شہریوں سے بدتمیزی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معاف نہیں کرتا

شہریوں سے بدتمیزی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معاف نہیں کرتا

ایس پی ما ڈ ل ٹا ؤ ن اسما عیل کھا ڑ ک نے روزنا مہ پا کستان کے سا تھ ایک خصو صی نشست کے دوران بتا یا ہے کہ وہ جنوبی پنجا ب کے ضلع بہا ولپور میں جو ن 1982میں ایک زمیندار گھر نے میں پیدا ہو ئے ۔وہ ایک زمیندارکے فر زند ہیں ۔ ان کے وا لد محتر م کا نا م چو ہدری عبد المجید کھا ڑک ہے انہو ں نے اپنی ابتدا ئی تعلیم عا م بچو ں کی طر ح اپنے علا قے تحصیل بہا ولپور کے گو رنمنٹ ہا ئی سکو ل ڈیرہ بکھا سے حا صل کی ہے ۔ انہو ں نے سی ایس ایس کے امتحا ن میں کا میا بی کے بعد 2009میں محکمہ پو لیس کو جو ائن کیا ۔وہ اس سے قبل د یگر صو بو ں میں بھی تعینا ت ر ہ چکے وہ 36 ویں کا من کے پو لیس افسرجبکہ پنجا ب میں ان کے دیگر بیج میٹس میں ڈی پی او اٹک زاہد مروت،ایس پی کینٹ را نا طا ہر الر حمن۔ایس پی انو سٹی گیشن سو ل لا ئن حسنین حیدر،ایس پی سکیو رٹی عبا دت نثار، ایس پی انو سٹی گیشن سو ل لا ئن میڈ م شائستہ،ایس پی عما رہ اطہراور ایس پی صدر رضوان عمر گو ند ل شا مل ہیں۔ ہیں سی سی پی اواور ڈی آئی جی آپریشزکی ہدا یت پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن اور مظلوم کو انصاف اپنی ذمہ داری سمجھتا ہو ں ۔سفید پو ش خا ندا ن سے تعلق اور پو لیس میں کا م کرنا اپنا عزا زسمجھتاہو ں ، پنجا ب کی انہی سڑ کو ں پرعا م نوجوانوں کی طر ح بچپن گزارا ہے اور پنجا ب میں ہی اعلی تعلیم حا صل کی ہے ۔ والد ین نے بڑے پیا ر لا ڈ سے پا لاہے ۔ اپنے کما نڈر کی ور کنگ سے متا ثر ہو کر دن را ت محکمہ میں ایک جذبے کے تحت کا م کر رہا ہو ں ،ما ڈل ٹا ؤن ڈویژن5سر کلزپر مشتمل اور اس میں 12تھا نے ہیں ۔ لا ء اینڈ آرڈر کی ڈ یو ٹی اور اس ڈویژن میں سب سے ذیا د ہ سر کا ری ہسپتا ل ہو نے سمیت پو ش اور دیہا تی علا قے کی وجہ سے ہمہ وقت چو کس ر ہنا پڑھتا ہے ۔انہو ں نے بتا یا کہ۔ لاہور میں کا م کرنا د یگر اضلا ع سے کا فی مختلف ہے ۔اس کے علاقہ میں جہا ں امن واما ن کو کنڑول کر نے کے لئے سیکورٹی پر ہر وقت نظر ر کھنا پڑھتی ہے وہا ں اس کے علاقہ میں چند ایک تھا نے ایسے بھی ہیں جہا ں سوشل کرا ئم کا بھی انہیں ہر وقت سامنا رہتا ہے ۔ ایس پی کے مطا بق ظالم کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا اپنی اولین ذمہ دار ی سمجھتا ہو ں ۔علاقہ کو امن کا گہوارہ بنا نے کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں ،جس کے لئے وہ خود اور ماتحت عملہ ہر دم تیا ر ر ہتا ہے ۔علاقے میں پولیس کوسختی سے گشت کا حکم دے رکھا ہے جس سے چوری وڈکیتی کی واداتوں میں کافی حد تک کمی بھی واقع ہوئی ہے ۔عوام الناس کو درپیش مسائل کے حل کے لئے 24گھنٹے انکے دروازے کھلے ہیں ۔لوگوں کے ساتھ ہتک امیز رویہ اور ناروا سلوک کے حامل پولیس اہلکاروں کے ساتھ کسی صورت بھی نرمی نہیں برتی جاتی بلکہ انکے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔ ایس پی ما ڈ ل ٹا ؤن اسما عیل کھا ڑ ک نے بتایا ہے کہ رمضا ن المبار ک کا مقد س مہینہ اپنی بر کا ت کے سا تھ جا ری و سا ر ی ہے ۔ سی سی پی او اورڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کی ہدایت پرپولیس شہر یوں کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور تمام افسران و اہلکار دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ملک دشمن عناصر کے خلاف جنگ میں عوام کا تعاون کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ افطا ری اور سحر ی کے موقع پر فول پروف حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور مساجد وا مام بارگاہوں میں آنے والے تمام افراد کو جسمانی تلاشی کے بعدداخلے کی اجازت دی جا تی ہے۔ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے شہر بھر میں 7ہزار سے زائد اہلکار فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ تمام ڈویژنل ایس پیز اپنے علاقہ جات میں مساجدو امام بارگاہوں کا دورہ کر کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ ڈولفن و پولیس رسپانس یونٹ کے جوانوں نے بھی حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے شہر کی اہم شاہراؤں پر گشت شروع کر رکھا ہے

انھو ں نے سی سی پی او اورڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کی ہدایت پر رمضان المبارک کے دوران سکیورٹی کے فول پروف حفاظتی انتظامات کیے ہیں جس کیلئے شہر بھر میں12 ہزار سے زائد جوان مساجد و امام بارگاہوں کی سکیورٹی کیلئے تعینات کئے جا گئے ہیں۔ شہر کی 3 ہزار سے زائد مساجد کو 3 کیٹیگریز A،B اور C میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نفری کی تعیناتی بھی کیٹیگری کے لحاظ سے کی گئی ہے۔ مساجد و امام بارگاہوں کی چھتوں پر سپیشل کمانڈوز کو تعینات کیا گیاہے۔ ہر نمازی کو 3 حصار میں جسمانی تلاشی کے بعد مسجد یا امام بارگاہ میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔ لاہور پولیس نے سحری ، افطاری ، آخری عشرہ میں اعتکاف ، دسترخوانوں، رمضان بازاروں اور عید کے نزدیک مارکیٹوں کیلئے خصوصی سکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے۔ کیٹیگری A کی مساجد و امام بارگاہوں کو ڈولفن اسکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ کا کور دیا جا رہا ہے جبکہ B اور C کے گرد بھی موئثر گشت کویقینی بنایا گیاہے۔ رمضان المبارک کے دوران سکیورٹی و ضابطہ اخلاق کے SOP پر مکمل عملدرآمد کروایا جا رہا ہے ۔ اور اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ مساجد و امام بارگاہوں کے منتظمین کواعتماد میں لینے کے بعد سکیورٹی کے بارے میں کوئی بھی تبد یلی یا فیصلہ کیا جائے۔ رمضان المبارک کے دوران علمائے کرام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ شہر کے تمام مذہبی تہواروں کے دوران علمائے کرام نے لاہور پولیس کا ساتھ دیا ہے اور امن و امان کی فضاء برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ تمام ڈی ایس پیز سے لے کر ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقہ جات میں موجود علمائے کرام اور مساجد کی انتظامیہ کے ساتھ مشترکہ ملاقات کر کے انتظامات کو حتمی شکل دیں۔ انھو ں نے بتایا کہ ڈی آئی جی آپر یشن پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں علمائے کرام کے ساتھ رمضان المبارک کے حوالہ سے ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کر چکے ہیں ۔ اس موقع پر ایس پی سکیورٹی عبادت نثار، ایس پی ہیڈ کوارٹرز عاطف نذیراور علمائے کرام میں مفتی انتخاب احمد،صاحب زادہ پیر سید محمد عثمان نوری، مفتی محمد عمران حنفی، علامہ مشتاق حسین جعفری، سید علی مہندی شاہ، خواجہ بشارت حسین کربلائی، آغا شاہ حسین قزلباش، مولانا عبدالروف فاروقی، قاری حکیم محمود الحسن توحیدی، مولانا فصیح الدین، مولانا شکیل الرحمن ناصر، مولانا محمد نعیم، مولانا بشیر سلفی، بابو لطیف، ڈاکٹر منوہر چاند(ہندو)، چوہدری عامر صدیق اور ملک شاہد سلیم خان جدون بھی مو جود تھے ۔انھو ں نے بتا یاکہ لاہور پولیس پولیس لائنز میں رضا کاروں کی باقاعدہ تربیت کروائی گئی ہے جس میں ان کو جسمانی تلاشی، واک تھرو گیٹ کا استعمال، میٹیل ڈیٹیکٹر و دیگر آلات کے ساتھ ساتھ فائرنگ رینج میں پریکٹس کے ہنر سکھا ئیں گئے ہیں۔ انھو ں نے کہا کہ علماء اکرام کی رمضان المبارک میں بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد بین المسلیمین اور اتحاد بین المذاہب میں اہم کردار ادا کریں اور لاہور پولیس کا ساتھ دے کر دشمن کے ناپاک ارادے خاک میں ملائیں۔ انھو ں نے بتا یا کہ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے کہا ہے کہ عید الفطر سے پہلے ریکارڈ یافتہ اشتہاریوں کو گرفتار کرنے کی مہم تیز کی جائے۔ تھانوں میں ٹارگٹ آفنڈرز کی تازہ فہرستیں بھجوادی گئی ہیں جن پر روزانہ کی بنیاد پر ریڈ کریں تاکہ رمضان المبارک میں امن و امان کی فضاء برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جرائم کی شرح میں بھی کمی لائی جاسکے۔ لاہور پولیس گذشتہ سال کی نسبت اس بار رمضان المبارک کی سکیورٹی میں زیادہ سے زیادہ دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے تاکہ رمضان المبارک سے چاند رات تک حفاظتی انتظامات میں کوئی کمی نہ رہے۔ تمام افسران گذشتہ سال رمضان المبارک میں سب سے زیادہ جرائم والے مقامات کی نشاندہی کر کے فہرستیں تیار کر چکے ہیں۔ تاکہ ان مقامات پر زیادہ سے زیادہ موئثر گشت اور ضرورت پڑنے پر ناکہ بندی کی جائے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی سکیورٹی ہائی الرٹ رکھی گئی ہے، جس کی مانیٹرنگ سیف سٹی کے کیمرے بھی کرر ہے ہیں۔ جن مقامات پر رمضان بازار ، دسترخوان یا پھرسحری و افطاری کے مخصوص انتظامات ہیں وہاں انتظامیہ سے مل کر ہر چیز کو فائنل کر نے کا حکم دیا گیا ہے ۔ رمضان المبارک کے دوران ہر ڈویژن کو اضافی نفری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صبح و شام وارداتوں کو کنٹرول اور کمی لانے کیلئے ڈولفن اسکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ کے جوان مختلف اوقات میں گشت کررہے ہیں۔شہر میں غیر قانونی اسلحہ ، منشیات فروشی اور جوئے کے اڈوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا گیا ہے اور جہاں سے غیر قانونی اسلحہ یا منشیات آرہے ہیںیاآگے فروخت ہورہے ہیں ان کے اصل ملزمان تک سراغ لگا کر انھیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ رمضان المبارک سے پہلے ہی تمام ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز نے اپنے علاقے کی مساجد و امام بارگاہوں کے منتظمین سے ملاقات کر کے سکیورٹی معاملات طے کر لیے تھے۔ اب اشتہاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا گیا ہے اور جو اشتہاری متحرک ہیں ان کی فہرست تیار کرکے ریڈکیا جا رہا ہے۔ نامکمل مقدمات کے چالان مکمل کروانے۔ گلی محلوں میں آنے والے نئے کرایہ داروں کی رجسٹریشن کا عمل تیز کر نے کا حکم ہے۔ انھو ں نے بتا یا کہ در جنو ں منشیات فروشوں سمیت دیگر درجنوں جرائم پیشہ افراد کو جیل بجھوا یا گیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ علا قہ میں جرا ئم کی رو ک تھا م اور منشیا ت فرو شو ں کے خلا ف کر یک ڈا ؤ ن جا ر ی ر ہے گا ۔ اپنی تعینا تی کے دوران در جنو ں منشیا ت فرو ش ا غوا ء اور د یگر جرا ئم میں ملو ث ملز ما ن کے خلا ف مقد مات در ج کئے گئے ہیں اور ان میں سے متعد د ا فرا د کو گر فتا رکیا گیا ہے ۔بدنام زمانہ کئی منشیا ت فرو شوں کو گر فتا ر بھی کیا گیا جو کہ علاقے میں چر س ہیرو ن اور شرا ب فرو شی مکروہ دھندہ کرنے میں مصروف تھے اور نو جو ان نسل کی ز ند گیوں سے کھیل ر ہے تھے ۔ پو لیس افسرا ن کو اس با ت کا خیا ل رکھنا چا ہیے کہ یہ عہدہ ان کے پا س ایک اعزاز ہے انھیں ہمیشہ دیا نت داری اور جا نفشا نی سے کا م کر نا چا ہیے۔ان کا کام مثا لی ہو گا تو ان کی آخر ت بھی اچھی ہو گی اورآنیو الی نسلیں بھی انھیں یا د رکھیں گی انھو ں نے ایک تا ریخی واقعہ بیان کر تے ہو ئے کہا کہ

سلطان محمود غزنوی نے دنیا میں تینتیس 33 سال حکومت کی اور اس وقت کا دنیا کا شجاعت اور دنیا پر اثر و رسوخ رکھنے والا دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا۔ پہلے نمبر پر چنگیز خان تھا دوسرے نمبر پر محمود غزنوی تھا تیسرے نمبر پر سکندر یونانی تھا چھوتھے پر تیمور لنگ تھا اور یہ دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا سلطان محمود غزنوی۔ 410 ہجری میں سلطان محمود غزنوی کی وفات ہوئی اور دنیا پر تینتیس سال حکومت کی ہے یہ واقعہ سچا اور انفرادی حثیت رکھتا ہے کہ 1974 میں شہر غزنوی میں زلزلہ آیاجس سے سلطان محمود غزنوی کی قبر پھٹ گئی اور مزار بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تو اس وقت کے افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم نے دوبارہ مزار کی تعمیر نو کی اور قبر کو مرمت کروایا۔ تعمیر کے مقصد کے لئے قبر کو پورا کھول دیا گیا کیونکہ قبر نیچے تک پھٹ گئی تھی جب قبر کو کھولا گیا تو قبر کے معمار اور قبر کی زیارت کرنے والے حیران رہ گئے کہ قبر کے اندر سے ہزار سال سے مرے ہوئے اور تابوت کی لکڑی صحیح سلامت ہے سب لوگ حیران اور ورطہ حیرت کا شکار ہوگئے تابوت صحیح سلامت ، ہزار سال گزرنے کے باوجود ، حکام نے تابوت کو کھولنے کا حکم دیا تو جس آدمی نے کھولا تو پلٹ کر پیچھے گرا اور بیہوش ہوگیا تو جب پیچھے لوگوں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ سلطان جو تینتیس سال حکومت کرکے مرا اور مرے ہوئے ہزار سال گزر چکے ہیں وہ اپنے تابوت میں ایسے پڑا تھا جیسے کوئی ابھی اس کی میت کو رکھ کے گیا ہے اور اس کا سیدھا ہاتھ سینے پر تھا الٹا ہاتھ اور بازو جسم کے متوازی سیدھا تھا اور ہاتھ ایسے نرم جیسے زندہ انسان کے ہوتے ہیں اور ہزار سال مرے بیت چکے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے ایک جھلک دیکھائی کہ جو میرے محبوب کی غلامی اختیار کرتے ہیں وہ بادشاہ بھی ہو گئے تو وہ اللہ کے محبوب بن کے اللہ کے پیارے بن کے اللہ کے دربار میں کامیاب ہو کر پیش ہوں گے۔

زندگی مختصر ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے وقت کے آگے طاقت ور سے طاقت ور بادشاہ کمزور اور بے بس ہے وقت کو کوئی نہیں روک سکتا لیکن وقت پر جس شخص نے اللہ کی مخلوق کی بہتری، بھلائی اور اللہ کی خوشنودی کو مقدم رکھا وہی شخص مرنے کے بعد بھی لافانی ہے۔ ہم سب دو ستو ں کو اس طر ح سے کا م کر نا ہو گا اور زند گی کو اس طر یقے سے بسر کر نا ہو گا کہ ا نھیں اللہ کے حضور پیش ہتے ہو ئے کسی ندا مت کا سا منا نہ کر نے پڑے وہ اسی خیا ل سے زندہ ہیں اور ان کے دروازے ہمہ وقت انصا ف کے لیے کھلے ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...