چین سائنسی تحقیق میں جلد امریکہ کو پیچھے چھوڑسکتا ہے، امریکی ماہرین

چین سائنسی تحقیق میں جلد امریکہ کو پیچھے چھوڑسکتا ہے، امریکی ماہرین
چین سائنسی تحقیق میں جلد امریکہ کو پیچھے چھوڑسکتا ہے، امریکی ماہرین

  


مشی گن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ چین سائنسی تحقیق میں بہت جلد امریکہ کو پیچھے چھوڑدے گا اور امریکہ سائنسی تحقیق میں اپنی برتری برقرار نہیں رکھ سکے گا۔یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہرین نے گزشتہ 15 برس میں چین سے شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ بایومیڈیکل تحقیق میں امریکہ کی نمبر ایک پوزیشن خطرے میں ہے کیونکہ چینی ماہرین طبی حیاتیات میں بہت عمدہ اور بڑی تعداد میں تحقیق کرکے مقالے شائع کررہے ہیں۔یونیورسٹی آف مشی گن میں پروفیسر آف فزیالوجی اینڈ میڈیسن بشر اوماری کہتے ہیں کہ چین نے اس شعبے میں غیرمعمولی سرمایہ کاری کی ہے۔ بایومیڈیکل ریسرچ کے شعبے میں وفاقی سطح پر مدد میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے امریکہ یہ مقام کھو سکتا ہے۔‘حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بایومیڈیکل تحقیق کے فنڈز میں واضح کمی کا اعلان کیا ہے جس میں غریبوں کے لیے صحت کی سہولیات، وبائی امراض پر تحقیق، بوڑھوں اور معذوروں کے معالجاتی فنڈز میں کمی، ایڈز کے بجٹ میں کٹوتی اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔

اور ان کا اعلان 23 مئی کو کیا گیا تھا۔ پہلے یہ فنڈنگ 32 ارب ڈالر تھی جو اب 26 ارب ڈالر کردی گئی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...