کوہاٹ کرکٹ میچ جیتنے کی خوشی میں فائرنگ 18 افراد گرفتار

کوہاٹ کرکٹ میچ جیتنے کی خوشی میں فائرنگ 18 افراد گرفتار

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوہاٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کی انڈیا سے جیت کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کرنے والے 18افراد کواسلحہ سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔ہوائی فائرنگ کے جرم میں گرفتار افراد کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔ہوائی فائرنگ کے مرتکب زیادہ تر افراد کو جنگل خیل کے علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔آئی سی سی کرکٹ چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میچ میں روایتی حریف کو شکست کی خوشی میں ہوائی فائرنگ سے خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور اور مردان میں زخمی ہونے والے 38افراد کو ہسپتال داخل کرادیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق 18جون کو انگلینڈ کے اوول کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان اور انڈیا کرکٹ ٹیموں کے مابین کھیلے گئے آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میچ میں روایتی حریف بھارت سے قومی کرکٹ ٹیم کے فتح کی خوشی میں پابندی کے باوجودہوائی فائرنگ کرنے والے18افراد دلنواز،عبداللہ،حمزاللہ ،عادل،شہزادالرحمان،سہیل بادشاہ،سلمان عرف ظہور،احسن،حسنین،حماد،شمس الرحمان،رحیم خان،ثاقب،حامد منیر ساکنان جنگل خیل،صابر شاہ،باز محمد اور طاہر محمود ساکنان کوہاٹ سٹی کے خلاف تھانہ جنگل خیل اور تھانہ سٹی میں مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔پولیس نے حراست میں لئے گئے ہوائی فائرنگ کے مرتکب ان افرادسے مجموعی طور پر دوبندوق،ایک رائفل،تیرہ پستول اور مختلف بور سے درجنوں گولیاں برآمد کرکے قبضے میں لے لئے ہیں۔قومی کرکٹ ٹیم کی جیت کی خوشی میں ہوائی فائرنگ شروع ہوتے ہی ڈی پی او کوہاٹ جاوید اقبال نے جانی نقصان کے خدشات کے پیش نظر پولیس کو فوری کاروائی کاحکم دیا تو ایس ایچ او تھانہ جنگل خیل قسمت خان نے پولیس نفری کے ہمراہ تیز ترین چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران ہوائی فائرنگ کے مرتکب چھ افراد کو موقع پر رنگے ہاتھوں اسلحہ سمیت گرفتار کرلیاجبکہ دیگرروپوش ا فرادکے خلاف بھی ہوائی فائرنگ کے جرم میں مقدمات درج کرکے بعد ازاں انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا۔واضح رہے کہ آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میچ میں روایتی حریف انڈیا کو شکست کی خوشی میں ہوائی فائرنگ سے صوبہ کے مختلف علاقوں میں 38افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کیلئے مختلف ہسپتالوں میں داخل کرادیا گیا ہے۔اس حوالے سے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اپنی خوشی کے اظہار کا یہ کونسا طریقہ ہے جسمیں ہم اپنے ہی لوگوں کو زندگی بھر کا دکھ دیں۔اپنے لمحے بھر کی خوشی میں اوروں کے سہارے چھینیں۔لہٰذا ہم سب کو مل کر ہوائی فائرنگ جیسے جان لیواو فرسودہ روایت اور قبیح عمل کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگاجسکے لئے معاشرے کے ہر فرد کی مربوط و اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام میں ہوائی فائرنگ کی لعنت کے خلاف شعور اجاگر کیا جاسکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...