موصل میں داعش کی شکست انتہائی قریب، عراقی فورسز نے چڑھائی کردی

موصل میں داعش کی شکست انتہائی قریب، عراقی فورسز نے چڑھائی کردی

موصل+دمشق(این این آئی)عراقی فورسز نے دہشت گرد گروپ داعش کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے شہر موصل کے اْس آخری حصے پر بھی چڑھائی کر دی جو اس گروپ کے قبضے میں ہے۔ عراقی فورسز اسے فیصلہ کْن حملہ قرار دے رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی فورسز داعش کے سابق مضبوط مضبوط ترین گڑھ سمجھے جانے والے ملک کے شمالی شہر موصل کو اس دہشت گرد گروپ سے آزاد کرانے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ فوج نے مغربی موصل کے اْس آخری حصے کو گھیرے میں لے کر چڑھائی کردی ہے، جہاں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادی چھپے ہوئے ہیں۔ موصل داعش کا عراق میں بڑا مرکز تصور کیا جاتا رہا ہے اور اس گروپ کا شہر کے تاریخی حصے پر ابھی تک کنٹرول موجود ہے۔جہادیوں کے آخری ٹھکانے پر تین اطراف سے حملہ کیا گیا ہے۔ مغربی موصل کے جس قدیمی حصے پر چڑھائی کی گئی ہے، وہیں وہ نوری مسجد بھی واقع ہے، جہاں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے لیڈر ابوبکر البغدادی نے سن 2014 میں خلافت کا اعلان کیا تھا۔عراقی فورسز کی طرف سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے نو ماہ قبل جس آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا، یہ حملہ اْس مقصد کے حصول کے لیے اختتامی کارروائی ثابت ہو گی۔ پیش قدمی کرتے ہوئی فوج کو خودکش حملوں اور بارودی سرنگوں کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ کئی جنگجو چھتوں پر بیٹھ کر فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق شہر کا مغربی تاریخی حصہ انتہائی گنجان آباد ہے اور تنگ گلیوں اور راستوں پر مشتمل ہے۔ اسی باعث اس علاقے میں آپریشن انتہائی پیچیدہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق داعش کے زیر قبضہ علاقے میں ابھی تک ایک لاکھ سے زائد سویلین پھنسے ہوئے ہیں اور انتہائی نا گفتہ بہ حالات کا شکار ہیں۔ ان شہریوں کو خوراک، پانی اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے جبکہ طبی سہولیات تک ان کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔عراقی فورسز کی طرف سے موصل کا قبضہ داعش سے چھڑانے کے لیے جاری اس آپریشن میں امریکی عسکری اتحاد کی طرف سے فضائی حملوں کی مدد بھی حاصل ہے۔شام کی سرکاری فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں قائم عالمی عسکری اتحاد کے نے شمالی شہر الرقہ کے قریب ایک بمباری طیارہ مار گرایا ہے۔ شامی فوج کا طیارہ الرقہ کے قریب اس مقام پر گر کرتباہ ہوا ہے جہاں امریکا کی حمایت یافتہ فورسز کی بڑی تعداد موجود ہے اور شامی فوج اس طرف پیش قدمی کررہی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق شامی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اتحادی ممالک کے طیاروں نے الرقہ کے جنوبی علاقے الرصافہ میں ہمارے ایک بمبار طیارے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ داعش کے خلاف خلاف کارروائی کے لیے جا رہا تھا۔ادھر امریکی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی طیارے کو اس وقت گرایا گیا جب وہ واشنگٹن کی حمایت یافتہ اپوزیشن فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا تھا۔سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ شامی فوج کا طیارہ الطبقہ کے مقام پر اس وقت گرایا گیا جب اس نے ڈیموکریٹک فورس کے ٹھکانوں پر گولہ باری شروع کی۔شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کا کہنا تھا کہ شمالی شام میں الرقہ کے قریب شامی فوج اور امریکا کی قیادت میں قائم عالمی اتحاد کے درمیان یہ پہلی جھڑپ ہے جس میں شامی فوج کا ایک بمبار طیارہ مار گرایا گیا ہے۔آبزرویٹری کا کہنا تھاکہ شامی فوج کا طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد الرقہ سے جنوب میں 40 کلو میٹر دور شامی فوج اور ڈیموکریٹک فورس کے درمیان دو قصبوں میں جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...