پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر کی دوسری بیوی کی بازیابی کی درخواست

پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر کی دوسری بیوی کی بازیابی کی درخواست

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر کی دوسری بیوی کی بازیابی کی درخواست پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کوجواب سمیت طلب کر لیاہے۔جسٹس عبدالسمیع خان نے لاپتہ لڑکی عائشہ کی والد بلقیس زرینہ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی پچیس سالہ بیٹی عائشہ کی پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر ایڈووکیٹ سے شادی کی جبکہ عائشہ کے بطن سے الیان علی نواسہ بھی پیدا ہوا، شادی کے تین برس بعد درخواست گزار کی بیٹی گارڈن ٹاؤن سے اچانک لاپتہ ہو گئی، ایبٹ آباد کے ہپستال سے فون آیا کہ ان کی بیٹی ہسپتال میں داخل ہے، بیٹی کولے کر گھر آئے تو اس نے بتایا کہ مقصود بٹر ایڈووکیٹ نے ساتھیوں سے ملکر اسکی بیٹی کو برہنہ حالت میں بندروں کے سامنے جنگل میں پھینک دیا تھا، وہاں ایک چرواہے نے اسکی جان بچائی۔ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ وکلا قانون سے بالاتر نہیں ہیں، اب چھ ماہ سے لڑکی پھر لاپتہ ہے، خدشہ ہے کہ اس کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے، عدالت بیٹی عائشہ اور نواسے الیان علی کو بازیاب کرائے۔عدالت نے تفتیش مکمل نہ کرنے اور مبہم جواب داخل کرانے پرعدالت نے ڈی ایس پی ریس کورس سرکل صفدر کاظمی کی سخت سرزنش کی۔عدالت نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو تفصیلی رپورٹ سمیت بیس جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیاہے۔

بار کونسل

مزید : صفحہ آخر


loading...