نادرا ڈیٹا لیک۔۔۔چائے کی پیالی میں طوفان

نادرا ڈیٹا لیک۔۔۔چائے کی پیالی میں طوفان

الیکشن کمیشن نے ووٹروں کا ڈیٹا لیک ہونے پر نادرا سے کہا ہے کہ وہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے، الیکشن کمیشن نے چیئرمین نادرا عثمان مبین کو خط لکھ کر اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے خط میں کہا گیا ہے کہ نادرا حکام نے ووٹروں کی معلومات غیر متعلقہ افراد کو فراہم کر کے الیکشن کمیشن کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی، ووٹرز کا ڈیٹا الیکشن کمیشن پہنچنے سے پہلے ہی غیر متعلقہ افراد کے پاس پہنچ گیا، خط ملنے کے بعد نادرا نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں کا ڈیٹا کسی سیاسی جماعت کو نہیں دیا اور نہ ہی اس ڈیٹا سے کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، اِس حوالے سے الیکشن کمیشن کے خط کا مشاورت کے بعد جواب دیا جائے گا۔نادرا ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیٹا میں ایسا کچھ نہیں کہ انتخابات پر اثر پڑے، نادرا حکام نے اِس مسئلے پر الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے نادرا کو جو خط لکھا ہے اِس کا جواب ملنے کے بعد ہی درست طور پر یہ بات سامنے آئے گی کہ کوئی ڈیٹا لیک ہوا یا نہیں اور اگر واقعی ایسا ہوا تو کیا اس میں کوئی خاص بات ایسی تھی، جس سے کسی کو فائدہ اور کسی کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو سکتا تھا اگر ایسا نہیں تو چائے کی پیالی میں طوفان کیوں برپا کیا جا رہا ہے اور کیا ایسا کسی منظم سازش کے تحت ہو رہا ہے یا ’’لیک‘‘ کے بعد اچانک ایک ایسی فضا پیدا کر دی گئی ہے، جس سے نادرا کو بدنام کرنا مقصود ہے یا پھر اس کے مقاصد کچھ اور ہیں،الیکشن کے لئے کاغذاتِ نامزدگی داخل ہو چکے ہیں،جانچ پڑتال کا مرحلہ بھی مکمل ہوگیا ہے اب استرداد یا قبولیت کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے بعد حتمی فہرست سامنے آئے گی، ایسے میں اگر ’’لیک‘‘ جیسے شوشے چھوڑ کر انتخابات کے التوا کی بات کی جائے گی تو اس سے شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔اگر نادرا کا یہ موقف درست ہے جو ڈیٹا اُس کے پاس ہے، اِس میں ایسا کچھ نہیں ،جس سے کسی کو فائدہ اور کسی کو نقصان ہو تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا ہنگامہ آخر کس لئے اُٹھایا جا رہا ہے اور اِس کے پیچھے کون لوگ ہیں؟

نادرا حکام نے جو وضاحت منگل کے روز کی ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک اطمینان بخش ہے اور اگر اس میں کوئی سازش ہے تو اسے بے نقاب ہونا چاہئے اور یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ انتخاب ملتوی کرانے کے خواہش مند حلقے جو حیلوں بہانوں سے ان کا التوا چاہتے تھے اور اب جب انہوں نے دیکھا کہ الیکشن تو مرحلہ وار اطمینان بخش طریقے سے آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے اور اس میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں تو انہوں نے یونہی ایک شوشا چھوڑ دیا ہو، تاہم جنہوں نے ایسا کیا ہے اُنہیں اب یہ ثابت کرنا ہے کہ ڈیٹا واقعی لیک ہوا ہے اور اگر یہ درست ہے تو اس سے کسی کا کیا نقصان ہو رہا ہے اور کسی دوسرے کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ یہ درست ہے کہ ایسا ڈیٹا الیکشن کمیشن اور نادرا کے درمیان ایسی امانت ہے جسے کسی صورت لیک نہیں ہونا چاہئے۔اگر اس سے کسی کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا یا کوئی فائدہ بھی نہیں اُٹھا سکتا تو بھی اس کے لیک ہونے کا تو کوئی جواز ہی نہیں ہے تاہم یہ دیکھنا ہے کہ اگر ڈیٹا لیک ہوا ہے تو اس میں نادرا کے اہلکار ملوث ہیں یا لیکیج کی کوئی اور وجہ ہے، کمپیوٹر کی دُنیا ایسی ہے کہ اس میں اگر کوئی ہیکر کہیں سے ڈیٹا حاصل کر لیتا ہے تو اس بات سے قطع نظر کہ یہ کسی کے لئے فائدہ مند ہے یا نہیں، امر واقعہ یہ ہے کہ ایسی باتیں دُنیا میں ہو رہی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو تحقیقاتی جرنلزم کے نام پر جو عجوبے ہو رہے ہیں وہ کیسے ہوتے، آخر ’’پاناما لیکس‘‘ بھی تو کسی نے لیک کی تھیں، ان معلومات کی بنیاد پر دُنیا میں اور تو کچھ نہیں ہوا البتہ پاکستان میں وزیراعظم کے خلاف ایک مقدمہ چلا اور دورانِ سماعت یہ بات سامنے آ گئی کہ وزیراعظم کے پاس تو ایک مُلک کا اقامہ بھی ہے جس میں قابلِ وصول تنخواہ کا ڈیکلریشن نہ دینے کی بنیاد پر وہ نااہل ٹھہرے۔ اب پاناما انکشافات کی بنیاد پر ایک مقدمہ نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف نیب میں زیر سماعت ہے۔

اس مقدمے سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیٹا لیکس بعض صورتوں میں خطرناک ثابت بھی ہو سکتی ہیں۔ اب یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ نادرا سے اگر کوئی ڈیٹا لیک ہوا تو اس کے ذمہ دار کون تھے اور اُن کے مقاصد کیا تھے؟ کیا وہ کسی کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے یہ کام کر رہے تھے یا محض ’’شغل میلہ‘‘ کر رہے تھے یا یہ کسی ’’ہیکر‘‘ کی کارروائی ہے، جس نے نادرا کے ریکارڈ سے ڈیٹا حاصل کر لیا،جو کچھ بھی ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہئے اور جو بھی نتیجہ سامنے آئے وہ افاأہ عام کے لئے سامنے آنا چاہئے اور اگر کوئی چیز لیک نہیں ہوئی تو پھر یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ کہیں الیکشن کے التوا کی ان کوششوں کا تو حصہ نہیں جو مختلف سطحوں پر جاری ہیں۔ اگر بلوچستان کے وزیراعلیٰ محض گرمی کی بنیاد پر الیکشن کے التوا کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا بلوچستان کی اسمبلی اپنی تحلیل سے پہلے یہ قرارداد منظور کر سکتی ہے کہ موسم کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ حج پر ہوں گے اِس لئے الیکشن ملتوی کئے جائیں تو کچھ دوسرے لوگ اِس بنیاد پر التوا کا مطالبہ کیوں نہیں کر سکتے کہ جو ڈیٹا لیک ہوا ہے اِس سے کسی کو جتوانا اور کسی کو ہرانا مقصود ہے اِس لئے انتخاب ملتوی کر کے پہلے ذمہ داروں کا تعین کر لیا جائے پھر انتخاب سمیت کوئی اور کام ہو جائیں۔ہمارے خیال میں ابھی الیکشن سے پہلے ایسے بہت سے طوفان اُٹھیں گے،کیونکہ شکوک و شبہات پھیلانا باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ لگتا ہے تاہم نادرا کا فرض ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کی وضاحت کرے اور الیکشن کمیشن کو بھی مطمئن کرے یہ ضروری ہے کہ اگر کسی نے بے پرکی اُڑائی ہے تو اسے ہوّا نہ بنایا جائے اور الیکشن کے پراسیس کو خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھنے دیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...