کشمیر متنازعہ علاقہ

کشمیر متنازعہ علاقہ
کشمیر متنازعہ علاقہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے واضح کیاہے کہ حریت قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکراتی عمل کے خلاف نہیں اور اگر واقعی بھارت مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے پہلے جموں وکشمیر کوایک متنازعہ علاقہ قرار دینا چاہیے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکراتی عمل میں بنیادی حقائق کا اعتراف کئے بغیر شامل ہونا ماضی کی طرح ایک فضول مشق ثابت ہوگی۔سیدعلی گیلانی نے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان، بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان اور حریت قیادت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم مذاکرات کے خلاف نہیں تاہم زمینی حقائق کو تسلیم کئے بغیر بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔2010ء کے عوامی انتفادہ کے دوران حریت قیادت نے بھارت کوجموں و کشمیر کو متنازعہ قرار دینے،وہاں سے فوجی انخلاء،تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی اور کالے قوانین کو کالعدم قرار دینے کی تجویز دی تھی۔

سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ اب تک ماضی میں مذاکرات کے 150سے زائد دور ہو چکے ہیں مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ حریت چیئرمین نے حق خودارادیت کی جائز اور مبنی برحق تحریک کی کامیابی کے لئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق برقراررکھنے کی اپیل کرتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پوری ہوشمندی اور بالغ نظری کے ساتھ تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کا فریضہ انجام دیں۔

انہوں نے نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی طرف سے وحشیانہ ظلم تشدد کو ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو کمزو ر کرنے کے لئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرے۔

مقبوضہ کشمیر میں ہندو پنڈتوں کی آباد کاری قبول نہیں۔ کشمیر کو ہندو سٹیٹ بنا کر مسلمانو ں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے گا، ریاست بدر یا قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی یاتریوں کی تعداد اور مدت کا تعین کیا جائے۔ یاترا30دن سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ مفتی سعید اقتدار میں نہیں صرف کرسی پر براجمان ہیں، ان کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ہاتھ میں ہے۔

جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہاکہ بھارت، حریت قیادت اور نہتے کشمیری عوام کو اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روکنے کے لئے انہیں بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنارہا ہے۔

اس وقت مقبوضہ علاقے کی صورت حال انتہائی ابتر ہے اور شہداء کے اہلخانہ سے تعزیت اور ان کے جنازوں میں شمولیت کی بھی اجاات نہیں ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اتحادی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اتحادیوں کے برعکس موقف اپناتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے معاملے پر دوطرفہ مذاکرات پر زور دیا ہے۔کٹھ پتلی وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی کاکہنا ہے کہ ہمیں مذاکرات کرنا ہوں گے کیونکہ جنگ کوئی حل نہیں ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر 155 بار مذاکرات ہو چکے ہیں ،لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج تک بے نتیجہ رہے۔ اقوام متحدہ 18 بار کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لئے قرارداد پاس کر چکی ہے۔ کشمیر یوں کی جدوجہد کو کسی قسم کی دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی جبر اور دہشت گردی تو معصوم نہتے کشمیریوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جس قوم کو فوجی طاقت کے ذریعے اس کے حقوق سے محروم کر دیا جائے، وہ قوم اپنی آزادی کے لئے پوری طرح سے جدوجہد کرنے کی حق دار ہے۔ پاک بھارت مذاکرات اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک بھارت خلوص نیت سے جامع مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتا۔

بھارت کی نیت میں فتور ہے، یہی وجہ ہے کہ عرصہ دراز سے مقبوضہ کشمیر سمیت اہم مسائل دونوں ملکوں کے درمیان بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان دو بڑی جنگیں ہو چکی ہیں، لیکن ابھی تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔

بعض مسئلے ایسے ہوتے ہیں جو توپوں بندوقوں اور جنگوں سے حل نہیں ہو سکتے۔ مسائل کا بہترین حل ٹیبل ٹاک ہے۔ بھارت کی نیت خراب ہے۔ بے ایمان قوم ہے اندر سے پکے منافق لوگ ہیں، اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو مسئلہ کشمیر کب کا حل ہو چکا ہوتا۔

1947ء سے لے کر آج تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور نہ ہی کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کئی بار ہو چکے ہیں، لیکن ہر بار ناکام ثابت ہوئے۔ ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب مسئلہ کشمیر حل ہونے کا وقت آتا ہے تو بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے اپنے ملک میں بم بلاسٹ یا دہشت گردی کروا دیتا ہے اور اس کا سارا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے، تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہی رہیں اور کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہو۔

مسئلہ جوں کا توں رہے۔ اتنے برسوں کی ناکامی کے بعد اب تو پاکستانی حکمرانوں کو یہ یقین ہوجاناچاہئے کہ جس مقصد کے لئے ہم ان مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں، اس مقصد کے لئے بھارت ان میں حصہ نہیں لیتا ۔ ہر بار مذاکرات میں یہی ہوتا ہے کہ کشمیر اور پانی کا مسئلہ بھارت گول کردیتا ہے اور اپنے پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔

بھارت سے مذاکرات کرتے وقت ہمیں اس کے ماضی کے رویے اور کردار کو ضرور مدنظر رکھنا چاہئے۔ 70 سال گزر گئے پاکستان کو بھارت سے مذاکرات کی میزیں سجاتے ہوئے۔کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اس نے کبھی پاسداری نہیں کی، اب کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ روایتی دھوکے بازی سے کام نہیں لے گا؟ بھارت پاکستان سے مذاکرات میں کسی صورت سنجیدہ نہیں ہے اس نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔

بھارت سے مذاکرات کرنا ہیں تو صاف کہہ دیا جائے کہ وہ پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کا سلسلہ ترک کرتے ہوئے پاکستانی دریاؤں پر دیگر ڈیموں کی تعمیر روکے۔

مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے،اپنی آٹھ لاکھ فوج کشمیر سے نکالے اور نہتے کشمیریوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا سلسلہ ترک کر دے،اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

مزید : رائے /کالم