فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 125

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 125
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 125

  


ہماری اس پنجابی فلم کا نام ’’ظلم دا طوفان‘‘ رکھا گیا تھا۔ ہمیں یہ نام بالکل پسند نہیں تھا۔ بعد میں ایسے واقعات پیش آئے کہ ہمارا اس سے بالکل ہی دل اُکتا گیا۔ شباب کیرانوی صاحب کے دیرینہ پارٹنر آغا غلام محمد کے صاحب زادے آغا ریاض گل کو ہم نے آغا صاحب کی فرمائش پر اپنا پارٹنر بنالیا تھا۔ مقصد واضح تھا ہم جانتے تھے کہ روز مرّہ کے معاملات چلانا ہمارے بس سے باہر ہوں گے اس لئے ریاض گل جیسے مستعد اور اسمارٹ پارٹنر کا ہونا ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔

سلطان راہی کیلئے ہم نے شوٹنگ کا شیڈول بہت محنت سے بنایا۔ وہ انہیں پسند بھی آیا۔ انہوں نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور ہماری فلم کے لئے ڈیٹس بھی عنایت کردیں۔ اس شیڈول کے مطابق ہم نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ فی الحال آئندہ آٹھ مہینے تک کوئی نئی فلم سائن نہ کریں۔ ورنہ سارا شیڈول گڑ بڑ ہوجائے گا۔ کچھ دن بعد ہمیں پتا چلا کہ سلطان راہی نے دو اور فلمیں سائن کرلی ہیں۔ اس کے بعد دو اور فلموں کی خبر اخبار میں پڑھی۔ ان ہی دنوں شوٹنگ کے آغاز کے سلسلے میں ہم ان سے ملنے گئے تو شکایت کی کہ آپ نے پھر نئی فلمین سائن کرلی ہیں۔ اب ہماری ڈیٹس کا کیا ہوگا۔ اس طرح تو سارا شیڈول گڑ بڑ ہوجائے گا۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 124 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وہ بولے ’’سر جی آپ اپنی ڈیٹس کی بالکل فکر نہ کریں۔ ان میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوگی‘‘۔

ہم نے کہا ’’مگر آپ ان نئی فلموں کی شوٹنگ کس طرح کریں گے، وقت کہاں سے لائیں گے؟ سال میں ۳۶۵ دن سے زیادہ تو ہو نہیں سکتے اور نہ ہی کیلنڈر میں مہینے اور تاریخیں بڑھ سکتی ہیں۔ ان نئی فلموں کی شوٹنگ کب شروع کریں گے؟‘‘

بولے ’’ان سب کی تھوڑی تھوڑی شوٹنگ تو میں نے کردی ہے۔ آگے بھی اللہ مالک ہے‘‘۔ ہم نے حیران ہوکر انہیں دیکھا۔ وہ ہنسنے لگے ’’آغا جی ناراض نہ ہوں۔ بات یہ ہے کہ ان پروڈیوسروں کی حالت اچھی نہیں تھی۔ ایک سال اور انتظار کرتے تو بالکل فاقے ہوجاتے۔ میں نے پروڈیوسروں سے ایک ایک دو دو گھنٹے مانگ کر ان کا کام شروع کرادیا۔ اب ان بے چاروں کا میٹر بھی چالو ہوجائے گا۔ کیا حرج ہے اگر کسی کا بھلا ہوجائے‘‘۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا۔

ہم سمجھ گئے کہ یہ شخص لاعلاج ہے۔

’’ظلم دا طوفان‘‘ کی شوٹنگ شروع ہوئی تو ہم پہلے روز باری اسٹوڈیوز میں سیٹ پر گئے۔ اس کے بعد ایک دو بار کسی مسئلے کو حل کرنے کیلئے تو گئے ورنہ شوٹنگ کے تمام انتظامات آغا ریاض ہی کرتے تھے۔ بڑے آرٹسٹوں کی ڈیٹس کی گڑ بڑ ہوجاتی تھی تو ہم اس مسئلے کو اپنے دفتر میں بیٹھے بیٹھے ہی حل کردیتے تھے۔ شوٹنگ کا آغاز موسم گرما میں ہوا تھا اور دو ماہ بعد ہی جون کا مہینہ سر پر آگیا۔ ویسے بھی اس سال سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ ان ہی دنوں ہم نے سنا کہ سلطان راہی کے باہر جانے کا وقت آگیا ہے اور وہ ایک مہینے کیلئے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ ہم نے راٹھور صاحب سے کہا کہ وہ ہماری ملاقات کیلئے سلطان راہی سے کوئی وقت لے لیں تاکہ ہم یہ مسئلہ حل کریں۔ انہوں نے فون کرکے بتایا کہ رات کو گیارہ بجے باری اسٹوڈیو کی عقبی بستی میں آجائیے۔ وہیں ان کی شوٹنگ ہے۔

رات کے گیارہ بجے ہم باری اسٹوڈیو کے عقبی حصے میں پہنچے تو سلطان راہی ایک گوشے میں فائٹرز اور مزدوروں کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے اور تبلیغ بھی کر رہے تھے۔ اس فلم میں وہ ڈاکو کا کردار کر رہے تھے اور سیاہ لباس اور اسی رنگ کی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ ہمیں دیکھا تو اٹھ کرچلے آئے۔

’’آغا جی بس دو تین شاٹ ہیں۔ اس کے بعد آپ میرے ساتھ گھر چلئے۔ آپ نے کھانا تو نہیں کھایا؟‘‘

ہم نے انکار میں سر ہلا دیا۔

’’ویری گڈ۔ پھر تو ساتھ ہی کھانا کھائیں گے۔ آپ چائے پیجئے‘‘۔ انہوں نے ہمارے بیٹھنے کیلئے کرسی کا بندوبست کرایا اور پروڈکشن والے کو بلا کر کہا ’’انہیں جانتے ہو؟‘‘

اس نے ہمیں غور سے دیکھا۔ اندھیرا بھی تھا اور وہ ہمیں صورت سے جانتا بھی نہیں تھا ’’نہیں جی‘‘ اس نے صاف انکار کردیا۔

’’ارے یہ آفاقی صاحب ہیں۔ کبھی نام سنا ہے؟‘‘

اس نے پھر غور و خوض کیا اور کہنے لگا ’’شاید سنا تو ہے۔ یہ کیا کام کرتے ہیں؟‘‘

راہی صاحب نے ہماری طرف دیکھا اور ہنسنے لگے۔ پھر بولے ’’یہ اکبری منڈی میں آڑھتی ہیں۔ چاول، دال کی ضرورت پڑے تو سستی دلادیں گے۔ اچھا دیکھو، یہ میرے مہمان ہیں۔ انہیں ہر دس پندرہ منٹ کے بعد چائے پلانا تمہاری ذمے داری ہے۔ ٹھیک ہے؟‘‘

’’ٹھیک ہے‘‘۔ اس نے زور سے ہلادیا۔

’’آغا جی۔ آپ اطمینان سے بیٹھیں۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف اسے بتادیں۔ اس سیٹ کو اپنا ہی سیٹ سمجھیں۔ بس میں یوں فارغ ہوا‘‘۔ یہ کہہ کر وہ شارٹ دینے کے لئے چلے گئے۔

انہوں نے سچ کہا تھا۔ دو چار شاٹ ہی فلمائے تھے مگر خاصے لمبے اور مشکل تھے۔ لائٹس آن ہوئیں تو راہی صاحب منہ پر ڈھاٹا باندھ کر، بندوق سنبھالے کیمرے کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور اس کے بعد مار دھاڑ کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ پروڈکشن والا لڑکا ہمارا نام تو بھول گیا تھا مگر ہر دس پندرہ منٹ بعد ہمارے پاس آجاتا تھا ’’چودھری صاحب چائے منگاؤں؟‘‘ چودھری جی کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے؟ چودھری صاحب پان اور بوتل منگاؤں؟‘‘

اس کی خاطرداری نے ہمیں عاجز کردیا۔ مگر وہ بھی مجبور تھا۔ آخر ہم سلطان راہی کے مہمان تھے جس کو انہوں نے بطورِ خاص پروڈکشن والے کے سپرد کیا تھا۔

شوٹنگ کا سلسلہ رات کے ایک بجے تک جاری رہا۔ اس دوران میں راہی صاحب بھی کئی بار ہماری خبر لینے کیلئے آئے۔

’’نیند تو نہیں آ رہی آغا جی؟ بھوک تو نہیں لگ رہی سر جی؟ بس ابھی چلیں گے‘‘۔ اس طرح وہ ہمیں بار بار مسلسل دلاسے دیتے رہے۔

’’چلیں سر جی۔ آپ اپنی گاڑی میرے پیچھے پیچھے لے آئیے‘‘۔

ہم نے کہا ’’ہمیں آپ کے گھر کا راستہ معلوم ہے‘‘۔

بولے ’’یہ بات نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ ہی میرے گھر پہنچیں‘‘۔

ہم لوگ اسٹوڈیو سے نکلے تو ایک بجے سے بھی دس پندرہ منٹ زیادہ ہوگئے تھے۔ رات کا وقت تھا اور سڑکیں سنسان تھیں۔ دس بارہ منٹ کے اندر ہم ان کے گھر پہنچ گئے۔ ان کی کار کے مخصوص ہارن کی آواز سن کر چوکیدار نے آہنی دروازہ کھول دیا۔ ان کے اشارے پر ہماری کار بھی اس قلعے کے اندر داخل ہوگئی۔

ان کے پہنچتے ہی کوٹھی کی ساری روشنیاں جل گئیں۔ ہر طرف چہل پہل نظر آنے لگی۔ یوں لگتا تھا جیسے ابھی شام ہی کا وقت ہے۔ لوگ نہ جانے کہاں سے نکل کر آگئے تھے۔ راہی صاحب سب سے ملے۔ کسی کو سلام کیا، کسی سے مصافحہ کیا، کسی کو گلے لگایا اور پھر ہمیں اپنے ساتھ لے کر اندر ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئے۔ وہی ڈرائنگ روم تھا اور وہی ڈیکوریشن۔ سلطان راہی کی روحانی پیشوا کے گیٹ اپ والی قد آدم تصویر منہ سے بولتی نظر آرہی تھی۔

’’لو بھئی کھانا لگاؤ۔ بہت دیر ہوگئی ہے۔ آفاقی صاحب کیا سوچتے ہوں گے کہ راہی کے کھانے کیلئے رت جگا کرنا پڑتا ہے‘‘۔

فرش پر ہی دستر خوان بچھا دیا گیا۔ پہلے خالی پلیٹیں آئیں۔ مگر پھر گرما گرم کھانا آگیا۔ دال روٹی سادہ سالن اور سلاد۔ یہ سپر اسٹار کا ڈنر تھا جو رات کے ڈیڑھ بجے کھایا جا رہا تھا۔ کھانے میں ان کے عملے کے لوگ بھی شریک تھے۔ کھانے کے بعد سب رخصت ہوگئے چائے آئی تو ہم دونوں اکیلے رہ گئے۔

’’حکیم کیجئے آغا جانی‘‘۔ انہوں نے چائے ختم کرنے کے بعد پانوں کی پوٹلی میں سے ایک پان نکال کر اپنے منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔ وہ ایسے تازہ اور شگفتہ لگ رہے تھے جیسے کہ ان کا دن ابھی شروع ہوا ہے حالانکہ شدید گرمی اور دھوپ میں وہ صبح چھ بجے سے رات کے ایک بجے تک مختلف شوٹنگز میں مصروف رہے تھے۔ وہ نہ صرف تروتازہ اور شگفتہ تھے بلکہ زندہ دلی کا مظاہرہ بھی کر رہے تھے۔ بدمزاجی اور چڑچڑاپن سلطان راہی کی سرشت میں ہی نہیں تھا۔ لڑائی جھگڑا تو دور کی بات، وہ اونچی آواز مین بولتے بھی نہیں تھے۔ حیرت ہوتی تھی کہ یہ وہی شخص ہے جو فلموں میں چیخے چلائے بغیر بات ہی نہیں کرتا اور اتنے زور سے دھاڑتا ہے کہ کانوں کے پردے پھٹنے لگتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ بھی تھی کہ بارہ چودہ گھنٹے تک مسلسل اونچی آواز میں چیخنے کے باوجود ان کی آواز خراب نہیں ہوئی تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ میاں نے میرے جسم میں اسپیشل گلا فٹ کیا ہے۔

ہم نے کہا ’’راہی صاحب آپ تو ایک مہینے کیلئے باہر جا رہے ہیں۔ ہمار شوٹنگ کا کیا ہوگا؟‘‘

بولے ’’میں نے راٹھور صاحب سے پروگرام طے کرلیا ہے وہ اس مہینے میرے بغیر شوٹنگ کرلیں گے۔ انجمن بیگم کے دو تین گانے ہیں جن میں میری موجودگی ضروری نہیں ہے۔ آؤٹ ڈور میں میرے شاٹس بعد میں بھی لیے جاسکتے ہیں۔ واپس آکر میں سب سے پہلے آپ کی شوٹنگ کردوں گا‘‘۔

لیجئے ہماری ساری پریشانی انہوں نے ایک لمحے میں دور کردی۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 126 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...