اسلام مخالف قوتیں مسلم ممالک کی تباہی کے درپے ہیں عارف یوسف

اسلام مخالف قوتیں مسلم ممالک کی تباہی کے درپے ہیں عارف یوسف

پشاور( کرائمز رپورٹر)پشاور میں علمائے کرام سمیت مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے افراد نے قبلہ اول پریہودیوں کے قبضے اورمسئلہ کشمیرسمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اتحاد ویکجہتی پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام مخالف قوتیں مسلم ممالک کے تباہی کے در پے ہیں،مسائل کے حل کیلئے مسلم ممالک کی قیادت کوکردار ادا کرنا ہوگا ، وہ پشاور کے مقامی ہوٹل میں پیس فاؤنڈیشن کے زیراہتمام قبلہ اول اور مقبوضہ کشمیر کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ، کانفرنس سے وزیراعلی کے مشیر عارف یوسف،سابق ایم پی اے ڈاکٹر ذاکر شاہ، پشاور یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹرقبلہ آیاز،پروفیسرڈاکٹرفخرالاسلام، مولانا عبدالمالک، مولانا عبدالجمیل، امیرجماعت الدعوہ پشاور یاور آفتاب،جماعت اسلامی کے رہنما قاری طیب قریشی،چیئرمین پیس فاؤنڈیشن مقصود احمد سلفی، کوآرڈی نیٹریو کے اظہررحیم، علامہ حسن کراوی اورسول سوسائیٹی کے نمائندے قمرنسیم اوردیگر نے خطاب کیا ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک کوبدامنی کاسامنا ہے،اسلام مخالف قوتیں مسلمانوں کو منتشرکرنے پر تلی ہوئی ہیں، آج امت مسلمہ مسائل سے دوچارہیں جسکی بنیادی وجہ دین سے دوری اور مسلم قیادت کا نہ ہونا ہے، انہوں نے کہا کہ فلسطین اورمقبوضہ کشمیرکی آزادی سے متعلق اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداتوں کے کاغذات کا وزن چالیس ٹن سے تجاوزکرچکا ہے لہذا صرف قرارداداورمذمت سے کام نہیں چلے گا بلکہ مسلم قیادت کو عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،پاکستان سمیت مسلم دنیا کے حکام بالاعالمی اداروں میں احتجاج ریکارڈ کریں کہ بیت المقدس کیوں یہودیوں اور عیسائیوں کے قبضے میں ہے، شام، برما، افغانستان، عراق اور دیگر مسلم ممالک میں ظلم وستم کی داستانیں رقم کی جارہی ہیں، اسلام کا غلبہ جہاد سے ملے گا، مقررین نے کہا کہ آج عرب ممالک اور جنوبی اشیا میں مسلم ممالک آپس میں دست وگریباں ہیں ایسے میں وہ کیسے مسلمانوں کو درپیش مسائل حل کرسکتے ہیں؟ انہوں نے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل میں او آئی سی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسکا موثرکردارنظرنہیں آرہا ہے،لہذاتمام مسلم قیادت کو آپس میں مل بیٹھ کر قبلہ اول اور کشمیر کی آزادی سمیت دیگر مسائل پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے ۔انہوں نے مسلم ممالک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کیساتھ ساتھ معاشی ترقی پربھی توجہ دینے کی ضرورت پرزوردیا تاکہ یہ ممالک ترقی کرسکیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...