صحرا کی آنکھ، وہ معمہ جسے سائنس آج تک حل نہ کرسکی، سائنسدان بے بس

صحرا کی آنکھ، وہ معمہ جسے سائنس آج تک حل نہ کرسکی، سائنسدان بے بس
صحرا کی آنکھ، وہ معمہ جسے سائنس آج تک حل نہ کرسکی، سائنسدان بے بس

  


نواکشوط(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی افریقہ کے ملک موریطانیہ کے معروف صحرائے صحارا میں زمین کی مخصوص ساخت کی وجہ سے انسانی آنکھ کی ایک شبیہ بنی ہوئی ہے جسے صحارا کی آنکھ (Eye of Sahara)کہا جاتا ہے۔ 1965ءمیں پہلی بار اس وقت اس آنکھ کی دریافت ہوئی جب خلاءنوردوں نے 4دن کے لیے زمین کے گرد چکر لگایااور کچھ تصاویر بنائیں۔ ان میں ایک تصویر میں یہ ’صحارا کی آنکھ‘ بھی شامل تھی۔اس آنکھ کا رقبہ 25میل پر محیط ہے چنانچہ زمین پر کھڑے ہو کر اس کا نظارہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ آنکھ صرف خلاءسے ہی دیکھی جا سکتی ہے۔

بانجھ پن سے نجات پانے کیلئے بکریوں کا شرمناک استعمال، ماہرین کا ناقابل یقین انکشاف

سائنسدان آج تک صحرا میں یہ آنکھ بننے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں لیکن تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ اب دو کینیڈین ماہر ارضیات نے یہ آنکھ بننے کے متعلق ایک مفروضہ پیش کیا ہے جو اس سے قبل پیش کیے گئے تمام مفروضوں میں سب سے زیادہ معتبر ہے۔ ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”یہ آنکھ آج سے 10کروڑ سال پہلے اس وقت بننا شروع ہوئی، جب ہماری زمین ٹکڑوں میں بٹ کر مختلف براعظموں میں بٹنا شروع ہوئی۔ اس سے قبل ہماری زمین ایک ہی براعظم پر مشتمل تھی جسےSupercontinent Pangaeaکہا جاتا ہے۔ جب زمین کی پلیٹیں ایک دوسری سے دور سرکنا شروع ہوئیں اور آج کا براعظم افریقہ اور شمالی امریکہ ایک دوسرے سے الگ ہونے لگے تب زمین کی تہہ میں موجود پگھلی ہوئی چٹانیں بیرونی سطح کی طرف آنے لگیں لیکن یہ بالکل زمین کے اوپر نہ آ سکیں اور نیچے ہی رک گئیں جس سے پتھریلی سطحوں کا ایک گنبد سا بن گیا جس کی شکل ایک بہت بڑے مہاسے کی سی تھی، آج آنکھ کی طرح نظر آتا ہے۔ اس تمام عمل سے اس مہاسہ نما شکل کے بیچوں بیچ اور اس کے اردگرد فالٹ لائنز بھی وقوع پذیر ہوگئیں۔ زمین کی تہہ سے آنے والی پگھلی ہوئی چٹانوں نے اوپر سطح پرموجود چونے کے پتھروں کو بھی پگھلا دیا ، یہ اس آنکھ کے وسط میں موجود تھے۔ اس طرح اس مہاسے کی شکل آنکھ کے جیسی بن گئی۔ یہ تمام عمل انتہائی تند و تیز اور متشدد قسم کا تھا۔ اس آنکھ کے دائرے مختلف چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں جو تیزی کی مختلف شرح سے پگھلیں۔ آنکھ کے وسط کے قریب انتہائی ہلکے رنگ کا جو دائرہ ہے وہ ایک آتش فشاں چٹان سے بنا ہے جو دھماکے سے وجود میں آئی۔”

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...