ملزمان نے پھالیہ میں سیم نالہ کے قریب سر شام ملزمان نے دو لڑکوں کو ہزاروں روپے کی نقدی سے محروم کر دیا اس واردات میں بھی وہی طریقہ کار اپنایا گیا مہوش بی بی نے ان لڑکوں کو باتوں میں الجھایا اور دیگر ملزمان نے پہنچ کر انہیں لوٹ لیا پھالیہ میں ہی جی ٹی روڈ پر کٹھیالہ شیخاں کے قریب ملزمان نے خود کو پولیس ملازم ظاہر کر کے دو موٹر سائیکل سواروں کو روکا اور لفٹ حاصل کی ویرانے میں لے جا کر ہزاروں روپے چھینے اور فرار ہو گئے ملزمان نے بھمبر نالہ کے قریب تھانہ رحمانیہ کے علاقے میں بھی ایک موٹر سائیکل سوار کو ہزاروں روپے کی نقدی سے محروم کیا ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر لاکھوں روپے مالیت کا سامان‘ دو پستول ‘ دو سونے کی انگوٹھیاں ‘ تین موبائل فونز ‘ ایک گھڑی ‘ ہزاروں روپے کی نقدی ‘ ایک موٹر سائیکل اور ایک گاڑی بھی برآمد کی گئی ہے مذکورہ ملزمان کے خلاف مختلف افراد جن میں اکمل خان ‘ اسد علی نے ڈکیتی کے مقدمات درج کرائے ہیں ڈی ایس پی سٹی عرفان الحق سلہریا جو اب ڈی ایس پی صدر کا عہدہ سنبھال چکے ہیں نے مذکورہ چھاپہ مار ٹیم کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایس ایس پی سہیل ظفر چٹھہ نے بھی تھانہ لاری اڈا کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...