بیٹنگ اور باؤلنگ میں پاکستان کی قوت کا غلط اندازہ

بیٹنگ اور باؤلنگ میں پاکستان کی قوت کا غلط اندازہ
 بیٹنگ اور باؤلنگ میں پاکستان کی قوت کا غلط اندازہ

  


آئی سی سی چیمپئن ٹرافی سے پہلے اوراس کے دوران بھارتی ٹیم کی بیٹنگ اور باؤلنگ کی صلاحیت کے حوالے سے ٹی وی اینکر ز اور ماہرین نے غلط بنیادوں پر ان کی ٹورنامنٹ کی جیت کے حوالے سے پیش گوئیاں کیں۔یہی سلسلہ سابق کرکٹرز کی باہمی اور نجی طور پر گفتگو میں شامل حال رہا۔ چیمپئن شپ کے پہلے میچ میں پاکستان کو ہرانے کے بعد بھارت اور پاکستان کے شائقین کرکٹ اورماہرین نے یہ طے کرلیا کہ بھارت ایک مضبوط ٹیم ہے اور خاص طور پر پاکستان اس کو ہرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کسی بھی ایک سابق کرکٹر نے پاکستان کی واضح دوٹوک جیت کے حوالے سے کوئی واضح رائے نہیں دی۔ بھارت نے پول میچز میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کو ہرایا اور سری لنکا سے بڑی شکست کھائی۔ جبکہ سیمی فائنل میں کمزور بنگلہ دیش کو ہرا کر بھارت نے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے پہلا میچ ہارنے کے بعد واضح برتری سے سری لنکا ،جنوبی افریقہ اور انگلینڈ جیسی تگڑی ٹیموں کو شکست دی ۔فائنل میں یک طرفہ کھیل ہوا اور ثابت ہوا کہ پاکستا ن اپنی بیٹنگ بالنگ کمبی نیشن کی بنیاد پر ٹورنامنٹ کی سب سے تگڑی ٹیم تھی۔ فائنل میں جب بھارت کے 6کھلاڑی 72رنز پر آؤٹ تھے تو کپتان نے نان ریگولر فخر زمان کو متعارف کروا کر بھارت پر پریشر کم کیا اور پانڈیانے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے72رنز بنا ڈالے۔ اوول میں پاکستان نے اپنے ازلی حریف بھارت کو فائنل میں ایک لمحے کے لیے موقع دےئے بغیر ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا اور یہ باور کیا کہ کرکٹ سے اسے آؤٹ کرنے کی کوئی بھارتی کوشش کا میاب نہیں ہوگی اور پاکستان کوماضی ، حال اور مستقبل میں کرکٹ سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی چیمپئن ٹرافی 2017میں کامیابی کسی باہمی سیریز یا مقابلے کی جیت سے کہیں اونچی فتح ہے۔

1992ء کے ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کی چیمپئن ٹرافی میں سب سے بڑی اور عظیم کامیابی ہے۔ پاکستان نے ریکارڈ ساز 338رنز بنائے اور بعد ازاں 180رنز کے واضح فرق سے فائنل جیتا۔ ٹورنا منٹ میں پاکستان نے پہلی مرتبہ فخر زمان، حسن علی ،رومان رئیس اور فہیم اشرف کو عالمی مقابلوں میں متعارف کروایا۔ انہوں نے اس تسلسل کو توڑا جہاں وہاب ریاض اور احمد شہزاد کچھ عرصے سے بغیر کسی بڑی پرفارمنس کے ٹیم کا حصہ رہے۔ اب یوں محسوس ہورہا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے ان دونوں کو آرام دیا جائے گا۔ پاکستان کی اس کامیابی پر جہاں کپتان کھلاڑی، کوچنگ سٹاف مبارکباد کے مستحق ہیں وہاں سلیکشن کمیٹی کی شاندارتہنیت کی مستحق ہے۔ جب ٹیم ہارتی ہے تو کرکٹ بورڈ پر لعن طعن کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔اس صورتحال میں کرکٹ بورڈ بھی مبارکباد کا مستحق ہے۔اوول کے میدان پر کرکٹ دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ پچ بھارتیوں کے لیے تیا رکی گئی ہے۔

فائنل سے قبل پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو فیورٹ قرار دےئے جانے کے حوالے سے جو تجزےئے پیش کیے گئے وہ فائنل کے بعد یک طرفہ دکھائی دےئے۔ پاکستان کی باؤلنگ نے وہ کردکھا یا جس کی توقع تھی۔ اگر پاکستان 250رنز بھی بناتا تب بھی بھارت کی شکست طے تھی۔ بھارت سمیت عالمی میڈیا پر پاکستان کی جیت کو ممتاز اور اہم خبر کے طور پر اجاگرکیا گیا۔ برطانوی میڈیا اور عوام نے پاکستان کی کارکردگی کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ امید کی جانی چاہیے کہ پی سی بی کے چیئر مین جناب شہریار ایم خان بھارت کے ساتھ کرکٹ کے تعلقات کی بحالی کے حوالے سے کوئی نیا بیان جاری نہیں فرمائیں گے۔

پاکستان چیمپئن ٹرافی میں سرکردہ ٹیموں کو شکست دے کر بہت سے اعزازات اور ریکارڈ اپنے نام کرچکا ہے۔ اس میں آئی سی سی رینکنگ میں ایک درجے کی ترقی اور کرکٹ ورلڈ کپ2019میں براہ راست اینٹری شامل ہے۔ پاکستان اب ان چند ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے کرکٹ ورلڈ کپ ،T20ورلڈ کپ اور آئی سی سی چیمپئن ٹرافی2017ء جیت کر تمام بڑے اعزازات حاصل کیے ہیں۔ پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے معتبر ادارے پی سی بی سابق کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں میں بدقسمتی سے نظریاتی اختلافات سے بڑھ کر صورتحال ناچاقی اور بدگمانی کی حد تک بڑھ چکی ہے۔کرکٹ بورڈ کے چیئر مین سمیت اعلیٰ افسران ذاتیات،عمریں اور ان کو ملنے والی مالی مراعات پر مشتمل لامتناعی گفتگو کے سلسلے بھی پروگراموں کا حصہ ہوتے ہیں۔ لطف کی بات ہے کہ کرکٹ بورڈ اپنے اوپر ہونے والی نکتہ چینی اور غلط فہمیوں کے حوالے سے کوئی جوابی وضا حت نہیں کرتا۔ ظاہر ہے کہ ہر اخبار میں چھپنے والی خبر ،کالم یاٹی وی پروگراموں میں کی جانے والی گفتگو کا ترکی بہ ترکی جواب تو نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن پھر بھی چند معاملات کے حوالے سے کرکٹ بورڈ کو اپنے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے وضاحت ضرور کرنی چاہیے۔ فطری طور پر انسان یا ادارے حوصلہ افزائی کے محتاج ہوتے ہیں۔افسوس کہ فائنل جیتنے کے بعد بھی بورڈ کی تعریف ایک طرف کچھ ماہرین نے اس موقع پر بھی کرکٹ بورڈ کے چیئر مین جناب شہریار ایم خان اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئر مین جناب نجم سیٹھی کو تنقیدکا نشانہ بنایا۔ کرکٹ بورڈ کو اپنے میڈیا سیل کو متحرک کرتے ہوئے اختیارات دینے ہوں گے۔ میڈیا اورسابق سرکردہ کھلاڑیوں کے حوالے سے نرم گوشہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف ان کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا بلکہ ادارے کی سطح پر کرکٹ کے حوالے سے اصلاح احوال کی طرف توجہ کرنا ہوگی۔ پاکستان کرکٹ کے حوالے سے ملک کا ماحول انتہائی ساز گار اورخوشگوار ہے۔ اس تاریخی موقع پرجیت کے حوالے سے پی سی بی اور حکومت کو مناسب تقریبات کرنی چاہئیں اور کھلاڑیوں کو اعزازات سے نوازا جانا چاہیے۔

مزید : کالم


loading...