کرپشن کا الزام زبانی جمع خرچ ہے

کرپشن کا الزام زبانی جمع خرچ ہے
 کرپشن کا الزام زبانی جمع خرچ ہے

  


پانامہ پیپرز کا سکینڈل سامنے آیا تو وزیر اعظم نواز شریف پر کرپشن کے الزامات کا غلغلہ مچ گیا۔ وزیر اعظم نے وضاحت در وضاحت کی توکرپشن کا الزام بیانات کے تضادمیں تبدیل ہوگیا اور سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر ہوگئی کہ جھوٹ بولنے کے سبب وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے ۔ پھر دوران سماعت قطری خط سامنے آیا تو سپریم کورٹ نے منی ٹریل کا پتہ لگانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی۔

کرکٹ میچ کی طرح پانامہ پر سیاست نے بھی کئی رنگ بدلے ہیں اور شائقین سیاست نے ایک ایک بال اور ایک ایک شاٹ کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کردیکھا اور تبصروں کے انبار لگائے ہیں لیکن جہاں عمران خان الیون نے باؤنسر پر باؤنسر پھینک کر نواز شریف الیون کو گھمانے کی کوشش کی ہے وہیں پر نواز شریف الیون نے اپنے آپ کو انڈرپریشر نہیں کیااور تاحال اس میچ کا فیصلہ درمیان میں لٹک رہا ہے۔

پانامہ پیپرز نے منظر عام پر آنے سے لے کر اب تک وزیر اعظم نواز شریف نے کرپشن ، جھوٹ اور منی ٹریل جیسے الزامات اور تقاضوں کا سامنا کیا ہے ۔اگر آخر میں تینوں الزامات درست ثابت نہ ہوئے تو وزیر اعظم کو ہونے والا فائدہ اب تک ہونے والے نقصان سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔

تمام تر الزامات کی تان اس نقطے پر ٹوٹی ہے کہ وزیراعظم کا خاندان اس موقف کو ثابت کردے کہ لند ن فلیٹس گلف سٹیل مل دبئی کی رقم سے خریدے گئے اور اس ضمن میں پاکستان سے ایک روپیہ بھی ملک سے باہر نہیں گیا۔ جے آئی ٹی نے تحقیقات کا آغاز اسی لئے طارق شفیع سے پوچھ گچھ سے کیا ہے کیونکہ وہ میاں محمد شریف کی ایما پر گلف سٹیل مل کے معاملات کے ذمہ دار تھے۔ واضح رہے کہ نواز فیملی کے وکلاء پہلے ہی سپریم کورٹ میں اس کی منی ٹریل پیش کر چکے ہیں ۔جس پر سپریم کورٹ کے تین ججوں نے اکثریت سے فیصلہ کیا کہ جے آئی ٹی جن تیرہ سوالوں کا پتہ لگائے گی ان کا آغاز گلف سٹیل مل کے قیام سے ہوگا اور اختتام لندن کے فلیٹوں کی خریداری اور حسین نواز کی جانب سے وزیر اعظم نوا زشریف کو کروڑوں روپے کے تحفوں کی تحقیق پر ہوگا۔ اسی لئے وزیر اعظم کے بھائی شہباز شریف نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کرپشن کی نہیں بلکہ ان کے خاندانی اثاثوں کی چھان بین کر رہی ہے ۔ یوں بھی اگر معاملہ کرپشن کا ہوتا تو عدالت عظمیٰ جے آئی ٹی سے کہتی کہ پتہ لگائے کہ کیا فلیٹس خریداری نوے کی دہائی میں بننے والے موٹر وے کی کمیشن سے کی گئی۔ عدالتی حکم میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پوچھے گئے تیرہ سوال مختصراٌیہ ہیں کہ پتہ لگایا جائے کہ کیا واقعی گلف سٹیل مل کا آغاز بی سی سی آئی بینک کے پیسے اور دبئی کے امیر کی جانب سے دی جانے والی زمین سے ہوا، بعد میں اس کی فروخت پر واجبات کا کیا بنااور فروخت سے حاصل ہونے والی رقم جدہ، قطر اور لندن کیسے گئی ، حسین اور حسن نے فلیٹ کے لئے رقم کن ذرائع سے حاصل کی، قطری خط کی حقیقت کیا ہے، بیئرر شیئرز کا معاملہ کیا ہے، ان پراپرٹیوں کے بینیفیشل اونر کا قضیہ کیا ہے، ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ، فلیگ شپ کمپنی اور ان کے لئے ورکنگ کیپیٹل کہاں سے آیا اور آخر میں یہ کہ حسین نواز کروڑوں روپے تحفے میں وزیر اعظم نواز شریف کو کہاں سے بھیجتے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کی جانب سے اس ضمن میں منی ٹریل کی جملہ تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کروادی گئی تھیں ، چونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے متبادل موقف پیش نہیں کیا تھا اور اس کا سارا زور اس پر تھا کہ پانامہ پیپرز سکینڈل کے بعد قوم سے دو خطابوں اور پارلیمنٹ میں تقریر میں کھلے تضادات ہیں اور عدالت عظمیٰ کے دو جج صاحبان نے اس موقف سے اتفاق بھی کیا اور وزیرا عظم کی نااہلی کا ڈکلیئریشن بھی جاری کردیا ۔ البتہ تین جج صاحبان نے منی ٹریل کی مزید تحقیق کے لئے جے آئی ٹی بنادی۔

جے آئی ٹی کے حوالے سے بھی بہت کنفیوژن پایا جاتا ہے ، عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ Joint Investigation Teamہے Joint Interrogation Teamنہیں ہے ۔ پولیس کے انوسٹی گیشن آفیسر موقع واردات سے شواہد جمع کرتے ہیں ، گواہیاں تلاش کرتے ہیں اور پھر ان گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مشکوک افراد کی فہرست انٹیروگیشن آفیسر کے حوالے کردیتے ہیں جو انہیں گرفتار کرکے تھرڈ ڈگری طریقوں سے اقبال جرم کرواتے ہیں ۔ اس جے آئی ٹی نے شریف فیملی سے اقبال جرم نہیں کروانا بلکہ صرف شواہد جمع کرنا اور گواہان کو تلاش کرنا ہے جسے سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ Cross Questioningکے لئے کسی ٹرائل کورٹ کو ریفر کرے گا جو کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے کے لئے کئی سو ساٹھ دن لے سکتی ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی ابتدا میں ثابت کر رہی تھی کہ چونکہ مریم نواز Beneficial Ownerہیں اوروزیر اعظم کے کاغذات نامزدگی میں Dependentظاہر کی گئی ہیں جن میں ان کی بیرون ملک جائیداد کو چھپا کر وزیر اعظم نااہلی کے لئے انتہائی موزوں کیس ہیں مگر جب اس غبارے سے ہوا نکل گئی تو ان کے قوم سے خطابات اور پارلیمنٹ میں بیان میں تضادات کا راگ الاپنے لگی ۔ اب معاملہ منی ٹریل تک آن پہنچا ہے۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی پٹیشن میں کہیں بھی یہ موقف اختیا ر نہیں کیا گیا کہ لندن کے فلیٹس موٹروے کی کمیشن سے بنائے گئے ہیں ، اس لئے کرپشن کا الزام محض زبانی جمع خرچ ہے ، اس کی حیثیت اس سے بڑھ کر نہیں ہے!

مزید : کالم


loading...