وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔چھٹی قسط

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔چھٹی قسط
وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔چھٹی قسط

  


دوسرے دن بینک پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد میں نے عمران کو اپنے کمرے میں بلایا اور کل جو کچھ یہاں ہوا تو بتایا۔ وہ منہ کھولے حیرت سے میری بات سنتارہا۔

’’حیران کن بلکہ ناقابل یقین بات ہے خان صاحب!‘‘ وہ میرے خاموش ہونے کے بعد بولا۔

’’اگر یہ سب کچھ میرے ساتھ نہ ہوا ہوتا تومیں بھی یہی کہتا۔‘‘

وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر باہر نکل گیا۔ اس کی واپسی میں زیادہ دیر نہ لگی۔

’’خان صاحب! میں نے اشرف سے پوچھا ہے وہ قسمیں کھاتاہے کہتا بے شک اس سے حلف لے لیں نہ اس نے کسی کو اندر آنے دیا ہے اور نہ کسی کو دیکھا ہے۔ خان صاحب! اسے اس بینک میں ملازمت کرتے ہوئے سات سال ہوگئے ہیں آج تک اس کی کوئی شکایت نہیں آئی۔ پانچ وقت کا نمازی اور اپنی ڈیوٹی کاپابند ہے۔‘‘

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔پانچویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’پھر وہ سب کیاتھا؟‘‘ میں بری طرح الجھ گیا۔

’’میں خود حیران ہوں اس بینک میں مجھے بارہ سال ہوگئے ہیں ملازمت کرتے ہوئے کبھی اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ہوا نہ اس حلیے کا کوئی آدمی یہاں آیا۔‘‘

’’اچھا یہ بتاؤیہاں ہندو رہتے ہیں کہیں آس پاس؟‘‘

’’یہاں سے تقریباً سات آٹھ کھوس دور سپیروں کی ایک بستی ہے۔ وہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ تو بہت غریب اور بے چارے قسم کے لوگ ہیں گلیوں میں گھوم پھر کر سانپ کا تماشا دکھاتے اور بھیک مانگتے ہیں۔ ہاں چھوٹی موٹی چوریاں ضرور کرتے ہیں اگر داؤ لگ جائے اس کے علاوہ ان کے بارے میں کبھی اور کوئی بات نہں سنی۔‘‘ اس نے بتایا۔

’’اچھا چھوڑو اس بات کو جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا اگر وہ دوبارہ آیا تودیکھ لیں گے۔‘‘ ہم کچھ دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر وہ اپنی سیٹ پر چلاگیا میں بھی اپنے کام مصروف ہوگیا۔ فصل کی کٹائی ہو چکی تھی۔ ان دنوں میں بینک میں کام زیادہ ہوتا تھا۔ کام کرتے کرتے پانچ بج گئے۔ چھٹی کے وقت ہم باہر نکلنے لگے تو عمران کہنے گا۔

’’خان بھائی! میں نے ایک مکان آپ کی رہائش کے لیے دیکھا ہے زیادہ بڑا تو نہیں ہے دوکمرے، باتھ روم اورصحن ہے۔ زیادہ خوبصورت تو نہیں بس گزارہ ہے۔‘‘

’’رہنے دو عمران! اتنا خوبصورت بنگلہ چھوڑ کر صائمہ دو کمروں کے تنگ سے مکان میں کبھی نہ جائے گی۔ ویسے بھی اب وہ ایڈجسٹ ہو چکی ہے۔ اور اس کے بعد کوئی ’’ایسی بات‘‘ بھی نہیں ہوئی۔ دراصل مجھے تو پہلے ہی یقین نہ تھا۔ کہ اس گھر میں ایسا کوئی ’’فضول چکر‘‘ ہے لیکن صائمہ کی وجہ سے پریشان تھا۔‘‘ اس کے بعد بات خم ہوگئے۔ دوسرے دن جب میں بینک جانے لگا تو صائمہ نے مجھے یاد دلایا کہ مالی اور پودوں کا بندوبست کرنا ہے۔ شام کو جب ہم آنے لگے تو میں نے عرمان سے مالی اور پودوں کا ذکر کیا وہ کہنے گا۔

’’میرے ایک دوست ہیں رزاق صاحب۔۔۔انہوں نے بہت بڑی نرسری بنائی ہوئی ہے چل کر ان سے پودے بھی لے آتے ہیں وہیں سے مالی کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔‘‘

دوپہر کو بارش ہونے کی وجہ سے موسم خوشگوار ہوگیا تھا اس لئے ہم پیدل ہی چل پڑے ۔میرا مقصد شہر کے راستوں سے واقفیت حاصل کرنا بھی تھا۔ ہم دونوں گپ شپ کرتے چلے جا رہے تھے کہ اچانک کسی نے پیچھے سے میری قمیض پکڑ لی۔ میں چونک کر مڑا۔۔۔وہ ایک میلا کچیلا ملنگ تھا۔ اسکے سر اور داڑھی کے بال بے تحاشا بڑھے ہوئے تھے اور وہ لال انگارہ آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس نے ہذیانی انداز سے قہقہہ لگایا۔

’’پکڑا گیا۔۔۔آخر کار پکڑا گیا۔ اس بار اس کا شکار تو ہے سن لیا۔۔۔اس بار اس کا شکار تو ہے ‘‘ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تاکہ اسکوکچھ دے سکوں لوگ ہماری طرفدیکھ کر ہنس رہے تھے۔

’’پاگل ہے بے چارہ‘‘ کسی نے کہا۔ وہ سب سے بے نیاز میری آنکھوں میں دیکھ رہاتھا جن میں عجیب سی کشش تھی۔ میں نے جیب سے دس کانوٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اس نے نوٹ منہ میں ڈالا اور نگل گیا۔ پھر قہقہے لگانے لگا۔ عمران نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا:

’’بابا جی! اب ہمیں جانے دو۔‘‘ اس نے عمران کی بات پر ذرا دھیان نہ دیا۔

’’سادھو کیا کہاتا تھا؟ ‘‘ اسنے میرے کان کے پاس منہ لا کر سرگوشی کی۔ میں بری طرح چونک گیا۔

’’سب کتے اس کے پیچھے پڑے ہیں لیکن وہ تو تجھ پر عاشق ہوگئی ہے‘‘ وہ سیدھا میری آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔’’بیوی کے پلو سے بندھ جا۔۔۔سنا میں کیا کہہ رہا ہوں؟‘‘ اس نے سرگوشی کی۔

’’میں آپ کی بات سمجھا نہیں بابا جی! آپ کیا کہہ رہے؟میں واقعی کچھ نہ سمجھا تھا۔

’’احمق ہے تو۔۔۔کچھ نہیں سمجھ گا۔ آگ سے نہ کھیل۔ وہ تو آگ ہے آگ، جل جائے گا ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ، اس نے ایک وحشیانہ قہقہہ لگایا اور ایک طرف بھاگ کھڑاہوا۔ میں نے عمران کی طرف دیکھا وہ مسکرا کربولا۔

’’بے چارہ پاگل ہے۔‘‘ میں نے نفی میں سرہلایا۔

’’تم نے شاید اس کی بات غور سے نہیں سنی وہ کہہ رہا تھا سادھو کیا کہتا تھا؟‘‘

’’واقعی۔۔۔؟ میں نے نہیں سنا۔‘‘ عمران نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔

’’اس نے میرے کان میں سرگوشی کی تھی‘‘ میں نے کہا ہم دوبارہ چل پڑے۔ میں سارا راستہ یہی سوچتا رہا کہ ملنگ کی باتوں کا کیا مطلب تھا؟ کیا وہ سادھو کوجانتا ہے وہ کس کی بات کر رہا تھا کون آگ ہے؟ بیوی کے پلو سے بندھ جا۔ اسکا مطلب بھی میری سمجھ میں نہ آیا۔ بلکہ سچ پوچھیں تومیں اسکی کوئی بات نہ سمجھ سکا تھا۔ عجیب بے ربط باتیں کر رہا تھا۔ سادھو نے بھی کچھ بے معنی سی باتیں کی تھیں۔ نرسری سے پودوں اور مالی دونوں کا بندوبست ہوگیا تھا۔ واپسی پرمیری نظریں اسی ملنگ کو تلاش کرتی رہیں پر وہ نہ ملا۔ گھر پہنچ کر میں نے صائمہ کو بتایا کل مالی اور پودے پہنچ جائیں گے۔ وہ لان میں جا کر جگہ دیکھنے لگی جہاں کل اس نے مالی سے پودے لگوانے تھے۔ بچے اندر کمرے میں بیٹھے کھیل رہے تھے۔ میں بیڈ پر لیٹ گیا۔ میرے ذہن میں ابھی تک اس ملنگ کی باتیں گونج رہی تھیں۔

’’سادھو کیا کہتا تھا؟‘‘ اس کی سرگوشی جیسے اب بھی مجھے سنائی دے رہی تھی۔

’’کھانالاؤں خان صاحب؟‘‘ صائمہ نے اندر آکر پوچھا۔

’’ہاں لے آؤ۔‘‘ میں نے کہا۔ سب نے وہیں بیٹھ کرکھانا کھایا۔ شام ہونے کو تھی۔ سردی میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد بچے سو گئے۔

’’کیا بات ہے آپ کچھ پریشان ہیں جب سے باہر سے آئے ہیں میں دیکھ رہی ہوں آپ چپ چپ سے ہیں۔ خیریت تو ہے؟‘‘صائمہ نے میرے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

’’نہیں پریشانی کی توکوئی بات نہں بس کام کی زیادتی ہے۔ اس لئے اس کے بارے میں سوچ بچار کر رہا تھا‘‘ میں اسے سادھو اور ملنگ کی باتیں بتاکر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔

’’میں سوچ رہی تھی کہ ہم سب کچھ دنوں کے لیے لاہور چلے چلیں آپ دو تین دن کی چھٹی لے لیں سچ۔۔۔میرا بڑا دل کر رہا ہے سب سے ملنے کو۔

’’مجھے تو شاید چھٹی نہ مل سکے اور اتنی جلدی چھٹی میں لینا بھی نہیں چاہتا۔ تم چلی جاؤ بچوں کو لے کر‘‘ میں نے کہا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔

’’کیوں؟‘‘ میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

’’کمال کرتے ہیں آپ بھی۔ کھانا کہاں سے کھائیں گے؟ اتنی دورجا کر کم سے کم ایک ہفتہ تو رہنا پڑے گا۔ اتنے دن آپ کی ضروریات کا خیال کون رکھے گا؟‘‘ وہ ایسی ہی تھی ہر دم میرا خیال رکھنے والی۔

’’اسی لیے توکہتاہوں دوسری شادی کرنے دو۔ ایک بیوی اگرکہیں جائے تو دوسری خیال رکھنے کو موجود ہو۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا۔

’’ٹھیک ہے کر لیں دوسری شادی میں چلی جاتی ہوں۔ آپ جی بھر کر اس کے ساتھ رہ لیں۔ آپ کی حسرت پوری ہو جائے گی‘‘ اس نے غصے سے کہا اوراٹھ کر جانے لگی۔ میں نے اسے ہاتھ سے پکڑکر اپنی طرف کھینچا۔ وہ اپنے دھیان میں تھی جھٹکا کھا کر میرے اوپر آن گری۔ سیاہ گھنے ابال میرے چہرے پر پھیل گئے۔ میں نے ایک گہری سانس لی اسکے وجود کی خوشبو سے میں معطر ہوگیا۔ حسین آنکھیں پانیوں سے بھر گئی تھیں۔ اس قسم کامذاق میں بھی اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ میں نے اس کا حسین چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔

’’ارے۔۔۔ارے بیوقوف! میں مذاق کر رہا تھا۔ تم تو سیریس ہوگئیں۔‘‘ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔

’’میں یہ بات مذاق میں بھی برداشت نہیں کر سکتی کہ آپ کسی دوسری عورت کی طرف متوجہ ہوں اس دن میں اپنی جان دے دوں گی۔‘‘

’’اچھا بابا سوری غلطی ہوگئی‘‘ میں نے دونوں ہاتھوں سے کان پکڑ لیے۔ میرے اس انداز پر ہنس پڑی۔

’’ٓآئندہ ایسا مذاق نہیں کرنا۔‘‘ وہ بولی ۔ میں نے اس کی ناک کو چٹکی میں پکڑ کر کہا۔

’’ٹھیک ہے ملکہ عالیہ ! غلام آئندہ اس بات کا دھیان رکھے گا؟‘‘ اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔ میرے مجبور کرنے پر وہ دوسرے دن بچوں کے ساتھ لاہور چلی گئی۔ انہیں کوچ میں بیٹھا کر میں بینک چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد محمد شریف اجازت لے کر اندر آگیا۔

وہ اسی بینک میں کلرک تھا۔ نہایت متقی اورپرہیز گار، اسم بامسمیٰ تھا۔ چہرے سے پاکیزگی جھلکتی تھی پابند شرع تھا۔ ہر وقت وہ ذکر الٰہی میں مصروف نظر آتا بینک کا سارا عملہ اس کی عزت کرتا تھا۔

’’اندر آسکتا ہوں جناب؟‘‘ وہ دروازے پر کھڑا پوچھ رہا تھا۔

’’آئیں شریف صاحب! آپ بلا اجازت اندر آجایا کریں پوچھا نہ کریں میں اس کے احترام میں کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کہیئے کیا بات ہے؟‘‘ اس نے ادب سے میرے ساتھ مصافحہ کیا اور کہنے گا۔

‘‘خان صاحب! پرسوں میرے بیٹے کا عقیقہ ہے میری خواہش ہے آپ اس میں شرکت کرکے مجھے عزت بخشیں۔‘‘

’’کیوں نہیں محمد شریف! یہ تو میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسا نیک انسان اپنی دعوت میں بلائےَ‘‘

’’جناب ! کیوں شرمندہ کرتے ہیں ۔ آپ بڑے افسر ہیں ہم تو آپ کے خادم ہیں۔‘‘ وہ سراپا انکسار بن گیا۔

’’ایسی بات نہیں۔۔۔بڑی تو صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے اس کے بندے تو سب برابر ہیں۔ یہ درجہ بندیاں بھی اسی کی بنائی ہوئی ہیں تاکہ دنیا کا نظام احسن طریقے سے چلتا رہے۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’بے شک بڑی ذات صرف اللہ کی ہے۔‘‘ وہ ایک جذب کے عالم میں بولا۔

’’تو پھر میں توقع رکھوں کہ آپ تشریف لا کر میری عزت افزائی کریں گے۔‘‘

’’کیوں نہیں شریف! میں بخوشی آؤں گا۔‘‘

’’شکریہ جناب! اسلام علیکم‘‘ اس نے جاتے جاتے سلام کیا۔ ساڑھے پانچ بجے میں بینک سے نکلا اور پیدل ہی گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں خراما خراماں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میری نظر اسی ملنگ پر پڑی جو کل ہمیں ملا تھا۔

میں جلدی سے اس کی طرف بڑھا اس کی رفتار خاصی تیز تھی۔ میں تقریباً دوڑ رہا تھا۔ اسنے اچناک پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور مسکرا کر اپنی رفتار اور تیز کر لی۔ میں جتنا تیز چل سکتا تھا چل رہا تھا لیکن اس کے اور میرے درمیان فاصلہ برقرار رہا۔ بازار سے نکل کر میں نے دوڑنا شروع کر دیا۔ جلد ہی ہم شہر سے باہر آگئے۔ وہ کبھی کبھی مڑ کرمیری طرف دیکھتا مسکراتا پھر اپنی رفتار مزید تیز کر لیتا۔ مجھے اسکی تیز رفتاری پر حیرت ہو رہی تھی۔ اب کھیت شروع ہو چکے تھے۔ چلتے چلتے ہو ایک کھیت کے کنارے رک گیا۔ میں نے اپنی رفتار مزید تیز کر لی اچانک مجھے کسی چیز سے ٹھوکر لگی اور میں منہ کے بل گر پڑا۔ سخت چوٹ آئی گٹھنے بری طرح چھل گئے۔ پینٹ بھی اس جگہ سے پھٹ گئی۔ جلدی سے اٹھ کر ملنگ کی طرف دیکھا لیکن وہ غائب تھا۔ میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی اسے تو جیسے زمین کھا گئی تھی۔ کھیتوں میں فصل بھی نہ تھی کہ میں سوچتا وہ فصلوں میں گھس گیا ہوگا۔ میں جلدی سے اس جگہ پہنچا جہاں وہ میرے گرنے سے قبل کھڑا تھا۔ لیکن اس کاکہیں نام و نشان نہ تھا۔ اچانک کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ میں بری طرح اچھل پڑا چونک کر دیکھا تو میرے پیچھے وہی سادھو کھڑا تھا۔ جو بینک کا وقت ختم ہونے کے بعد نہ جانے کس طرح اندر داخ ہونے اور کمرے سے نکلنے کے بعد غائب ہوگیا تھا۔۔۔اب وہ میرے سامنے کھڑا بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔

’’کس کارن اتنا بیاکل ہو رہا ہے بالک۔۔۔کسے تلاش رہا ہے ۔۔۔؟‘‘ اس کی آنکھوں میں معنی خیز چمک تھی۔

ملنگ کے نظروں سے اوجھل ہونے سے میں پہلے جھنجھلایا ہوا تھا۔ اس پروہ منحوس سادھو پھر میرے سامنے آکھڑ اہوا۔

’’کسی کو نہیں‘‘میں نے رکھائی سے جواب دیا۔

’’اب تیرے کیا وچار ہیں؟ میں نے اس دن تجھ سے ایک پرشن (سوال) پوچھا تھا مجھے ابھی تک اس کا اتر (جواب) نہیں ملا، اس نے بڑے گھمبیر لہجے میں کہا۔

’’تم کون ہو؟ پہلے تو یہ بتاؤ پھر میں تمہارے سوال کا جواب دوں گا۔‘‘ میں نے کچھ سوچ کر نرم لہجے میں کہا۔ اس کے موٹے بھدے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔(جاری ہے)

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔ساتویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا


loading...