junk

junk
junk

  


کمپیوٹر پر کام کرنے والے تمام چھوٹے بڑے اس لفظ سے بہت اچھی طرح واقف ہیں،کیونکہ کمپیوٹر پر آپ کو بہت سی ای میل ایسی آتی ہیں یا ایسی دوسری چیزیں اکٹھی ہو جاتی ہیں کہ جن کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ آپ سے کسی طرح بھی متعلق ہوتی ہیں۔ ایسی فضول اور غیر ضروری ای میلز اور چیزوں کو جنک کہا جاتا ہے۔ لغت کے مطابق جنک کے کئی معنی ہیں۔ جیسے

1 ۔ پرانی یا متروکہ چیز جسے غیر ضروری اور ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا جائے۔

2 ۔ بے ترتیب اور بکھری ہوئی چیزیں جنہیں ترتیب دیا جا سکے۔

3 ۔ایسی ناکارہ چیزیں جنہیں دوبارہ استعمال میں لایا جا سکے۔

4 ۔ ایسا کھانا جس کی صحت کے حوالے سے کوکوئی افادیت نہ ہو۔

5 ۔ گلے سڑے پھل اور سبزیاں جوکھانے اور پکانے کے قابل نہ ہوں۔

6 ۔ منشیات اور نشہ آور ادویات اور دیگر ایسی چیزیں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوں۔

1980 کی دہائی میں Linda Yablonsky کا لکھا ہوا شاہکار ناول Junk نیویارک کے قدیم حصے (Downtown) میں ہیروئین اور دیگر منشیات استعمال کرنے والوں، بیچنے والوں اور منشیات ڈیلروں کے بارے میں ہے۔ وہ کہتی ہے کہ عام دوائی انسان کی کسی چوٹ سے ہونے والے درد کو دور کرتی ہے ۔اس کے زخموں کو مندمل کرتی ہے، ٹھیک کرتی ہے، مگر منشیات اور ہیروئین آپ کی روح سے کھیلتی ہیں،آپ کے شعور اور احساس کو تباہ کرتی ہیں۔ لنڈا نے اس تمام مافیہ کو ، اور ان تمام لوگوں کو جو کسی طرح بھی منشیات سے متعلق ہیں Junk کا نام دیا ہے۔

میں فروٹ اور سبزی منڈی میں گھر کی ضروریات کے مطابق پھل اور سبزی خریدنے گیا ہوا تھا۔ پھل اچھے سے اچھا اور مہنگے سے مہنگا دستیاب تھا۔ میں منڈی کی مختلف دکانوں پر اپنی مرضی اور اپنے بجٹ کے مطابق پھل تلاش کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک میری نظر ایک شخص پر پڑی جو دکانوں کے پیچھے دکانداروں کے پھینکے ہوئے گلے سڑے پھلوں میں سے چن چن کر کچھ پھل اپنے تھیلے میں ڈال رہا تھا۔ میں سب چھوڑ کر اس کے پاس پہنچ گیا، مگر یہ کیا، دکانوں کے پچھواڑے کئی لوگ یہی کام کرنے میں مصروف تھے۔میلے کچیلے اور انتہائی گندے کپڑے ملبوس کئے اس شخص کا تھیلا junk پھلوں سے بھر چکا تھا۔ میں نے پوچھا بھائی ان گلے سڑے اور گندے پھینکے ہوئے ناکارہ پھل کیا کیا کرو گے۔

جواب ملا، بیچوں گا اور کیا ہو سکتا ہے۔

مگر یہ تو انتہائی گندہ پھل ہے اسے کون خریدے گا۔

وہ ہنسنے لگا۔ بابو میں آپ کے علاقے میں نہیں رہتا۔ میری بستی تو پھٹی پرانی اور ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں کی بستی ہے۔ انہیں یہی پھل خریدنا ہوتا ہے۔ یہ کیلا جو میرے ہاتھ میں آپ کو نظر آ رہا ہے۔ یہ ایک طرف سے گلا ہوا ہے اس لئے دکاندار نے پھینک دیا ہے۔ میں گھر جا کر اس کا زیادہ گندہ حصہ کاٹ دوں گا۔ آپ کیلا ڈیڑھ دو سو روپے درجن میں خریدتے ہو۔ میرے وہ کٹے پھٹے کیلے پندرہ بیس روپے درجن میں بک جائیں گے۔ میری بستی کے لوگ مہنگا پھل خرید ہی نہیں سکتے۔یہ گندے سیب ہیں۔ ان میں سے ہر ایک پر داغ لگے ہیں یہاں اس کا کوئی خریدار نہیں اس لئے دکاندار نے اسے پھینک دیا ہے۔ میں سیب کو کاٹ کر اس میں سے داغ لکال دوں گا۔ سیب مکمل حالت میں نہیں ہو گا۔ سیب کی صاف صاف کاشیں آسانی سے بیس روپے کلو بک جائیں گی۔ میری تھوڑی سی محنت میرے گھر کا چولہا جلائے رکھے گی اور اس بستی کے غریبوں کے بچے جن میں مہنگا کیا، صاف ستھرا سستا پھل، بلکہ انتہائی سستا پھل خریدنے کی بھی سکت ہی نہیں۔ معمولی سے پیسوں سے پھل کے ذائقے سے آشنا ہو جاتے ہیں۔بابو ، یاد رکھو ! جن بستیوں میں معاشی انحطاط ہوتا ہے ۔ مالی آسودگی نہیں ہوتی ، وہاں لوگوں کو انہی گلے سڑی اور گندی چیزوں پر جنہیں تم ابھی junk کہہ رہے تھے ،گزارہ کرنا پڑتا ہے، یہ حالات کا جبر ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔یہ کہتے ہوئے وہ ہنستا ہوا آگے بڑھ گیا۔

میں سوچ رہا تھا،حلئیے کے اعتبار سے انتہائی غلیظ آدمی، مگر کس قدر خوبصورت بات کہہ گیا۔مجھے اپنے دیس کے سیاستدان یاد آ گئے۔ کوئی ایسا نہیں جس کی کچھ کارکردگی ہو۔ کوئی ایسا نہیں جو الزامات سے پاک ہو۔ سب کا ماضی ایسے واقعات سے مزین ہے کہ جسے سن کر شرم آتی ہے۔ ماضی میں کوئی چور تھا، کوئی ڈاکو، کوئی بدمعاش،کوئی رسہ گیر، کوئی خود یا اس کے آبا واجداد غدار۔ انگریزوں کے پٹھو، کوئی ایسا نہیں کہ کسی بھرتی کے امتحان میں کامیاب ہو سکے ، کوئی ایسا نہیں کہ کچھ deliver کر سکے، مگر پیسے کمانے کا فن سب جانتے ہیں بغیر حلال اور حرام کی تفریق کئے۔ اور ان کا معزز پن اسی ناجائز پیسے کی مرحون منت ہے۔ سچ ہے جن معاشروں میں اخلاقی انحطاط ہوتا ہے، ذہنی آسودگی نہیں ہوتی ، وہاں لوگوں کو جمہوریت کے نام پر اس قحط الرجال میں انہی گلے سڑے اور برے لوگوں سے گزارہ کرنا پڑتا ہے حانکہ یہ لوگ معاشرے کا jink ہیں،مگر یہ بھی حالات کا جبر ہے ، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

مزید : کالم


loading...