مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ، بھارتی ریاستی دہشتگردی جاری ، مزید 3نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ، بھارتی ریاستی دہشتگردی جاری ، مزید 3نوجوان ...

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد جمہوریت کا ڈرامہ فلاپ ہو گیا، کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے استعفے کے بعد عمر عبداللہ نے اکثریت کی حمایت نہ ہونے کے باعث حکومت سا ز ی سے معذرت کر لی، وادی میں گورنر راج نافذ کردیا گیا، اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں و کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) سے تین سالہ سیاسی اتحاد ختم کردیا تھا جس کے بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی مستعفی ہوگئی تھیں۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی کے رہنما رام مادیو نے ا تحا د کے اختتام کے حوالے سے کہا تھا ’بی جے پی کیلئے اب یہ ممکن نہیں رہا وہ جموں و کشمیر میں اپنے اتحاد کو قائم رکھ سکے۔ان کا کہنا تھا موجودہ سکیو ر ٹی صورتحال اور اس میں درپیش رکاوٹوں کے پیش نظر ہمارا ماننا ہے گورنر راج بہت ضرروی ہے۔دہلی میں بی جے پی کے صدر امیت شاہ کیسا تھ ہونیوالی ایک گھنٹے طویل ملاقات کے بعد بی جے پی کے 11 وزراء مستعفی ہوگئے۔دونوں جماعتوں نے الیکشن کے بعد 2015 میں اتحا د ی حکومت قائم کی تھی تاہم ان دونوں جماعتوں کے درمیان متعدد معاملات پر نظریاتی اختلافات قائم رہے۔اس اتحاد کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب امسال اپریل میں جموں و کشمیر میں ایک 8 سالہ مسلمان بچی کو کئی روز تک گینگ ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا ۔ بعد ازاں اس واقعے کیخلاف ہونیوالے احتجاج کے دو ر ان بی جے پی کے 2 ورزا کی جانب سے واقعے کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انو یسٹی گیشن (سی بی آئی) کے سپرد کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑ ے ۔بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار محبوبہ مفتی کی حکومت کو قرار دیااور پریس کانفرنس میں پی ڈی پی پر الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی حکومت انتخابی وعدے پورے نہیں کر سکی اور امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔بی جے پی رہنما رام مادھیو کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی اور تشدد بڑھنے کی وجہ سے شہریوں کے حقوق اور آزادی اظہار رائے خطرے میں ہے جس کی مثال سر ینگر میں سینئر صحافی شجاعت بخاری کا قتل ہے۔محبوبہ مفتی کے مستعفی ہونے سے قبل بی جے پی کا اجلاس ہوا جس میں مر کز ی پارٹی رہنماؤں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی اتحادی حکومت میں شامل بی جے پی کے وزراء اور سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پارٹی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے اتحاد کو ختم کرنے اور اتحادی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا۔بعد ازاں ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی جانب سے اتحاد کے اختتام کے اعلان کے حوالے سے کہا ’مجھے حیرانی نہیں ہوئی، ہم نے اتحاد، حکو مت میں آنے کیلئے نہیں کیا تھا، اس اتحاد کا ایک بڑا مقصد تھا، جس میں جنگ بندی، وزیراعظم کا پاکستان کا دورہ اور نوجوانوں کیخلاف قائم 11 ہزار مقدمات سے دستبردار ہونا شامل تھا۔واضح رہے 17 سال میں پہلی مرتبہ جموں و کشمیر میں رمضان المبارک میں آپریشن نہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔خیال رہے فروری 2018 میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے اتحادیوں کے برعکس موقف اپناتے ہوئے پاکستان اور بھا ر ت کے درمیان کشمیر کے معاملے پر دوطرفہ مذاکرات پر زور دیدیا تھا۔واضح رہے مقبوضہ کشمیر میں اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کے در میان دوری رمضان میں کی گئی نام نہاد فائر بندی کے خاتمے پر پیدا ہوئی ،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے جنگ بندی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بی جے پی نے بھارتی فوج کو سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔یہ بھی یاد رہیبھارتی فورسز کی جانب سے گزشتہ تین سالوں کے دوران ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سینکڑوں کشمیریوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی اور معزور کیا جا چکا ہے۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے بھی مقبوضہ کشمیر بھی بھارتی جارحیت کا اعتراف کر چکے ہیں۔

گورنر راج

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید 3 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں سرچ آپریشن کی آڑ میں فائرنگ کر کے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا۔کے ایم ایس کے مطابق قابض بھارتی افواج نے ضلع پلوامہ میں ایک گھر بھی تباہ کر دیا۔کشمیری عوام کی جانب سے بھارتی جارحیت کیخلاف شدید احتجاج بھی کیا گیا جبکہ بھارتی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس شیلنگ بھی کی گئی۔بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا ایک اور انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔بزدل بھا رتی فوجیوں نے پتھراؤ سے بچنے کیلئے 4 کشمیری نوجوانوں کو اپنی گاڑیوں کے سامنے بٹھا لیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ایک نئی ویڈیو میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کس طرح مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں سے ڈر کر نوجوان کشمیریوں کو اپنی گاڑیوں کے آگے انسانی ڈھال بنا رکھا ہے۔بھارتی فوج پوٹا کے کالے قانون کے تحت غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزیاں کرتی ہے اور ڈھٹائی سے کشمیری نوجوانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔رواں برس اپریل میں بھی ایک ایسی ہی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں بھارتی فوج کے میجر گوگوئی نے چند مظاہرین کے خوف سے ایک کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ رکھا تھا۔بعدازاں بھارتی حکومت کی جانب سے میں اْس میجر کو فوجی اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔بی جے پی کی اْسی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارتی فوج نے کشمیری نوجواں کو ڈھال کو جیسے پالیسی ہی بنا لیا ہے۔دوسری جانب کلگام میں گزشتہ روز شہید ہونیوالے نوجوانوں کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ شہداء کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور بھارت مخالف نعرے بازی کی، حریت رہنماؤں نے کل جمعرات کو وادی بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...