جے آئی ٹی کی دھمکیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو عید کے بعد دما دم مست قلندر ہو گا: محمود الرشید

جے آئی ٹی کی دھمکیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو عید کے بعد دما دم مست قلندر ہو گا: ...

لاہور(نمائندہ خصوصی) تحریک انصاف نے وزیراعلی پنجاب کے خلاف ہر دوروز بعد صوبے میں ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کرنے کا اعلان کردیا ہے ، تفیصلات کے مطابق گذشتہ روز چیئرمین سیکرٹریٹ میں اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید ،رکن صوبائی اسمبلی میاں اسلم اقبال، شعیب صدیقی ، یاسمین راشد، عندلیب عباس نے پریس کانفرنس میں کہاکہ پنجاب میں کرپشن کی کہانیاں عام ہیں لیکن وزیراعلیٰ گڈگورننس اور کرپشن فری صوبے کا راگ الاپتے رہتے ہیں ، پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف میاں محمودالرشید نے صوبے میں کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں پر بات کرتے ہوئے کہاکہ موٹروے میں کرپشن کرکے قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا ، صا ف پانی منصوبہ میں اڑھائی ارب کی کرپشن ہوئی ہے، پینے کے صاف پانی کے 60 پلانٹس بند ہیں ، 40 میں گندا پانی آتا ہے اور صرف 16 پلانٹس صحیح چل رہے ہیں، 20 لاکھ کا پلانٹ ایک کروڑ 20 لاکھ میں لگایا گیا ہے ، میاں محمود الرشید نے کہاکہ ڈائیوو کو16 ارب 90 کروڑ میں ٹھیکہ ملتا ہے مگرڈائیوو کو22 ارب سے زائد رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے، موٹروے کرپشن اسکینڈل کی دوبارہ سے تحقیقات ہونی چاہئیں، بجٹ میں صاف پانی پراجیکٹ کا اڑھائی ارب بلائنڈ ہیڈ میں لکھا گیا ہے مگر اس کی تفصیل موجود نہیں ہے ، لاہور میں116 فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے ہیں جن میں 60 خراب ہیں جبکہ 40 میں گندہ پانی آ رہا ہے اور صرف 16 فلٹریشن پلانٹ چل رہے ہیں انہوں نے کہاکہ پوری قوم کی نظریں پانامہ کیس کی جے آئی ٹی پر ہیں، شریف برادران کے پاس بچنے کے لیے صرف قطری خط تھا جو مسترد کردیا گیاہے، لندن اپارٹمنٹس کے معاملے پر لندن ہائیکورٹ کا فیصلہ بڑا اہم ہے، نوازشریف کے درباری جے آئی ٹی کو جس طریقے سے دھمکارہے ہیں وہ پوری قوم دیکھ رہی ہے اور ادارے جے آئی ٹی سے تعاون نہیں کررہے ، جسٹس اعجاز افضل نے کہاہے کہ حکمران عدلیہ کے خلاف سازش کررہے ہیں اور ایجنسیوں کا استعمال مت کریں، میاں محمودالرشید نے کہاکہ اگر جے آئی ٹی کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو عید کے بعد دمادم مست قلندر ہوگا، اگر جے آئی ٹی کے کام میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو پی ٹی آئی میدان میں ہو گی ، انہوں نے کہاکہ 90، 91 میں موٹروے کے پی سی ون میں کک بیکس وصول کیے گئے، مگر اسوقت کے تحقیقاتی افسران پر کرپشن الزامات لگا کر معطل کردیا گیاتھا،میاں محمودالرشید نے کہاکہ وزیر اعلی شہبازشریف نے کہاکہ کرپشن کہاں ہورہی ہے تو یہ ہے کرپشن جو شہبازشریف کے ناک نیچے ہو رہی ہے ، پنجاب کے بجٹ میں صاف پانی پراجیکٹ کے لیے 130 ارب رکھے جاتے ہیں، پہلی ٹیم کو فارغ کرکے پھر صاف پانی کا بجٹ 190 ارب کردیا جاتا ہے، انہوں نے لاہور میں 20 لاکھ میں لگنے والے فلٹر پلانٹ ، ایک کروڑ ، بیس لاکھ میں لگائے گئے ہیں کیا یہ پنجاب حکومت کی کرپشن نہیں تو اور کیا ہے ، جماعت اسلامی کے فلاہی ادارے اور دو تین این جی اوز نے یہ فلٹرپلانٹ بیس بیس لاکھ میں لگائے ہیں جو پنجاب حکومت نے سوا کروڑ میں لگائے ہیں، انہوں نے کہاکہ اس کرپشن میں کون شامل ہے اور یہ چہرے عوام کے سامنے آنے چاہئیں، انہوں نے کہاکہ چین کی سائنو ہائیڈروچینی کمپنی یہی پلانٹ چالیس فیصد کم لاگت پر لگانے پر تیار تھی مگر اس کو ٹھیکہ نہیں دیا اور شہبازشریف نے ان کے ٹینڈر کینسل کروادیئے ، صاف پانی پروجیکٹ میں ایک وزیرکے بھائی کو نوازنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ ہم نے نوازشریف کی نااہلی کے لئے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ہوئی ہے کہ نوازشریف نے اثاثے چھپائے ہیں اور مریم نوازکو اپناڈی پنڈنٹ شو کیا ہے ، انہوں نے کہاکہ اصل میں نوازشریف نے تمام اثاثے مریم نواز کے نام رکھے ہوئے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ انعام الرحمن نے خود ایک ٹی شو کے دوران کہاہے کہ نوازشریف نے موٹروے میں کمیشن کھایاہے اور اس نے کہاکہ اگر مجھے تحفظ دیا جائے تو میں سب کو بتانے کو تیار ہوں ، ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ ان کے الزامات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں اور کرپٹ عناصر کا چہرہ عوام کے سامنے بے نقا ب ہونا چاہئے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...