کیا قوم کا ضمیر زندہ ہے؟

کیا قوم کا ضمیر زندہ ہے؟
کیا قوم کا ضمیر زندہ ہے؟

  


افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان کے نگران وزیراعظم کو فون کرکے جب بتایا کہ فضل اللہ ایک ڈرون حملے میں ماراگیا ہے تو یہ خبر ایک ’’نیوز بریک‘‘ تھی۔ فضل اللہ کے مارے جانے کی خبریں پہلے بھی پاکستانی میڈیا پر فلیش کی جاتی رہیں لیکن چند دنوں بعد مردہ زندہ ہو جاتا رہا اور فضل اللہ پہلے سے زیادہ غارتگری کرتا نظر آیا ۔ افغان صدر نے شاید اسی لئے مناسب سمجھا کہ فضل اللہ (اور اس کے ساتھ اس کے چار پانچ ساتھیوں) کی موت کی ’’سرکاری‘‘ تصدیق کر دی جائے۔

اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ پاکستان کے عسکری حکام اور افغانستان کے سویلین اربابِ اختیار شاید ایک ہی صفحے پر ہیں اور دہشت گردی بند کروانا چاہتے ہیں۔

ہمارے آرمی چیف تو ایک سے زیادہ بار کابل جا چکے ہیں۔ وہاں ان کی ملاقات پوری افغان کابینہ سے ہوتی ہے۔ لیکن کس موضوع پر بات ہوتی ہے یا وہ موضوعات کتنے اہم ہوتے ہیں اس کی کوئی سُن گن نہیں دی جاتی۔

چونکہ کوئی Embeddedصحافی آرمی چیف کے ہمراہ نہیں ہوتا اس لئے پاکستانی عوام کو وہ خبریں بھی نہیں ملتیں جو حکومت یا فوجی حکام کسی ’’بستر بند‘‘ صحافی کے توسط سے عوام کو پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس لئے سب کچھ اخفاء کی چادر میں چھپا رہتا ہے۔

فضل اللہ کی ہلاکت میں پاکستان کی طرف سے فراہم کردہ انٹیلی جنس اطلاعات کا بھی کوئی حصہ تھا یا نہیں، اسلام آباد کی ISI اور کابل کی NSAکے درمیان آج کل تعلقات کی نوعیت کیا ہے، کابل میں جو امریکی جنرل بیٹھا ہوا ہے وہ پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے یا نہیں، صدر ٹرمپ کے حالیہ اقدامات اور بیانات سے پاک امریکہ تعلقات کس حد تک بگڑ چکے ہیں، امریکہ کس حد تک انڈیا کی مدد کررہا ہے اور کرنا چاہتا ہے، امریکہ سے پاکستان کے وہ مطالبے کیا ہیں جن کو اشرف غنی اور کابل میں مقیم امریکی عسکری قیادت پذیرائی نہیں دیتی، ان معاملات سے پاکستانی عوام کو کچھ آگاہی نہیں۔

میرا خیال ہے کہ پاکستانی فوجی حکام، حساس نوعیت کی اطلاعات و معلومات میڈیا کے حوالے کرنے سے اس لئے بھی گریز کرتے ہیں کہ ایسا کرنا شاید موجودہ سیاسی ملکی حالات میں فائدہ مند ہونے کی بجائے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

وہ ڈرون حملہ جس میں فضل اللہ مارا گیا، وہ کسی افغان اہلکار نے تو نہیں کروایا تھا کیونکہ کسی بھی ڈرون کی چابی اشرف غنی یا کابل انتظامیہ کے کسی کمانڈر یا وزیر مشیر کے پاس نہیں ہوتی۔یہ آپریشن امریکی فوج کرتی اور کرواتی ہے اور فضل اللہ کی ہلاکت جو بہت پہلے کی جا سکتی تھی اور پشاور سکول کے حادثے کے علاوہ اور بہت سے مہلک حادثوں سے بچا جا سکتا تھا، وہ اب کیوں کی گئی ہے، کیاکابل کو فضل اللہ کی اب مزیدضرورت نہیں رہی، کیا پاکستان نے پاک افغان سرحد پر جو باڑ لگائی ہے کیا اس کے طفیل افغان اور امریکی حکام کی سٹریٹجی تبدیل ہوئی ہے، کیا ان کو اب معلوم ہونے لگا ہے کہ آئندہ اس باڑ کے ذریعے پاکستان کے خلاف وہ دہشت گردانہ اقدامات تقریباً ناممکن ہو جائیں گے جو اب تک کابل انتظامیہ کرواتی رہی ہے،ان باتوں کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کچھ وقت گزرنے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ جب فضل اللہ کی ہلاکت کی خبر آئی تھی تو اگلے چند گھنٹوں میں شوال (شمالی وزیرستان) سے یہ خبر بھی آئی کہ وہاں ایک سرحدی چوکی پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا ہے جس میں پاکستان کے تین جوان شہید ہو گئے ہیں اور حملہ کرنے والوں میں سے پانچ لوگ ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔

میڈیا پر بتایا گیا کہ یہ دہشت گرد پاکستانی چوکی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے ایک بھاری نفری کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ عام ذہن میں یہ سوال اٹھتے ہیں کہ کیا حملہ آور باڑ کو پار کر آئے تھے؟ کیا یہ حملہ افغان سرحد کے اندر سے کیا گیا؟ کیا حملہ آور فضل اللہ کے جتھے کے لوگ تھے اور کیا شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ساتھ ملنے والی سرحد پر کابل حکام کا بھی کوئی کنٹرول ہے؟ کیا ان صوبوں کے گورنر دہشت گردوں کو نہیں روک سکتے ؟ کابل کی وہ افغان نیشنل آرمی (ANA) کیا کررہی ہے جس کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے اور جس کی ٹریننگ امریکی سپیشل فورسز کررہی ہیں؟۔۔۔ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب نہیں مل رہا۔۔۔ پاکستان کے عسکری حکام نے یہ سوالات کئی بار کابل جا کر یا کابل سے راولپنڈی آنے والے افغان عسکری وفود کے سامنے رکھے ہوں گے۔۔۔ میرے خیال میں اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ امریکہ، افغانستان سے جانا نہیں چاہتا کیونکہ اگر پاک افغان جھگڑوں کا خاتمہ ہو جائے تو امریکی ٹروپس کا افغانستان میں ٹھہرنے کا کیا جواز باقی رہے گا؟ پاکستان تو یہ سوال کرتے کرتے تھک گیا ہے کہ ہم نے جس ڈگری پر اپنے علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے، کم از کم اسی ڈگری کے اقدامات کرکے افغانستان کے طول و عرض میں امن کیوں قائم نہیں کیا جا سکتا؟

افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کو امریکی حکام کب تک مزید ٹریننگ دیتے رہیں گے اور جدید ترین امریکی اسلحہ جات سے لیس امریکی سپیشل فورسز کب تک پاک افغان بارڈر کی سروے لینس سے عاجز نظر آتی رہیں گی؟ میں مکرر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں امریکہ اس لئے امن و امان بحال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا کہ اگر ایسا ہو جائے تو امریکی فوج کے قیام کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔

سابق صدر اوباما نے دسمبر 2014ء کی جو حد امریکی فوج کے انخلاء کے لئے مقرر کی تھی تو کیا اب یہ ری پبلکن صدر، اپنے پیشرو ڈیموکریٹک صدر سے 180ڈگری اختلاف رکھتا ہے؟ کیا یہ فیصلہ پارٹی فیصلہ ہے کہ امریکی ٹروپس یہاں افغانستان ہی میں مقیم رہیں؟ اس موضوع کے حق میں اور اس کے خلاف امریکی میڈیا پر بہت سی بحثیں ہوتی رہتی ہیں اور وہاں کے اخبار بھی اپنی اپنی پارٹی کے لئے لابنگ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اصل فیصلہ تو صدر نے کرنا ہوتا ہے۔

ٹرمپ اگر آج چاہیں تو چار برس پہلے والا اوباما کا وعدہ دسمبر 2018ء تک پورا کر سکتے ہیں۔

اسی سوال پر پچھلے دنوں منظر عام پر آنے والی کتاب Spy Chronicles کے 27 ویں باب میں ہمارے ایک سابق آئی ایس آئی چیف جنرل درانی اور انڈیا کی را کے ایک سابق چیف اے ایس دلت کے درمیان بڑی تفصیلی بحث درج ہے۔۔۔۔ اس باب کا عنوان ہے:

Selfish Self-Interests in Afghanistan

یہ باب 8 صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں جنرل درانی نے کھل کر یہ بات ثابت کی ہے کہ امریکہ خود افغانستان سے نہیں نکلنا چاہتا۔ ان کا استدلال ہے کہ جس روز امریکی ٹروپس کابل و قندھار سے نکل گئے تو اگلے روز اشرف غنی اور ’’انڈین سپورٹ فورسز‘‘ کو بھی یہاں سے بستر گول کر جانا پڑے گا۔

دوسرے لفظوں میں امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان پر دہشت گردانہ حملہ ہوتے رہیں اور پاک فوج پر Attrition وارد کی جاتی رہے۔۔۔ ایک اندازے کے مطابق 2001ء سے لے کر اب تک اس افغان وار میں مغربی ممالک کے ٹروپس اور افغانوں کی ہلاکت کی شرح 100:1 ہے۔ یعنی ہلاک ہونے والے ناٹو ٹروپس کی تعداد صرف 2500-3000ہے جبکہ افغان فوجی اور سویلین افراد جو اب تک کے 17برسوں میں ہلاک ہو چکے ہیں ان کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے۔۔۔ معلوم ہوتا ہے کہ کابل کو اپنے ٹروپس کی یہ شرحِ ہلاکت قبول ہے۔ تاہم اس جائزے میں یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ اس مدت میں پاکستانی فوجی اور سویلین شہادتوں/ ہلاکتوں کی تعداد کا تناسب کیا رہا۔!

میں آج قارئین کی توجہ ایک اور پہلو کی طرف بھی دلانا چاہوں گا۔ شوال کی جس چوکی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اور جس میں پاک آرمی کے تین جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، وہ چاند رات تھی اور اگلے روز عیدالفطر تھی۔ شہیدوں کی تصاویر اور نام ٹی وی چینلوں پر آنے لگے۔ لیکن میڈیا نے چاند رات کے استقبال کے لئے میٹھی عید کی جو تیاریاں کی ہوئی تھیں ان کو کڑوا تو نہیں بنایاجا سکتا تھا۔

اس لئے سارے ’’میٹھے‘‘پروگرام دکھائے جاتے رہے۔علاوہ ازیں ایسا کرنا ان میڈیا چینلوں کی کمرشل مجبوری بھی تو تھی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ ان تینوں شہیدوں کی ’’دوسطری‘‘ خبرلگا کر جب 15منٹ کا کمرشل اشتہاروں کا وقفہ آتا تھا تو اس میں اس تمام ہلڑ بازی کے کمرشلز آن ائر کئے جا رہے تھے جن سے چینل مالکان کی جیبیں بھرتی ہیں۔

شہید ہونے والے سینوں پر گولیاں کھاتے ہیں، زندگیاں ہارتے ہیں اور ہمارے جینے کا سامان کرتے ہیں۔ ان کے گھروں میں ان کی شہادت کے اگلے روز عید کے جو مناظر ہوں گے ان کا تصور کیجئے اور پھر دیکھئے کہ ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں۔

کسی VIP کے کسی رشتے دار کو چھینک بھی آجائے تو چینلوں پر پٹیاں چلنے لگتی ہیں۔ لمحہ لمحہ کی خبریں دی جاتی ہیں کہ ان کا بلڈپریشر کتنا ہے، نبض کتنی ہے، دل کتنا دھڑک رہا ہے اور سانس کی رفتار کتنی ہے۔

لیکن قوم کے یہ رکھوالے جو اپنی جانوں پر کھیل کر ہمیں ’’میٹھی عید‘‘ منانے کا موقع دیتے ہیں ان کے پیاروں کے بلڈپریشروں، نبضوں، دلوں اور سانسوں کا کیا حال ہے، کیا کسی چینل پر ان سوالوں کی پٹیاں بھی چلتی ہیں؟۔۔۔ زندگی کتنی سستی ہو گئی ہے؟۔۔۔ کیا اس ارزانی میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟ کیا میڈیا پر تین روز تک عید کی تقریبات مناتے ہوئے کسی چینل نے کوئی پروگرام اس موضوع پر بھی دکھایا ہے؟۔۔۔ کیاہم سب کا ضمیر مر چکا ہے؟ کیا قوم کا اجتماعی ضمیر بھی کہیں دفن ہو چکا ہے۔ اس کفن دفن کا انتظام کس نے کیا ہے؟۔۔۔ ذرا سوچئے!

مزید : رائے /کالم


loading...