امریکہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کیلئے دوبارہ سرگرم

امریکہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کیلئے دوبارہ سرگرم

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ ایک دفعہ پھر اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل کیلئے سرگرم ہوگیا ہے، جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اور خطے کے دورے کے موقع پر اسرائیلی اور فلسطینی لیڈروں سے تنازعے کے حل کیلئے جو بات چیت کی تھی اس میں پیش رفت کیلئے اپنے دو نمائندے خطے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مذاکرات کیلئے صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے جیسن گرین پلاٹ پہلے ہی اسرائیل پہنچ چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر بدھ کے روز جا کر بات چیت میں شامل ہونگے، دلچسپ بات یہ ہے صدر کے یہ دونوں مندوب یہودی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور اسرائیلی انتظامیہ کو امن مذاکرات میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جیسن گرین پلاٹ نے روانگی کے وقت اپنے پیغام میں کہا تھا وہ دوبارہ اسرائیل اور فلسطینی علاقے کے دورے کے بارے میں بہت برجوش اور امن مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں پر امید ہیں، صدر ٹرمپ کے دو نمائندوں کی خطے میں آمد ان کے مشرق وسطیٰ کے پہلے غیر ملکی دورے کے تقریباً ایک ماہ بعد ہورہی ہے، جس میں وہ سعودی عرب، اسرائیل، فلسطینی علاقے، وٹیکن سٹی اور یورپ کے کچھ ممالک میں گئے تھے، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے الگ الگ ان دونوں حریفوں کے درمیان امن کے قیام کیلئے بات چیت کی تھی، قبل ازیں صدر ٹر مپ ان لیڈروں کے واشنگٹن کے دوروں میں قیام امن کی بات چیت کا آغاز کرچکے ہیں، وائٹ ہاؤس ذرائع کا کہنا ہے صدر ٹرمپ اپنے پہلے بیرونی دورے سے واپسی کے بعد بھی ان رہنماؤں سے رابطے میں رہے ہیں، جن سے حوصلہ ملنے کے بعد وہ معاملات کو مزید آگے بڑ ھانے کیلئے اپنے نمائندے خطے میں بھیج رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے نمائندوں کے موجودہ دورے کے موقع پر وائٹ ہاؤس حکام نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ خطے میں تاریخی امن سمجھوتے کے طے کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سلسلے میں یقیناً پیش رفت ہوئی ہے‘‘۔ وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا تھا صدر ٹرمپ کے ان دو نمائندوں کے آئندہ بھی خطے کے دورے جاری رہیں گے جو کبھی الگ الگ اور کبھی مشترک ہوسکتے ہیں۔ اسوقت فلسطینی علاقے کو اسرائیل کی ریاست کے اندر ایک خود مختار حیثیت حاصل ہے اور خطے میں مستقل امن کے قیام کیلئے فلسطینی رہنما الگ الگ ریاست کا قیام چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں، عرب ممالک کا موقف بھی یہی ہے کہ اگر اسرائیل فلسطین کی آزاد مملکت کے قیام کیلئے رضا مند ہوجاتا ہے تو پھر انہیں بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی خواہش کے برعکس فلسطینی علاقے میں نئی بستیاں تعمیر کرنے میں مصروف ہے، اور اس سے سوال کیا جارہا ہے کہ اگر اس نے بعد میں فلسطینی اتھارٹی کے اس علاقے کو آزاد مملکت کے طور پر قبول کرلیتا ہے تو پھر وہاں اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کا مقصد کیا ہے؟

امریکہ سرگرم

مزید : علاقائی


loading...