سپریم کورٹ نے چارارب سے زائد سیلز ٹیکس کی عدم ادائیگی پرگرفتار ملزموں درخواست ضمانت پرجواب طلب کر لیا

سپریم کورٹ نے چارارب سے زائد سیلز ٹیکس کی عدم ادائیگی پرگرفتار ملزموں ...
سپریم کورٹ نے چارارب سے زائد سیلز ٹیکس کی عدم ادائیگی پرگرفتار ملزموں درخواست ضمانت پرجواب طلب کر لیا

  


لاہور ( نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ نے چارارب سے زائد سیلز ٹیکس کی عدم ادائیگی پرگرفتاراورینٹ الیکٹرانک کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹرطلعت محمود،ڈائریکٹرعبدالرحمان اورچیف فنانشل آفیسرعلیم امین کی درخواست ضمانت پرڈپٹی آٹارنی جنرل اورمحکمہ سیلز ٹیکس کو22جون کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر کی دوسری بیوی کی بازیابی کے کیس میں کمرہ عدالت میدان جنگ بن گیا

سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں جسٹس منظوراحمد ملک اورجسٹس عمرعطاء بندیال پر مشتمل بنچ کے روبرو ملزمان کی جانب سے شاہد حامد سمیت دیگروکلاءنے موقف اختیارکیاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے شعبہ سیلز ٹیکس نے انہیں چارارب سے زائد کا سیلز ٹیکس کا تخمینہ لگاکر نوٹس بھیج دیا ، جس کےخلاف انہوں نے اپیلٹ ٹربیونل سے رجوع کیا اوراپیلیٹ ٹربیونل نے ان کے حق میں فیصلہ کیا۔ایف بی آر نے اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں اپیل کرنے کی بجائے فوجداری مقدمہ درج کروادیا۔ وکلاءکا مزید کہناتھا کہ ٹھوس شواہدکے بغیرکارروائی کرتے ہوئے ملزموں کو4ارب سے زائد کے ٹیکس فراڈمیں چالیس روزسے زائد عرصہ سے گرفتارکررکھا ہےجبکہ اس سیلز ٹیکس چوری کی سزا تین سے پانچ سال ہے۔کسٹمزکورٹ اورہائیکورٹ کے کسٹم اپیلیٹ ٹربیونل کے روبرو تمام تفصیلات رکھی گئیں لیکن پھربھی ان کی ضمانت کی درخواستیں مستردکردیں گئی ہیں۔وکلاءکا کہناتھا کہ ایف بی آرکوٹیکس چوری کے معاملات میں ملزموں کےخلاف مقدمات کرواکر گرفتاری کااختیارنہیں ہے۔عدالت سے استدعاکی گئی کہ سیلز ٹیکس کے معاملے پرگرفتارتینوں ملزموں کی ضمانتیں منظورکی جائیں۔

مزید : لاہور


loading...