تصویر لیک ہونے اور واٹس ایپ کال کے بعد جے آئی ٹی کی قانونی حیثیت باقی رہی نہ اخلاقی: مسلم لیگ (ن)

تصویر لیک ہونے اور واٹس ایپ کال کے بعد جے آئی ٹی کی قانونی حیثیت باقی رہی نہ ...

اسلام آباد(صباح نیوز)حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہاہے کہ جے آئی ٹی بتائے کہ وزیراعظم ہاؤس کے فون ٹیپ اور 75صفحوں کی میڈیا مانیٹرنگ کس کے حکم پر کی ہے ، عمران خان کو قوم کی خوشی سے کوئی غرض نہیں اس لیے پاکستانی ٹیم کی جیت پر سڑی ہوئی ٹویٹ کی جے آئی ٹی کی طرح حسین نواکے ساتھ بھی انصاف کیا جائے ، تصویر لیک اور وٹس ایپ کال کے بعد جے آئی ٹی کی نہ قانونی اور نہ اخلاقی حیثیت باقی رہتی ہے ۔جے آئی ٹی گرتی ہوئی ساکھ کو قائم رکھنے کیلئے وقت مانگ رہی ہے ،عمران خان کوبال ٹھا کرے کی طرح پاکستانیوں کی خوشی قبول نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چو دھری اوردانیال عزیز نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کب تک نوازشریف کی مخالفت میں پاکستان کی مخالفت کریں گے اقتدار تک پہنچنے کیلئے نوازشریف کی مخالفت کب تک کریں گے عمران خان اقتدار تک پہنچنے کیلئے پاکستان سے دشمنی نہ کریں عمران خان کی زبان نے ان کی اپنی بھی عزت نہیں رہنے دی منہ بند رکھتے تو ان کی اپنی بھی عزت رہ جاتی ،عمران خان کوبال ٹھا کرے کی طرح پاکستانیوں کی خوشی قبول نہیں ۔ جے آئی ٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کے ٹیلی فون ٹیپ کرتے ہیں ۔ وزیراعظم ہاؤس کے ٹیلی فون ٹیپ کرنا کوئی معمولی الزام نہیں ۔ حسین نوازکو بھی انصاف ملنا چاہیے تصویر کا معاملہ کب حل ہوگا۔ کون اتنا مقدس ہے کہ ابھی تک تصویر لیک کرنے والے کا نام نہیں آرہا تصویر کیوں اور کس کے کہنے پر لیک کی جے آئی ٹی کی شکایات کو سپریم کورٹ سن رہی ہے تصویر لیک کا معاملہ چھوٹا نہیں کسی بھی تفتیشی اور تحقیقی ادارے کو ہمیشہ قانون کی طاقت اور اخلاقی برتری چاہیے ۔ قانون کی طاقت تو ان کے پاس ہوگی لیکن جے آئی ٹی پر جو سوال اٹھ رہے ہیں جب تک ان کا جواب نہیں آئے گاان کی اخلاقی اور قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان رہے گا۔ کال کی سٹوری ن لیگ کی نہیں بلکہ میڈیا کی سٹوری ہے تصویر لیکج ان کی اپنی تسلیم شدہ ہے ان سوالوں کا بھی جواب ملنا چاہیے پھر ہی انصاف ہوگا۔ عمران خان کبھی میڈیا کو دھمکاتے ہیں کبھی کسی کا بائیکاٹ کرتے ہیں کیاان میں سچ سننے کی ہمت نہیں ہے ذرابتائیں کہ کیا آپ میڈیا کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتے ہیں کہ تم فلاں اینکرکو رکھوار فلاں کو نکالوفلاں رپورٹ شائع کروفلاں نہ کروخان صاحب جس چینل کا آپ نے بائیکاٹ کیا ہے وہ رپورٹیں تو سب نے تسلیم کی ہیں اس پر تو کوئی عدالت بھی نہیں گیا اس کو تو سب نے سچ مان لیا ہے ۔ آپ کو اتنی تکلیف کیوں ہے کیونکہ آپ نے چاہتے کہ سچ ملے آپ تو چاہتے ہیں کہ صرف آپ ہی کی باتی ہونی چاہیے اور آپ جو کہتے ہیں وہی ہونا چاہیے ہم امید کرتے ہیں کہ سچ ملے گا ہم اپنا کیا عوام کی بڑی عدالت میں بھی رکھیں گے اور اپنا یہ سوال بھی اس عدالت میں رکھیں ۔ عمران خان آپ میڈیا کو ڈکٹیٹ کرنے سے یا جیت پر بُرے بُرے میسج کرنے سے اقتدار تک نہیں پہنچیں گے ۔ اقتدار تک پہنچنے کیلئے پاکستان کی 20کروڑ لوگوں کی بڑی جے آئی ٹی سے ہو کر گزرنا پڑے گا۔ عمران خان آپ پہلے بھی وہاں سے ہارے ہیں اور اس دفعہ بھی ہاریں گے حکومت کو تمغے تو ملتے رہیں گے کبھی سٹاک ایکسچینج ریکارڈ بنائے گی کبھی ٹیم جیتے گی ۔دانیال عزیز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مختلف محکموں میں جے آئی ٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیا ہے ایس ای سی پی کے جواب پر سوال اٹھائے گئے ہیں، وزارت قانون نے بھی اپنے اوپر عائد الزامات کا جواب دیا ہے ۔ نیب نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ہم نے تمام ریکارڈ جے آئی ٹی کو فراہم کیا ہے ۔ جے آئی ٹی بار بار الزامات عائد کرکے اپنا ٹائم بڑھانا چاہتی ہے مگر سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ 60دن سے ایک دن بھی زیادہ نہیں دے گی ، جے آئی ٹی پہلے کہہ رہی تھی کہ تفتیش صحیح سمت میں جارہی ہے مگر اب یک دم اپنے موقف سے ہٹ گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں ۔ اگر حکومت کا کوئی اہلکار ذیادتی کرے گاتو سب سے پہلے مسلم لیگ ن اس کے خلاف ایکشن لے گی ۔ جے آئی ٹی پر مسلم لیگ ن کے تحفظات برقرار ہیں اور ان پر سپریم کورٹ کو نظر ثانی کرنی چاہیے ۔ جے آئی ٹی کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی دستاویزات 75صفحے میڈیا مانیٹرنگ کے تھے جے آئی ٹی بتائے کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کی فون ٹیپنگ گواہوں کو زبردستی بیانات سے منحرف کرنے اور وعدہ معاف گواہ بنانے کس کے حکم پر کررہی ہے یا خود ہی سارے غیر قانونی کام کررہی ہے ۔ جب نہال ہاشمی نے اداروں کے خلاف بات کی تو مسلم لیگ ن نے ایک لمحے کا انتظار کئے بغیر ان سے استعفیٰ لے کر ان کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کردیا ۔ جو مسلم لیگ کے تحفظات جے آئی ٹی کے ان ممبران جن کا سیاسی تعلق ہے اس کو دبایا نہیں جاسکتا اگر ہمارے تحفظات درست ہیں تو ہم سپریم کورٹ نہ جائیں تو کہا ں جائیں سپریم کورٹ ان کا بھی جائزہ لے ۔ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن قانون کی عملداری قائم کرنے والے ادارے ہیں ۔ ان کو عمران خان جوکہ ایک اشتہاری مجرم ہے کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے ۔ عمران خان الیکشن کمیشن میں کہہ رہے ہیں کہ میں نے کوئی جواب نہیں دینا دوسری طرف عمران خان دھرنے میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی کردار کشی کر تے ہیں ۔ چیئرمین ایف بی آر کو دھمکیاں دیں دن رات مسلم لیگ ن کو نشانہ بنایا گیا ۔ ان سب کے باوجود مسلم لیگ ن عدالتوں کا احترام کرتی ہے اور عدالتوں کے سامنے سر جھکایا ہوا ہے ۔ جے آئی ٹی کو بتاناپڑے گاکہ 75صفحات میں میڈیا مانیٹرنگ انہوں نے کس طرح کی یا خود کی یا ان کو کسی نے فراہم کی ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...