جنوبی پنجاب میں عید الفطر، ناقص اشیاء خوردنی، مہنگائی، عوام لٹ گئے

جنوبی پنجاب میں عید الفطر، ناقص اشیاء خوردنی، مہنگائی، عوام لٹ گئے

ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی عیدالفطر مذہبی جوش و خروش سے منائی گئی شدید گرمی اور مہنگائی کے باوجود عوام نے روایت برقرار رکھی اور کھلے میدانوں ، مساجد اور عید گاہوں میں جوق در جوق نماز عید کی ادائیگی کے لئے آئے اور فرض کی ادائیگی سر انجام دی، عید سے چند روز قبل پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا جو طوفان آیا اس کو بھی نہ صرف برداشت کیا بلکہ ماضی کی طرح خاموشی ہی اختیار رکھی روایت تو تاجروں نے بھی برقرار رکھی جنہوں نے چاند رات اور پھر عید، ٹرو اور مرو کو عید کی خوشیاں سمیٹنے کے لئے گھروں سے باہر نکلنے والوں کو دونوں ہاتھوں سے نہ صرف لوٹا بلکہ غیر معیاری اشیاء بھی تھونپ دیں اس پر کوئی سرکاری ادارہ نوٹس لینے کو بھی تیار نہیں ہے خصوصاً خوردو نوش کی اشیاء نہ صرف غیر معیاری بلکہ باسی بھی کھلے عام زیادہ قیمتوں پربکتی رہیں جس کی وجہ سے متعدد افراد ہسپتال بھی جا پہنچے، ٹریفک کے اژدھام کو روکنے یا کنٹرول کرنے کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام دیکھنے میں نہیں آیا۔ جس کے باعث بڑی تعداد میں حادثات رونما ہوئے اور زخمی ہسپتالوں میں جا پہنچے، پنجاب فوڈ اتھارٹی سے توقع تھی کہ وہ عید کے موقع پر کوئی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے گی لیکن محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی باقی اداروں کی طرح سمجھوتہ کر لیا ہے ورنہ اس ادارے کو عوام میں متعارف کرانے والی اس کی سابق سربراہ عائشہ ممتاز نے جس طرح سے پیور فوڈ قوانین پر عمل درآمد کروانا شروع کیا تھا اس سے تو پنج ستارہ ہوٹلوں کی بھی چیخیں نکل گئی تھیں حالانکہ اس خاتون نے کوئی بھی قانون اپنی طرف سے متعارف نہیں کروایا تھا بلکہ موجودہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اب وہ قصہ پارینہ بن چکیں اور اس وقت اس ادارے کے سربراہ نور الامین مہنگل نے لمبی خاموشی اختیار کر رکھی ہے البتہ میڈیا کی حد تک ان سے دھمکی آمیز بیان آتے رہتے ہیں لیکن عملی طور پر حالات دوبارہ جوں کے توں ہو چکے ہیں اب عوام کو انتظار کرنا ہو گا کہ کوئی اور عائشہ ممتاز جیسا آئے اور موجودہ قوانین پر عمل درآمد کروا دے یہ کب ہو گا اس کے بارے میں کہنا مشکل ہے۔

اس وقت ملک بھر میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کا بخار تیز ہو رہا ہے اور حکومتیں نگرانوں کے سپرد کر دی گئی ہیں جو نگران کی بجائے کچھ اور کھیل، کھیل رہے ہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ان کے مینڈیٹ میں شامل نہیں تھا کوئی پالیسی تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے لیکن وہ کر گزرے ہیں آخر عوام کو ’’ریلیف‘‘ بھی تو دینا تھا ادھر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ پروفیسر حسن عسکری نے چھ جمع چار یعنی دس نگران وزیر بنا دئیے ہیں اور انہیں محکمے بھی الاٹ کر دئیے ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی نگران سیٹ اپ میں جنوبی پنجاب سے کوئی وزیر نہیں لیا گیا لگتا ہے کہ پروفیسر حسن عسکری، میاں شہباز شریف کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی ’’آرزو‘‘ رکھتے ہیں کیونکہ انہیں بھی جنوبی پنجاب سے ووٹ لینے کا تو بہت شوق ہے لیکن یہاں وزارتیں دیتے ہوئے ان کے ہاتھ کانپنا شروع ہو جاتے تھے اب ملک کی 70 فیصد آبادی والے صوبے پنجاب اور اس کے بڑے حصے جنوبی پنجاب سے نگران وزیر نہ لینا کیا ظاہر کرتا ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا ۔ مسلم لیگ ن کے لئے تو یہ فیصلہ تقریباً ہو بھی چکا ہے کہ انہوں نے جس طرح اس خطے کو سیاسی اور معاشی طور پر نظر انداز کیا اب وہ خود یہاں سے نظر انداز ہو رہے ہیں اور اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ ان کے تمام جیتنے والے گھوڑے کہیں اور جا چکے ہیں یہ الگ بات ہے ان کا مستقبل کیا ہو گا لیکن سر دست تو انہوں نے ن لیگی پالیسیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے احتجاج تو مخدوم جاوید ہاشمی بھی کروائیں گے کیونکہ پارٹی نے انہیں دو حلقوں سے اپنے کاغذات جمع کروانے کے لئے گرین سگنل دیا جب وہ کاغذات جمع کروا چکے اور پارٹی پالیسی کو اپنانے کی بات کی سیاسی رابطے شروع کر دئیے تو اس دوران ’’ادھر‘‘ سے خاموشی اختیار کر لی گئی حالانکہ مخدوم جاوید ہاشمی پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وہ 2018 کے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے مگر کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ انہیں میاں نواز شریف نے این اے 158 اور 155 سے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کہا تو وہ انکار نہ کر سکے لیکن میاں نواز شریف کے لندن روانہ ہونے کے بعد اس میں تبدیلی کر دی گئی تبدیلی تو سینیٹر رانا محمود الحسن کے بھائی رانا شاہد الحسن کے ٹکٹ میں بھی کر دی گئی اور این اے 156 کا ٹکٹ ان سے لے کر عامر سعید انصاری کو دے دیا گیا اب اس حلقے کی راجپوت برادری بھی خاصی بد دل اور خفا لگ رہی ہے اس طرح این اے 155 کا بھی فیصلہ ہونا باقی ہے ۔

تحریک انصاف نے اپنے امیدواروں کا نہ صرف اعلان کر دیا ہے بلکہ اس میں تبدیلی بھی نہیں کی گئی جس کا انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہو رہا ہے، البتہ حاجی سکندر بوسن کے حلقے میں ابھی تک رسہ کشی جاری ہے جہاں مخدوم شاہ محمود قریشی احمد حسین ڈیہڑ کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں لیکن حاجی سکندر حیات بوسن کے ’’سرپرست‘‘ انہیں ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں اب اس کا فیصلہ کب اور کیسے ہو گا یہ تو وقت آنے پر ہی معلوم ہوگا کیونکہ حاجی سکندر حیات بوسن نے اپنے کاغذات آزاد حیثیت سے جمع کروائے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کو خیر باد کہہ چکے ہیں اب ان کی دال کہاں گلے گی اس کا فیصلہ چند روز میں متوقع ہے کیونکہ ان کے حلقے میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سید عبدالقادر گیلانی بھی امیدوار ہیں نہ صرف یہ بلکہ سید یوسف رضا گیلانی کے تین بیٹے اس وقت مختلف سیٹوں پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ میئر کی سیٹوں پران کے پاس پائے کا کوئی امیدوار نہیں ہے امیدوار تو باقی جنوبی پنجاب میں بھی نہیں ہے حالانکہ آصف علی زرداری خود اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں بلاول ہاؤس ملتان کی تعمیر بھی اس سلسلے کی کڑی تھی لیکن سیاست کی بے رحمی کا کیا کیا جائے کہ جس طرح کی ہوا چلتی ہے لوگ ادھر کا ہی رخ کر لیتے ہیں جس کے بارے میں مخدوم شاہ محمود قریشی نے شائد درست کہا ہے کہ آصف علی زرداری اس مرتبہ ہوا میں حکومت بنائیں گے کیونکہ پرانے دن بیت چکے پنجاب میں تو پیپلز پارٹی کا صفایا ہو چکا اب سندھ میں بھی تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے اب پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر فوج ہو گی اس لئے دھاندلی اور بیلٹ بکس نہیں اٹھائے جا سکیں گے سندھ کے علاقے عمر کوٹ میں ایک جلسے میں انہوں نے گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس اور تحریک انصاف کے انتخابی اتحاد کو پیپلز پارٹی کے لئے سیاسی موت قرار دیا اور سندھ میں بھی آئندہ حکومت بنانے کی نوید سنائی ویسے یہ نوید تو پیپلز پارٹی کے دو بڑے آصف علی زرداری اور سید یوسف رضا گیلانی بھی سناتے پھر رہے ہیں کہ آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی مگر کیسے اس پر وہ کہتے ہیں کہ جس طرح سینٹ کے انتخابات میں ہم نے کم بیک کیا اسی طرح عام انتخابات میں بھی کریں گے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم بیک کرنے کے لئے پہلے تو انتخابات میں حصہ لینے کے لئے امیدواروں کا ہونا ضروری ہے جو کم از کم پنجاب میں تو نہیں ہیں خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں بھی ان کے لئے مسئلہ ہے تو پھر حکومت کیسے بنے گی یا عالم غائب سے کوئی مدد حاصل ہو گی اس کے لئے انتخابات کے نتائج کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ ان دو بڑوں کی باتیں کس حد تک درست ہیں۔ ادھر امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال میں انتہائی دلچسپ معلومات سامنے آرہی ہیں خاص طور پر اخراجات اور نیشنیلٹی کے حوالے سے ایسے ایسے رہنماؤں کے بارے میں آگاہی آرہی ہے کہ وہ کس کس ممالک کی شہریت لیئے ہوئے ہیں خصوصاً تعلیم کے حوالے سے بھی جھوٹ در جھوٹ لکھا گیا ہے ن لیگ کے ایک امیدوار ملک عبدالغفار ڈوگر نے محض 25 ہزار روپے میں حج کر لیا۔ کیا بات ہے ان کی، ایسے ایسے جھوٹ اور دھوکے کہ الایمان، اب یہی لوگ منتخب ہوں گے اور اسمبلیوں میں جھوٹ پر جھوٹ ہی بولیں گے بنیاد جو غلط رکھی گئی ہے چاہیے تو یہ تھا کہ الیکشن کمیشن اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے ایسے امیدواروں کو مستقل نا اہل قرار دے دیتا مگر شاید یہ کبھی بھی نہ ہو کیونکہ سسٹم کو چلانے کے لئے ’’سب‘‘ کو ایسے لوگ ہی وارے آتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...