انگریز مولوی  کاشکوہ

 انگریز مولوی  کاشکوہ
 انگریز مولوی  کاشکوہ

  


انگریزی مولوی کا بھی وہی گلہ تھا جو ہمارے پاکستانی اور دیسی مولویوں کا ہوتا ہے۔ بے چارے کہیں بھی اور تو کیا کہیں ؟  کینیڈا کے شہر واٹر لو میں چھوٹی بڑی جھیلوں ،گالف کورس  اور  جاگنگ ٹریکس  میں گھرے ہوئے  خوبصورت رم پارک  کے ایرینا  میں  ہزاروں مسلمان نماز عید ادا کر  رہے تھے۔ہر ملک اور نسل کے لوگ کندھے سے کندھا ملائے کھڑے تھے۔عید ملتے ہوئے احساس ہوا کہ  جیسے ہم  سب ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔

کینیڈا   ویسے بھی مختلف  تہذ یبوں سے جڑ کر بنا  ہواایک ایسا  ملک ہے جہاں رنگ و نسل اور مذہب کی تخصیص سب سے بڑا جرم ہے۔اسلام  اور کیا ہے ؟یہی تو ہے۔ گورے کو کالے اور کالے کو گورے ،عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت نہیں ہے۔یہاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام لوگوں کو  اپنی اپنی  مذہبی  آزادی حاصل ہے۔نماز عید کے خطبہ اور انگریزی تقریر میں خطیب کی تقریر کا ایک حصہ وہی تھا جو پاکستان میں نماز عید کے موقع پر مقامی خطیبوں کا  ہوتا ہے۔مولوی صاحب کا گلہ تھا کہ نماز عید کے موقع پر ہزاروں مسلمان موجود ہیں تو یہ ہر نماز اور جمعہ میں کیوں نظر نہیں آتے؟عیسایت کینیڈا کا سب سے بڑا مذہب ہے مگر اس کے  حالات بھی اسی طرح کے ہیں عیسائی پادریوں کو بھی یہی گلہ ہے کہ لوگ چرچز میں عبادت کے لئے بہت کم آتے ہیں ۔

مذہب سے دوری کیوں ہے؟ مگر کینیڈا کے معاشرے اور ہمارے معاشرے کا ایک واضع فرق ہے۔اسلام کے نام پر بنائے گئے ہمارے ملک پاکستان میں  اسلامی تعلیمات پر اتنا  عمل نہیں ہوتا جتنا ہونا چاہئے  مگر کینیڈا جیسے ملک میں ان تمام تعلیمات پر باقاعدہ عمل ہوتا ہے جو اسلام اورہمارے نبی   صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   نے دی ہیں۔اس پر بھی ہمیں سوچنا چاہئے جتنا زور ہم اپنی اپنی محبوب سیاسی جماعتوں کےلئے 

میڈیا ،سوشل میڈیا اور دوسری جگہوں پر لگاتے ہیں ،ہم اتنا زور ان تعلیمات پر عمل کرنے کےلئے کیوں نہیں لگاتے جو اسلام نے ہماری روز مرہ زندگی  کےلئے دی ہیں۔

یہاں لوگ مجھ سے ملتے ہیں تو ان کا پہلا سوال  وطن عزیز کے حالات اور آنے والے عام انتخابات ہی  ہوتے ہیں  ۔لوگ پاکستانی حالات سے خوش نہیں ہیں ،میں انہیں کہتا ہوں کہ  حالات پہلے سے بہتر ہیں اور جوں جوں تعلیم کا معیار پاکستان میں بہتر ہوگا توں توں ہمارے  سماجی اور سیاسی حالات بھی بہتر ہوں گے۔ ہم سب کو مل جل کر ملک میں تعلیم کو عام اور بہتر کرنے کےلئے زور لگانا ہو گا۔نہ صرف سکول ایجوکیشن بلکہ ہائر ایجوکیشن کو  ملکی اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا مگر ہم تو آج تک  ملک کے ہر بچے کو سکول لانے میں ہی کامیاب نہیں ہو سکے۔ تعلیم حاصل کرنے پر ہمارے مذہب نے بھی بہت زور دیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ تعلیم حاصل کرو چاہے تمیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔     

تعلیم کا حصول جدید دنیا میں جتنا اہم ہے ،  اچھی تعلیم کا حصول  اس سے بھی مشکل  اور اس وقت  ایک چیلنج بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں ہر طالبعلم کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے کے اعلیٰ تعلیمی ادارے کی بجائے دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بہت سے ہونہار طلباء اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک  ٹاپ یونیورسٹیوں  کا رخ کرتے ہیں ۔واٹرلو بھی ایک ایجوکیشنل سٹی ہے اور یہاں پاکستان سمیت پوری دنیا سے ہزاروں سٹوڈنٹس ہر سال حصول علم کےلئے آتے ہیں۔مجھے خوشی ہوئی کہ یہاں کا مولوی پڑھا لکھا تھا انگریزی میں تقریر کر رہا تھا اور اعلیٰ تعلیم کےلئے زور دے رہا تھا  وہ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ ہم اپنے بچوں کو دین اور دنیا دونوں کی اعلیٰ تعلیم کیوں نہیں دلواتے؟  مجھے اس کا یہ گلہ اچھا لگا ۔   بعد میں پتہ چلا کہ  یہ مولوی واٹرلو یونیورسٹی میں پڑھتا ہے اور وہ پیشہ ور مولوی نہیں ہے۔کاش پا کستان میں بھی ایسا ہی ہو۔۔۔ 

 ۔۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...