شیخوپورہ کے نواح بکھی میں روح فرسا واقعہ

شیخوپورہ کے نواح بکھی میں روح فرسا واقعہ

دنیابدلی، نظام بدلے، ماہ و سال بدلے، نام بدلے حتیٰ کہ اقوام کی پہچان بدلی، جاہلیت کی جگہ علم نے لے لی، جاہ و جلال کی جگہ عجز و انکساری پروان چڑھی مگر نہیں بدلے تو عورت کے حالات نہیں بدلے ، وہ کل بھی رسومات کی زنجیروں کی قیدی اور ہوس پرستوں کے نشانے پر تھی اور آج بھی اسے امان حاصل نہیں،کہتے ہیں اقوام مہذب ہورہی ہیں گزرتے وقت کیساتھ ساتھ انسان میں سوجھ بوجھ بڑھ رہی ہے، سخت دلی کی جگہ رحم دلی لے رہی ہے کمزور کی مدد اور ظالم کا راستہ روکا جارہا ہے انصاف کا بول بالا ہورہا ہے اور جبر آخری سانسیں لے رہا ہے مگر زمانے کا چلن بتاتا ہے کہ نہ یہ دعوے حقیقت پر مبنی ہیں نہ ایسی کوئی امید باندھی جاسکتی ہے کہ معاشرہ اپنی اصل روح کی طرف لوٹ رہا ہے کیونکہ حالات ان دعوؤں کی کھلی نفی کرتے دکھائی دے رہے ہیں، ظلم و جبر کا بازار آج بھی گرم ہے، حقدار کی حق تلفی عام ہے، کمزور کو دبایا جارہا ہے، انصاف کا حصول ناممکن خیال کیا جارہا ہے، متاثرین داد رسی سے محروم ہیں جبکہ مجرم محترم اورمظلوم بے توقیر ہیں مگر سچ یہ ہے کہ معاشرے دعوؤں سے نہیں دلیل سے پہچان حاصل کرتے اور عمل سے اپنی شناخت بناتے ہیں مگر ایک ایسا معاشرہ جس میں خواتین کی تذلیل معمول بن جائے، زیادتی اور جبر کی وارداتیں عام ہوں اور یہ کہ انصاف کا حصول ناممکن دکھائی دے وہ معاشرہ کن انسانی اقدار کا دعویدار اور کن اصلاحات کا حقیقی حامل ہوسکتا ہے؟، یہ سوال تب مزید گہرا اور جواب طلب ہوجاتا ہے جب مظلوم بے آسرا اور بے وسیلہ ہو حالات تو یہ ہیں کہ حوس پرست معاشرتی ابتری اور جرم و سزا کے فقدان کے باعث نہ جانے کتنی مظلوم خواتین سے بد اخلاقی کی جاتی ہے جن میں سے بعض معاشرے کے طعنوں سے بچنے کی خاطر مجبوراً اس ظلم پر خاموش رہتی ہیں اور جو بعض متاثرہ خواتین یا لڑکیاںآواز اٹھاتی ہیں انہیں جس معاشرتی بے حسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کی ایک دردناک مثال ڈیرہ ظفر شاہ بشمولہ بھکھی میں پیش آنے والا اجتماعی بداخلاقی کا واقعہ ہے جس میں با اثر گھرانے کے نہ صرف دو اوباش نوجوانوں بلکہ ان میں سے ایک کے باپ نے بھی 13سالہ یتیم لڑکی صوبیہ جس کے گھر سے تمام افراد ذہنی معذوری کا شکار ہیں سے گن پوائنٹ پر بداخلاقی کی اور ایک دوبار نہیں بلکہ عرصہ چھ ماہ تک اسے ڈراتے دھمکاتے مزاحمت پر تشدد کرتے اور درندگی کا نشانہ بناتے رہے، ظلم کی یہ داستان تھانہ بھکھی کے علاقہ ڈیرہ ظفر شاہ میں رقم کی گئی جہاں انتہائی غریب بشیر محمد نامی شخص جو بغیر چاردیواری والے دو کمروں پر مشتمل تین مرلہ کے گھر میں اپنی نیم پاگل بیوی نذیراں بی بی، دو ذہنی معذور بیٹوں ندیم ، شبیر اور 13سالہ بیٹی صوبیہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھا جو کچھ عرصہ قبل فوت ہوگیا جس کے بعد اس گھرانے کی گزر بسر حالات کے رحم و کرم پرآگئی اور چونکہ ماں نیم پاگل اور دونوں بھائی ذہنی معذوری کا شکار تھے تو سب کی دیکھ بھال کی ذمہ داری 13سالہ صوبیہ پر آگئی اور گزر بسر کیلئے گھر میں اناج کی حالت یہ تھی کہ صبح کی کھالی تو شام کو پیٹ بھرنے کی فکر لاحق رہتی ان حالات میں گاؤں کے بعض درد دل رکھنے والے لوگ مدد تو کرتے مگر اس حد تک کہ یہ گھرانہ ایک دو وقت پیٹ بھر سکے، ان حالات میں یتیم صوبیہ نے اپنے ذہنی معذور بھائیوں اور ماں کیلئے کھانا بنانے اور کھلانے کی ذمہ داری نبھانا شروع کردی مگر اس گھرانے کے حالات دن بدن ابتر ہوتے گئے جبکہ عرصہ چھ ماہ قبل اسی علاقہ کے رہائشی حبیب نامی بااثر شخص کا بیٹا وحیداور حبیب کے دوسرے بھائی حنیف کا بیٹا اعجاز دونوں نے اس قسمت کے ستائے گھرانے کے رہائشی کمروں کے سامنے صحن کے احاطہ میں مویشی باندھنے شروع کردیئے جن کی نگرانی کیلئے وہ رات انہیں کے قریب سوجایا کرتے مگر ایک رات جب صوبیہ ، اسکی ماں اور بھائی نیند میں تھے تو اوباش ملزمان وحید اور اعجاز 13سالہ یتیم صوبیہ کو چارپائی سے اٹھا کر زبردستی کمرہ میں لے گئے اور ایک نے اس کا منہ ہاتھ سے دبا کر اسکی آواز دبا دی پھر یہ شیطانی کھیل وہ دونوں باری باری کھیلتے رہے اور مزاحمت پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور اسے دھمکی دی اگر کسی کو بتایا تو تمہارے سمیت تیری ماں اور بھائیوں کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیں گے اور تمہارا کوئی پرسان حال بھی نہ ہوگا، موت کے خوف سے صوبیہ نے خود پر ہونے والے اس ظلم و جبر کا احوال کسی کو بیاں نہ کیا اور چپ سادھ لی وہ کہتی بھی تو کسے کہتی ،معذور ماں اور دوبھائی جو اس کی کل کائنات تھے وہ ذہنی معذوری کے باعث خود سے بے خبر تھے تومعصوم صوبیہ کیلئے بھلا کیا کرپاتے مگر صوبیہ کی یہ خاموشی ملزمان کے حوصلوں کو تقویت دینے کا باعث ثابت ہوئی اور ملزمان جب موقع ملتا صوبیہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالتے جبکہ اس ستم کا سلسلہ عرصہ چھ ماہ تک چلتا رہا اور ملزمان اسے ڈرا دھمکا کر باری باری اس سے بد اخلاقی کرتے رہے جس سے تنگ آکر صوبیہ نے ہمت کرکے ملزم وحید کے والد حبیب کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا جس نے اپنی اولاد کو سمجھانے کی بجائے درندگی کی شکار 13سالہ صوبیہ کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کردی اور لاتوں گھونسوں سے شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دھکے دیکر اپنے گھر سے باہر نکال دیا اور دھمکی دی کہ اگر تم نے زبان کھولی تو تمام خاندان کو عبرت کا نشان بنادیا جائے گااور اس واقعہ کے باعث جب صورتحال کا ادراک بعض اہل علاقہ کو ہوا تو صوبیہ نے تمام روداد اپنے رشتہ دار منیر حسین کو سنادی جس نے بااثر شخص حبیب سے اس حوالے سے بات کی جس نے منیر حسین کو تو واقعہ کی تردید کرکے واپس بھیج دیا مگر 17-18مئی کی درمیانی شب ملزم حبیب صوبیہ کے گھر آ گھسا اورصوبیہ کو بلا کر ننگی گالیاں دیں اور پھر سے دھمکایا اور اسے کمرہ میں لے گیا جہاں وہ شیطانی کھیل خود بھی کھیل ڈالا جو اس کا بیٹا اور بھتیجا گزشتہ چھ ماہ سے معصوم صوبیہ کی عصمت سے کھیل رہے تھے ، اس واقعہ کے بعد صوبیہ نے ٹھان لی کہ اب وہ کسی صورت خاموش نہیں بیٹھے گی اور خود پر جاری اس ظلم پر آواز اٹھائے گی مگر پورے گاؤں میں اس مظلوم خاندان کی داد رسی کیلئے کوئی تیار نہ تھا جبکہ ملزمان کے رشتہ داروں نے چند سکوں کا لالچ دیکر مظلومہ کو منہ بند رکھنے کا کہا جبکہ صوبیہ کے داد رسی کیلئے تھانہ جانے پر ملزمان نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے صوبیہ کے رشتہ دار منیر حسین کو مدعی بنا کر تھانہ بھکھی میں درخواست دیتے ہوئے دونوں مرکزی ملزمان کو چھوڑ کر ملزم حبیب کے خلاف زیادتی کی کوشش کا مقدمہ درج کروا دیا جس پر پولیس نے کسی بھی ملزم کو گرفتار نہ کیا اور نہ ہی لڑکی کا کوئی میڈیکل کروایا گیا جس پر صوبیہ نے ایک درد دل رکھنے والے مقامی رہائشی معمر شخص محمد بوٹا کی مدد سے عدالت سے رجوع کیا جبکہ عدالت نے تمام احوال کو سامنے رکھتے ہوئے صوبیہ کے میڈیکل کی ہدایت جاری کردی جس کی بناء پر جب صوبیہ کا ڈاکٹرز نے میڈیکل کیا تو اجتماعی زیادتی ثابت ہوگئی جس کی تصدیق میڈیکل رپورٹ میں کردی گئی جس کی ایک کاپی متعلقہ تھانہ بھکھی پولیس کو دیتے ہوئے صوبیہ نے اندراج مقدمہ کی درخواست بھی دی جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ اس کے رشتہ دار منیر حسین کی طرف سے دی گئی درخواست کو وہ مسترد کرتی ہے اور از خود درخواست دیتے ہوئے حقائق کی روشنی میں ملزمان کے خلاف کاروائی کی اپیل کرتی ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے کے مصداق قابل تحسین امر یہ ہے کہ جونہی متاثرہ صوبیہ پر ظلم کی داستان ڈی پی او سرفراز خان ورک کے گوش گزار ہوئی تو انہوں نے فوری طور پر صوبیہ اور اسکی والدہ کو اپنے دفتر بلا کر سارا واقعہ خود سنا اور انہیں کاروائی کی یقین دھانی کرواتے ہوئے تھانہ بھکھی پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی جنہوں نے ان احکامات کی بجا آوری کرتے ہوئے تینوں ملزمان اعجاز ،وحید اور اسکے والد ملزم حبیب کو گرفتار کرلیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے جبکہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے بعض سماجی فلاحی ادارو ں نے بھی صوبیہ اور اسکے اہلخانہ کی کفالت کا ذمہ اٹھانے کی غرض سے اس مظلوم خاندان سے روابط شروع کردیئے ہیں جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر اس حوالے سے مخلصانہ کوششیں کی گئیں تو نہ صرف مظلوم صوبیہ کو انصاف ملے گا بلکہ اسکے اہلخانہ کی کفالت کا بھی موثر بندوبست ممکن ہوسکے گی۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...