مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ظلم و بربریت کی نئی لہر ،کشمیری قیادت نے 21جون کو مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کر دیا 

مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ظلم و بربریت کی نئی لہر ،کشمیری قیادت نے ...
مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ظلم و بربریت کی نئی لہر ،کشمیری قیادت نے 21جون کو مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کر دیا 

  

سری نگر(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے قائدین سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے حالیہ دنوں میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شہادتوں اور وادی کے سرکردہ صحافی، ادیب اور قلمکار سید شجاعت بخاری کی شہادت کے خلاف 21 جون ( بروز جمعرات )کو پورے مقبوضہ کشمیرمیں احتجاج اور مکمل ہڑتا ل کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند قیادت کا کہنا ہے کہ عید الفطرکے روزسے ہی وادی میں قابض بھارتی فورسزنے ایک بارپھرظلم وجبرکا بازارگرم کرکے براہ راست فائرنگ کے ذریعہ تین نہتے کشمیری نوجوانوں وقاص احمد راتھرولد غلام قادرراتھرسکونت ناؤپورہ پلوامہ، شیرازاحمد نائیکوولد غلام محمد نائیکو ساکنہ براکہ پورہ اننت ناگ اوراعجازاحمد بٹ ولد بشیراحمد بٹ ساکنہ میربازاراننت ناگ کوپیلٹ اوربلٹ کے ذریعہ شہید کردیا جبکہ ایک اورنوجوان عبدالمجید وار ولد غلام نبی وارساکنہ آنچارصورہ کو شدید زخمی کردیا، جوصورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ،کشمیری نوجوانوں کو ایسے وقت میں شہید کیا گیا جب وہ پر امن طور پر اپنے بنیادی حق آزادی کے لئے قابض فوج کے ظلم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جبکہ بھارتی فوج نے نہتے مظاہرین پر بے دریغ گولیاں برسا کر درجنوں افراد کو شدیدزخمی بھی کیا ۔انہوں نے کہا کہ سیز فائرکے اختتام کے ساتھ ہی حکمرانوں نے کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز کے تحت وادی کے مختلف علاقوں خصوصاً جنوبی کشمیرمیں نہتے عوام کو تختہ مشق بنایا جبکہ اس دوران پانپورمیں 4 شہریوں کو انسانی ڈھال کے طورپراستعمال کیا گیا اورگزشتہ رات پلوامہ کے مختلف علاقوں میں 14 نوجوانوں کو زبردستی اپنے گھروں سے گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس دوران کئی گھروں سمیت سینئر صحافی سید تجمل عمران ساکن شوپیاں کے گھر پر چھاپے ڈالے گئے اوریہ مذموم سلسلہ ہنوزجاری ہے۔سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے عوام کے خلاف قابض فورسز کی اس شدید جارحیت اور بے رحمانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طاقت اور تشدد کا بے تحاشا استعمال کشمیریوں کے جذبہ مزاحمت کو توڑنے میں ہمیشہ ناکام ثابت ہوا ہے اوراس طرح کی جارحانہ پالیسی کسی بھی طورمسئلہ کو حل کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوسکتی۔انہوں نے سرکردہ صحافی شجاعت بخاری کی شہادت کی عالمی سطح پر کسی آزاد ادارے کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے رواں تحریک مزاحمت کے دوران کشمیر کی صحافتی برادری کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں صحافت کے پیشے سے وابستہ افراد نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اپنی پیشہ ورانہ خدمات کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ کشمیری عوام پرہو رہے مظالم اور یہاں کے عوام کی جائزآوازکو باہر کی دنیا تک پہنچانے کے لئے بھی ایک گرانقدر کردار ادا کیا۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد