اسرائیل عرب بچوں کے ساتھ ایسا کیا ظلم کرتا تھا جس کی پوری تاریخ میں مثال نہیں ملتی؟ پہلی بار حقائق منظر عام پر آگئے

اسرائیل عرب بچوں کے ساتھ ایسا کیا ظلم کرتا تھا جس کی پوری تاریخ میں مثال نہیں ...

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) دہائیاں قبل اسرائیل میں 1ہزار سے زائد یمنی پناہ گزین بچے لاپتہ ہو گئے تھے جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ یہ بچے اپنے والدین کے ہمراہ یمن کی خانہ جنگی کی صورتحال سے جان بچا کر اسرائیل پہنچے تھے۔ اب ان کے متعلق تحقیقات میں ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے اسرائیل کا سر پوری دنیا کے سامنے شرمندگی سے جھکا دیا ہے۔ العریبیہ کی رپورٹ کے مطابق ان بچوں کے متعلق تحقیقات کرنے والی اسرائیلی پارلیمانی کمیٹی کا گزشتہ دنوں اجلاس ہوا ہے جس میں 1996-97ءمیں حاصل کی گئی کچھ دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاپتہ ہونے والے ان یمنی بچوں پر غیرقانونی میڈیکل تجربات کیے گئے جس سے ان کی اموات واقع ہو گئیں۔

دوران پرواز ایک شرمناک حرکت مسافر کو بے حد مہنگی پڑی، ایسی تصویر منظرعام پر آگئی کہ اب گھر جانے کے قابل رہا نہ دفتر

دستاویزات کے مطابق ان بچوں کے والدین کو بھی کبھی ان کی بدقسمتی کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ انہیں صرف اتنا بتایا گیا کہ ان کے بچے مر گئے ہیں۔انہیں کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی نہیں دیا گیا۔ ان بچوں کے پوسٹ مارٹم بھی ان کے والدین کی مرضی کے خلاف کیے گئے۔ کمیٹی کی چیئر وومن نوریت کورین کا کہنا تھا کہ ”یہ بچے ایک ایسی جگہ پر لاپتہ ہوئے جہاں انہیں محفوظ ہونا چاہیے تھا۔ والدین کو بچوں کی لاشیں صرف دیکھنے کی اجازت دی گئی، ان کے حوالے نہیں کی گئیں۔ والدین ان بچوں کے جنازے بھی نہیں کروا سکے تھے۔“ کمیٹی کے اجلاس میں لاپتہ ہونے والے تین بچوں کی تصاویر بھی پیش کی گئی ہیں جن میں ان برہنہ بچوں کے جسم پر مختلف نشانات لگائے گئے ہیں۔کورین کا کہنا تھا کہ ” یہ نشانات ان کے اندرونی جسمانی اعضاءکی نشاندہی کے لیے لگائے گئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان پر تجربات کیے گئے۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...