شرم تم کو مگر نہیں آتی

شرم تم کو مگر نہیں آتی
شرم تم کو مگر نہیں آتی

  


ماہ صیام مہینہ ہے تزکیہ نفس کا اور رب ذوالجلال کی بیش بہا رحمتوں کا جس میں شیطان جکڑ دیا جاتا ہے روزہ گناہوں کے خلاف ایک ڈھال بن جاتا ہے اور بخشش انسان کی آخرت سنوار دینے کے بہانے ڈھونڈتی ہے ۔ رحمت خداوندی پورے جوش سے برستی ہے ۔ شب قدر کہنے کو ایک رات ہے لیکن سال ہا سال کی عبادات کا ثمر اپنی قبا میں چھپائے مطلع الفجر تک اس کے رحمان و رحیم ہونے کا بین ثبوت ہے ۔ روزہ دار کو اجر سے نوازنے کا وعدہ خود خدا نے اپنے ذمہ لیا ہے اور اس کے منہ کی باس کو عطر و مشک سے زیادہ محبوب قرار دیا ہے ۔ سحر و افطار کا اہتمام کرتا مسلمان روز محشر اپنے پیدا کرنے والے کی رضا و خوشنودی کو مد نظر رکھتا عبادات خداوندی میں راہ نجات ڈھونڈتا  ہے-اس کے در ِریان سے گذرتا جنتوں کے مناظر آنکھوں میں پروتا ہوا اس بھوک اور پیاس کی بھی پرواہ نہیں کرتا ہے ۔

 خدا نے انسان کو انسان کے لئے پیدا کیا ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے افضل وہ ہے جو رب کی مخلوق کے حق میں بہتر اور اخلاق کے اعلی ترین مقام پہ فائز ہے ۔ روزہ دار اور ماہ رمضان کا احترام خدا نے تمام مذاہب اور اقوام کو سکھایا ہے ۔ جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے مسلم ریستورانوں پہ ایک ماہ کا ٹیکس معاف کردیا ہے تاکہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ مسلمان افطار و سحر کا آسانی سے اہتمام کر سکیں ۔ یورپ کی مارکیٹس میں رمضان المبارک کا خیر مقدم کرتے سٹالز اور ماہ صیام کی خوشی میں آویزاں بینرز مجھے ایک مسلمان ہونے اور اس ماہ میں روزہ دار ہونے کا امتیاز  و فخر بخشتے ہیں ۔ شعبہ جراحی سے منسلک ڈاکٹر حضرات جو بیرون ممالک خدمات انجام دیتے ہیں وہ میری اس بات سے ضرور متفق ہوں گے کہ افطار کے وقت پانی چاکلیٹ یا کھجور پکڑے ایک تھیٹر نرس آپریشن کرتے ہوئے مسلم سرجن کی جس طرح افطاری کا اہتمام کرتی ہے قابل دید اور ایک روزہ دار کے لئے ایک انسان کا خراجِ تحسین ہے ۔پر اسلام کے نام پہ وجود میں آنے والے اپنے وطن عزیز میں امراء کے ایک مخصوص طبقہ سے غریب شہریوں کی ماہ رمضان میں ہوتی تذلیل جب دیکھتا ہوں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔

 ملکی حکمران جو ایک ماہ بھی مہنگائی پہ قابو نہیں پاسکتے ان کی طرز حکمرانی پہ کیا لکھوں ۔ میں تو عام عوام کے حسن سلوک سے خائف ہوں جس نے اس رحمتوں بھرے مہینے میں اپنے رب کی روزہ دار مخلوق سے نعوذ بااللہ مقابلہ کی ٹھان لی ہے ۔ عام سی خوردونوش کی اشیاء عام انسان کی پہنچ سے بہت ہی باہر ہیں اور حکومتی گڈ گورنس کا ڈسا انسان ماہ صیام کے اختتام کا منتظر ہے کہ کب یہ برکتوں والا مہینہ ختم ہو اور وہ پیٹ بھرنے کا کوئی سامان کر سکے ۔رضائے الہی کا متمنی ایک فرض الہی کی بجا آوری کے بعد بھی کس کے فرض کی تسکین میں بھوکا پیٹ بلبلاتا ہے  اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ رمضان بازار کہنے کو ماہ رمضان میں مخلوق خدا کی مدد کو جا بجا قائم ہیں اور لگانے والوں کی تصاویر کی ایک لمبی سی قطار سے بھی مزین ہیں جن کے چہروں پہ سجی مسکراہٹ اس کے لئے کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے جن کا جواب شاید وہ کھوجنا  بھی چاہتا ہے ۔ وہ ہونٹوں پہ سجی مسکان سے پوچھنا چاہتا ہے کہ کیا یہ طمانیت کی مسکراہٹ ہے یا عوام کی بے بسی پہ ایک ہنسی وہ جس میں امتیاز نہیں کر پاتا ہے تو سجی قیمتیں اور اشیا کا معیار دیکھتا ہے پھر ان اشتہاری تصاویر کی لاگت اور اس بلکتی عوام کی حالت پہ اسے بھی ترس آتا ہے کہ ان کے ٹیکس سے یہ کس خدمت کی خوشی میں کس انسان کی تشہیر مقصود ہے ۔ رب تو کہتا ہے کہ نیکی ایسے کر کہ دوسرے ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے پھر یہ کوئی انتخابی مہم ہے یا کچھ اور باور کروانے کی ایک کوشش ۔ پانچ ارب کی ایک خطیر رقم عوام کے ٹیکسز سے دی گئی ایک سبسڈی کی صورت کس کی جیبیں بھر رہی ہے بتانا مشکل ہے کیونکہ لاکھوں روپے کی ان ائر کنڈیشنڈ مارکیٹس میں جب صارف کے ماتھے پہ آئے پسینے دیکھتا ہوں تو  میں  بھی سوچتا ہوں کہ کیا واقعی قیمتیں اتنی کم ہیں یا لکھے نرخ سے بھی زیادہ کمانے والوں نے زندگی اتنی تنگ کر دی ہے کہ روزہ دار بغیر کچھ خریدے لوٹ رہاہے  -

پھر کون ہے جس کی ان شامیانوں کی  ٹھیکے دار ی  میں چاندی ہو رہی ہے اور چند دنوں میں ہی کس نے اس ماہ مقدس کی عقیدت میں ان کے لیے سال بھر کی روزی روٹی کا بندوبست کر دیا ہے ۔ باقی رہے اس ملک کے باشندے کب ٹھنڈی ہواؤں کے پالے ہوئے ہیں انہوں نے تو برسوں ایک چلچلاتی ہوئی دھوپ ، گرمی اور لوڈشیڈنگ کو اپنا ہمدم اور ہمراہی بنا لیا ہے ۔ اب آپ کی یہ کرم نوازی تو ان کے زخموں پہ نمک چھڑک رہی ہے کہ ان کے گھروں کے تپتے دالان اور سینکتی دیواریں جب ان کا مقدر ہیں تو یہ چند گھڑی کی نظر عنایت کس کام کی ۔  

رمضان بازاروں میں سرکاری گاڑیوں کی آمد اور افسران کا جاہ و جلال جس میں اس انسان کو ایک طرف دھکیل دیا جاتا ہے کیا   یہ اس کی  عزت نفس کی تحقیر تو نہیں کبھی آپ بھی سوچیے ۔ کچھ دن اس قوم نے مہنگائی کو اپنے تئیں کم کرنے کی کوشش میں پھلوں کی خریداری کا بائیکاٹ کیا ۔ میں درست یا غلط کی بحث میں نہیں پڑتا ۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ کیا آپ کی عوام آپ کی گورنس سے مایوس ہو گئی ہے کہ اس نے زندہ رہنے اور مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے لئے خود ہی اقدامات شروع کر دیے ہیں یا وہ اتنی بے یار و مددگار ہوگئی ہے کہ خود ہاتھ پیر مارتی ہوئی آپ کو آپ کی ذمہ داری کا احساس دلا رہی ہے ۔

منافع خور  تاجر خوب کمائیں گے ۔ ذخیرہ اندوز خوب مال بنائیں گے اور پھر اس دولت سے رب کے گھر جاتے ہوئے یہ بھول جائیں گے کہ رب تو دلوں میں بستا ہے ۔ دلوں کو رلا کے اور خدا کی مخلوق کو پل پل تڑپا کے کیسی بخشش ڈھونڈتے ہو ۔ ان گھروں کی غربت دیکھو جہاں بچے رمضان المبارک کے اختتام پہ عید پہ نئے کپڑوں کی تکرار کر رہے ہیں اور ماں باپ سمجھا رہے ہیں کہ عید کے بعد جب قیمتیں نیچے آجائیں گی اور رحمتوں بھرا تہوار گذر جائے گا تو  گر بن پڑے گی لیں دیں گے ۔ اس پہ سوچتا تو میں بھی ہوں کہ کیا غریبوں پہ رحمت ہی  اس وقت ہوتی ہے جب عید بھی گزر جاتی ہے  اور اس کی عید آپ کے بچوں کی عید کے بعد  ہی کیوں ہوتی ہے  لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب آپ کی کمائی کا مہینہ گذر جاتا ہے اور آپ کا ہر دن عید و شب برات بن جاتا ہے  تو آپ کے بچوں کو نئے کپڑوں اور جوتوں کے لئے کب عید کا انتظار ہوتا ہے- کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن جانتا ہوں کہ سنگ و خشت اس دور میں بندھے ہوئے ہیں اور کہنے والے کے لبوں پہ تالے ہیں ۔ کیونکہ لاغر جسموں میں اور تازیانے سہنے کی ہمت اور حوصلہ نہیں ہے- بس دل پہ ہاتھ رکھ کے  ذراسوچیئے –

 .

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...