مستقبل میں مسیحی خواتین کی طلاق کیلئے عام وجوہات کو بھی بنیاد بنایا جاسکے گا: لاہور ہائیکورٹ

مستقبل میں مسیحی خواتین کی طلاق کیلئے عام وجوہات کو بھی بنیاد بنایا جاسکے گا: ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مسیحی طلاق ایکٹ سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مستقبل میں مسیحی خواتین کو بدچلنی جیسے قبیح الزام کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ طلاق کے لئے عام وجوہات کو بھی بنیاد بنایا جا سکے گا، عدالت نے مسیحی طلاق ایکٹ1869 کی دفعہ 7 کوبحال کر دیا ہے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے امین مسیح کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی اقلیت کی خاتون پر طلاق کے لئے اس پر صرف بدچلنی کا ہی الزام عائد کرنا آئین کے آرٹیکل 9 اور 14کے تحت دیئے گئے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عدالت نے مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ سات بحال کرتے ہوئے قرار دیا کہ طلاق کے لئے پاکستانی مسیحی جوڑے پر برطانوی قانون لاگو ہوگا، عدالت نے ایکٹ کی دفعہ 7حذف کرنے کے لئے صدر ضیاء الحق کے دور حکومت میں 1981 کے جاری آرڈیننس کو آئین کی دفعہ9 اور 14 کے تحت غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ درخواست گزار کے وکیل شیراز ذکا ء نے موقف اختیار کیا کہ سابق صدر ضیاء الحق نے مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ 7حذف کر دی اور اب صرف ایک ہی دفعہ موجود ہے جس کے تحت بدچلنی کا الزام ثابت کئے بغیر مسیحی جوڑے میں طلاق موثر نہیں ہو سکتی، یہ اقدام بنیادی آئینی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ اسی مقدمے میں وفاقی وزیر کامران مائیکل نے پیش ہو کر موقف اختیار کیا تھاکہ الہامی قانون کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔بنیادی حقوق کے نام پرالہامی قانون میں تبدیلی مذہبی اصولوں کے منافی ہے۔ملک بھر کے بشپس کے ساتھ ملک کر قانون میں موجود سقم دور کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کی جا رہی ہیں۔صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو کے علاوہ کیتھولک،پروٹسٹنٹ اور پرسبیٹیرین چرچ کے بشپس نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھاکہ بائبل کی تعلیمات کے تحت مسیحی میاں بیوی کا رشتہ کسی صورت نہیں توڑا جا سکتا، عدالت نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کر رکھا تھا جسے جاری کر دیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...