مسجد نبوی میں شہری دفاع کی ہنگامی ٹیمیں جدید ترین آلات اور سامان کے ساتھ زائرین کی خدمت کیلئے تیار

مسجد نبوی میں شہری دفاع کی ہنگامی ٹیمیں جدید ترین آلات اور سامان کے ساتھ ...
مسجد نبوی میں شہری دفاع کی ہنگامی ٹیمیں جدید ترین آلات اور سامان کے ساتھ زائرین کی خدمت کیلئے تیار

  


مکہ مکرمہ (آئی این پی )سعودی شہری دفاع کے ادارے میں "جان بچانے اور انخلا" ٹیم کے سارجنٹ فیصل بافقیہ مسجد نبوی شریف میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جدید ترین آلات اور سامان کے ساتھ مختلف سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ وہ گزشتہ دس برس سے مسجد نبوی میں فوری مداخلت کی سرگرمیوں اور زائرین کے لیے امدادی خدمات میں حصہ لے رہے ہیں۔

وزیر اعظم کا چیمپیئنز ٹرافی جیتنے والے کھلاڑیوں کو فی کس ایک ایک کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان

عرب میڈیا کے مطابق فیصل کا کہنا تھا کہ ہم یہاں مسجد نبوی میں بطور ٹیم کام کر رہے ہیں،ہماری موجودگی کا مقصد ہنگامی حالت میں لوگوں کی یا پھر عمر رسیدہ افراد کی منتقلی کو یقینی بنانا ہے جبکہ اس حوالے سے شہری دفاع کی فورس ، حج و عمرہ سکیورٹی فورس اور وزارت صحت کے درمیان مکمل کوآرڈی نیشن ہوتی ہے۔فیصل اور ان کے ساتھی مسجد نبوی شریف میں مختلف مقامات پر تعینات ہوتے ہیں، ان کی نظریں نمازیوں اور زائرین کی صفوں پر مرکوز ہوتی ہیں اور خدمت کے طالب یا چلنے پھرنے سے قاصر کسی بھی فرد کو تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔فیصل نے باور کرایا کہ یہ ہمارے لیے ایک عظیم اعزاز ہے کہ ہم مسجد نبوی کے زائرین کی خدمت انجام دے رہے ہیںیہ ہمارے لیے کسی بھی دوسری چیز سے بڑھ کر ہے بالخصوص جب کہ آپ پوری دنیا سے آنے والے لوگوں کو خدمات فراہم کرنے میں مصروفِ عمل ہوں۔

رمضان مبارک میں سعودی شہری دفاع کی سیفٹی ٹیموں کی جانب سے معائنے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کوئی نقطہ یا تنصیب ایسی نہیں ہوتی جس کی جانچ سارجنٹ عبدالعزیز اور ان کے گروپ کی جانب سے نہ کی جاتی ہو۔اس حوالے سے سارجنٹ عبدالعزیز نے بتایا کہ شہری دفاع کے سیکٹر میں فرائض کی انجام دہی ایک بڑا اعزاز ہے۔ اللہ کے گھر اور مسجد نبوی شریف کا رخ کرنے والوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے واسطے یہ انسانیت کی خدمت ہے۔شہری دفاع کا ادارہ اپنے سالانہ منصوبے پر پورے عزم کے ساتھ عمل درآمد کرتا ہے۔ اس کے اہلکار اور ٹیمیں مسجد نبوی اور اس کے زائرین کے حوالے سے کسی بھی نا خوش گوار واقعے کے سدباب کے لیے ہر وقت مستعد رہتی ہیں۔

مزید : عرب دنیا


loading...