کسی بھی جواز پر انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، ہائیکورٹ نے جوس فیکٹری دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کر دی

کسی بھی جواز پر انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، ہائیکورٹ ...
کسی بھی جواز پر انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، ہائیکورٹ نے جوس فیکٹری دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کر دی

  


لاہور ( نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے مضر صحت جوس بنانیوالی فیکٹری دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ کسی کو بھی کسی بھی جواز پر انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر کی دوسری بیوی کی بازیابی کے کیس میں کمرہ عدالت میدان جنگ بن گیا

جسٹس عائشہ اے ملک نے فریش جوس کمپنی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ فیکٹری سربمہر کرنے کا اختیار فوڈ سیفٹی افسر کے پاس نہیں، ڈی جی کے پاس ہے لیکن پھر بھی ان کی فیکٹری سربمہر کر کے جوسز اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا گیا ہے لہذا فیکٹری دوبارہ کھولنے اور سامان واپس کرنے کا حکم دیا جائے، ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے فیکٹری دوبارہ کھولنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا کیمیکل ملا جوس بیچنے کیلئے فیکٹری دوبارہ کھولنے کی اجازت دیں؟ فیکٹری مالک کو تب خوف نہیں آیا جب انسانی زندگیوں سے کھیل رہا تھا؟، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کسی جواز پر بھی انسانی جانوں، بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے، عدالت نے فیکٹری دوبارہ کھولنے کی درخواست ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈی  جی فوڈ اتھارٹی فیصلہ کریں کہ فیکٹری دوبارہ کھلنی چاہیئے یا نہیں۔

مزید : لاہور


loading...