ایران کا شام میں داعش کے ٹھکانوں میزائل حملوں کا دعویٰ

ایران کا شام میں داعش کے ٹھکانوں میزائل حملوں کا دعویٰ

تہران(این این آئی)ایران کی طاقت ور فورس پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی دیر الزور گورنری میں داعش کے ٹھکانوں پر ایران کے کردستان اور کرمان شاہ سے میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیم کو بھاری جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملہ شدت پسند گروپ کی طرف سے ایرانی پارلیمان اور آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر دھماکوں کا جواب ہے۔خیال رہے کہ سات جون کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی کے مقبرے اور پارلیمنٹ کیبار یکے بعد دیگر ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 17 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔ بہ ظاہر ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے قبول کی تھی تاہم ابھی تک ان دھماکوں کے اصل کرداروں کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں شام میں میزائل حملے داعش کے خلاف انتقامی پالیسی کا حصہ بتائے گئے ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی شہروں سے داغے گئے میزائلوں سے داعش کے مقامی ہیڈ کواٹر، بمبارگاڑیاں بنانے والی ایک فیکٹری اور دیگر مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر داغے گئے میزایل درمیانے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل تھے جنہیں کرمان شاہ اور کردستان سے داغا گیا۔ایران کی جانب سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر براہ راست میزائل حملوں کا یہ پہلا واقعہ ہے۔عراق میں داعش کی شکست اور الباب سے نکالے جانے کے بعد دیر الزور داعش کا دارالحکومت کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔ الرقہ کا محاصرہ کیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شام کے دوسرے علاقوں اور عراق سے فرار ہونے والے جنگجو دیر الزور میں جمع ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...