ہائیکورٹ میں انٹر پرائزآئی ٹی سسٹم صوبائی عدلیہ کا مستقبل ہے: چیف جسٹس منصور علی شاہ

ہائیکورٹ میں انٹر پرائزآئی ٹی سسٹم صوبائی عدلیہ کا مستقبل ہے: چیف جسٹس منصور ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں شروع ہونے والا انٹر پرائز آئی ٹی سسٹم ہی صوبائی عدلیہ کا مستقبل ہے، ہم جانتے ہیں اس نظام کے آغاز میں کچھ مشکلات درپیش ہیں لیکن کسی بھی نظام کو سٹریم لائن ہونے میں وقت لگتا ہے، وکلاء کے مثبت تعاون کی بدولت اس سسٹم سمیت تمام ایشوز کو حل کیا جائے گا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے ہمراہ میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر بار کے صدر چودھری ذوالفقار علی، نائب صدر راشد لودھی، سیکرٹری عامرسعید راں، فنانس سیکرٹری ظہیر بٹ کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی اور رجسٹرار سید خورشید انور رضوی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ انٹرپرائز انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹم ایک جدید ترین نظام ہے جو وکلاء اور عام سائلین کی سہولت کیلئے شروع کیا گیا ہے، یہ سسٹم پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے جس پر گزشتہ تین سال تک کام کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے میں نیا نظام متعارف کرواتے وقت ادارے کو بندکیاجاتا ہے لیکن لاہور ہائی کورٹ کے کام نوعیت کی وجہ سے مکمل بند کرنا ممکن نہیں تھا، اس لئے چلتے ہوئے نظام میں نئے نظام کو شامل کرنا تھوڑا مشکل کام ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ کسی بھی نظام کے آغاز میں کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہم وکلاء و سائلین کی مشکلات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور ہم ان مشکلات کیلئے ان سے معذرت خواہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم وکلاء اور سائلین کو مکمل یقین دلاتے ہیں کہ اس آئی ٹی سسٹم کی تمام خرابیاں عنقریب ختم ہو جائیں گے اور اس جدید سسٹم کے ثمرات سائلین تک پہنچیں گے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...